حدیث نمبر: 12686
عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَبْنِيًّا بِاللَّبِنِ، وَسَقْفُهُ الْجَرِيدُ، وَعُمُدُهُ خَشَبُ النَّخْلِ، فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَيْئًا، وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبَنَاهُ عَلَى بِنَائِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ، وَأَعَادَ عُمُدَهُ خَشَبًا، ثُمَّ غَيَّرَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَثِيرَةً، وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الْمَنْقُوشَةِ وَالْقَصَّةِ، وَجَعَلَ عُمُدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ، وَسَقْفَهُ بِالسَّاجِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں مسجد نبوی اینٹوں سے تعمیر ہوئی تھی اور اس کی چھت کھجور کی شاخوں کی اور اس کے ستون کھجور کے تنوں کے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں اس میں کوئی اضافہ نہ کیا، البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے نئے سرے سے تعمیر کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ والی بنیادوں پر ہی اسکی بنیادیں اٹھائیں اور انہوں نے اسے اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے تعمیر کیا اور اس کے ستون لکڑی کے بنائے، بعد ازاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے تعمیر کیا اور اس میں بہت زیادہ توسیع بھی کی، انہوں نے اس کی دیوار وں کو منقش پتھروں سے چونا گچ کیا اور اس کے ستون منقش پتھروں سے اور چھت ساگواں کی لکڑی سے بنائی۔
حدیث نمبر: 12687
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَادَ فِي الْمَسْجِدِ مِنَ الْأُسْطُوَانَةِ إِلَى الْمَقْصُورَةِ، وَزَادَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”نَبْغِي نَزِيدُ فِي مَسْجِدِنَا“ مَا زِدْتُ فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں معروف ستون سے مقصورہ (پتھر) تک اضافہ کیا تھا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اضافہ کیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ ہم اپنی اس مسجد میں توسیع کرنا چاہتے ہیں تو میں اس میں توسیع نہ کرتا۔
وضاحت:
فوائد: … جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد ِ نبوی کی تعمیرِ نو کی تو فتوحات اور مال غنیمت کی کثرت کے باوجود انھوں نے سادگی کو برقرار رکھا، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنیاد رکھی تھی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں مسجد میں جو زینت اختیار کی ممکن ہے کہ وہ غلو اور ممنوعہ سجاوٹ سے کم ہو، بہرحال بعض صحابہ نے اس معاملے میں ان پر انکار بھی کیا تھا۔ مساجد کو مزین کرنے والا سب سے پہلا شخص ولید بن عبد الملک تھا، یہ صحابہ کا آخری زمانہ تھااور اکثر اہل علم فتنے کے خوف کی وجہ سے خاموش رہے۔