کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
حدیث نمبر: 12696
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ كَانَ جِذْعُ نَخْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ يُسْنِدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ إِلَيْهِ، إِذَا كَانَ يَوْمُ جُمُعَةٍ، أَوْ حَدَثَ أَمْرٌ يُرِيدُ أَنْ يُكَلِّمَ النَّاسَ، فَقَالُوا: أَلَا نَجْعَلُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! شَيْئًا كَقَدْرِ قِيَامِكَ؟ قَالَ: ”لَا عَلَيْكُمْ أَنْ تَفْعَلُوا.“ فَصَنَعُوا لَهُ مِنْبَرًا ثَلَاثَ مَرَاقٍ. قَالَ: فَجَلَسَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَخَارَ الْجِذْعُ كَمَا تَخُورُ الْبَقَرَةُ جَزَعًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَزَمَهُ وَمَسَحَهُ حَتَّى سَكَنَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی میں کھجور کا ایک تنا تھا، جمعہ کے دن یا کسی خاص موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے مخاطب ہونا چاہتے تو اپنی پشت اس کے ساتھ لگا کر کھڑے ہوجاتے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کھڑے ہونے کے لیے بلند چیز نہ بنادیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، ، اس میں کوئی حرج نہیں۔ تو انہوں نے تین سیڑھیوں ولاا ایک منبر تیار کر دیا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لیے اس پر کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی پر غمگین ہو کر وہ تنا اس طرح بلند آواز سے جزع فزع کرنے لگا، جیسے گائے جزع فزع کرتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جا کر اسے سینہ سے لگایا اور اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔
حدیث نمبر: 12697
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمِنْبَرِ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ؟ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَعْرِفُ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ؟ وَأَعْرِفُ مَنْ عَمِلَهُ؟ وَأَيُّ يَوْمٍ صُنِعَ؟ وَأَيُّ يَوْمٍ وُضِعَ؟ وَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ، أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ لَهَا غُلَامٌ نَجَّارٌ، فَقَالَ لَهَا: ”مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا، أَجْلِسُ عَلَيْهَا إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ.“ فَأَمَرَتْهُ فَذَهَبَ إِلَى الْغَابَةِ فَقَطَعَ طَرْفَاءَ فَعَمِلَ الْمِنْبَرَ ثَلَاثَ دَرَجَاتٍ، فَأَرْسَلَتْ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوُضِعَ فِي مَوْضِعِهِ هَذَا الَّذِي تَرَوْنَ فَجَلَسَ عَلَيْهِ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ فَكَبَّرَ هُوَ عَلَيْهِ، ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، ثُمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي.“ فَقِيلَ لِسَهْلٍ: هَلْ كَانَ مِنْ شَأْنِ الْجِذْعِ مَا يَقُولُ النَّاسُ، قَالَ: قَدْ كَانَ مِنْهُ الَّذِي كَانَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منبر کس چیز سے بنا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا بنا ہوا ہے؟ اسے کس نے کب بنایا ہے اور کس دن لا کر اسے رکھا گیا؟ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہلے دن اس پر تشریف رکھتے دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خاتون کو پیغام بھیجا تھا، جس کا غلام بڑھئی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم اپنے غلام بڑھئی سے کہو کہ وہ لوگوں سے میرے مخاطب ہوتے وقت بلند جگہ بیٹھنے کے لیے لکڑی کی کوئی چیز تیار کردے۔ اس خاتون نے اس غلام کو اس کا حکم دیا، تو وہ جنگل میں گیا اور وہاں سے جھاؤ کی لکڑی کاٹ کر لایا اور اس نے تین سیڑھیوں پر مشتمل ایک منبر تیار کر دیا، چنانچہ اس خاتون نے وہ منبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھجوادیا، چنانچہ اسے اس کی اسی جگہ پر رکھا گیا، جہاں تم اسے اب دیکھ رہے ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے دن اس منبرپر بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی پر اللہ اکبر کہا اور رکوع کیا اس کے بعد الٹے پاؤں نیچے اتر کر زمین پر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر منبر پر چلے گئے، تاآنکہ نماز سے فارغ ہوئے، نما ز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میں نے عمداً یہ کام کیا ہے، تاکہ تم میری اقتدا کرسکو اور میری نماز کا طریقہ سیکھ لو۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: اس تنے کا کوئی ایسا واقعہ بھی پیش آیا تھا جو لوگ بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ایسا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 12698
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ مِنْ أَثَلِ الْغَابَةِ، يَعْنِي مِنْبَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: منبر نبوی جھاؤ کی لکڑی کا تھا۔