حدیث نمبر: 12683
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”ثَامِنُونِي بِهِ“، فَقَالُوا: لَا نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْنِيهِ وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ وَهُوَ يَقُولُ: ”أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةْ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةْ“، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی والی جگہ بنو نجار کی ملکیت تھی ، اس میں کھجور کے درخت اور مشرکین کی قبریں تھیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم مجھ سے اس پلاٹ کی قیمت طے کرو ۔ انہوں نے کہا : ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس کی تعمیر کر رہے تھے اور وہ لوگ تعمیر کے سلسلہ میں چیزیں اٹھا اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت یہ اشعار پڑ رہے تھے : أَلا إِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْأخِرَہْ ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُھَاجِرَہ ۔ (خبردار ! اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے ، اے اللہ ! تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے ۔) مسجد نبوی کی تعمیر سے قبل جہاں نماز کا وقت ہو جاتا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں نماز ادا کر لیا کرتے تھے ۔
وضاحت:
فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہو چکے تو اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا قدم یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد ِ نبوی کی تعمیر شروع کی اور اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ جگہ خریدی، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی بیٹھی تھی، یہ دو یتیم بچوں کی زمین تھی، تقریباً سو ہاتھ لمبی اور سو ہاتھ چوڑی تھی، اس میں مشرکین کی کچھ قبریں تھیں، کچھ ویرانہ تھا اور کھجور کے اور غرقد کے چند درخت بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبریں اکھڑوا دیں، ویرانہ ختم کرا دیا، درخت اور کھجوریں کٹوا دیں اور انھیں قبلے کی جانب لگوا دیا، دیواریں مٹی اور کچی اینٹوں سے اٹھوائیں، دروازے کے دونوں بازو پتھر کے لگائے گئے، چھت کھجور کی شاخون کی اور شہتیر کھجور کے تنوں کے، فرش پر ریت اور کنکریاں بچھائی گئیں، مسجد میں تین دروازے رکھے گئے، قبلہ شمال میں بیت المقدس کی طرف تھا، بعد میں کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 12684
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَجَعَلْنَا نَنْقُلُ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ فَتَتَرَّبُ رَأْسُهُ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي أَصْحَابِي وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَعَلَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ: ”وَيْحَكَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مسجد تعمیر کرنے کا حکم فرمایا، ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لا رہے تھے، جبکہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے، اس وجہ سے ان کا سر غبار آلود ہوگیا، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنا، البتہ میرے ساتھیوں نے مجھے بتلایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے سر سے مٹی جھاڑ رہے تھے اور ساتھ ساتھ فرما رہے تھے: سمیہ کے بیٹے! اللہ تجھ پر رحم کرے، ایک باغی گروہ تجھے قتل کر ے گا۔
حدیث نمبر: 12685
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَحْمِلُونَ اللَّبِنَ لِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَارِضٌ لَبِنَةً عَلَى بَطْنِهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا قَدْ شَقَّتْ عَلَيْهِ، قُلْتُ: نَاوِلْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ”خُذْ غَيْرَهَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! فَإِنَّهُ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین مسجد ِ نبوی کی تعمیر کے سلسلہ میں اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے ہمراہ تھے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بڑی اینٹ اپنے پیٹ پرلگا کر اٹھائے آرہے تھے، میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس کاا ٹھانا مشکل ہور ہاہے، اس لیے میں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ یہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ہریرہ! تم اور اٹھا لاؤ، اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث معنی اور متن کے اعتبار سے بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد ِ نبوی کی تعمیر کے وقت موجود ہوں، کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ۷ہجری میں مدینہ منورہ تشریف لائے، جبکہ ۱ ہجری میں مسجد ِ نبوی کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی۔