کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
حدیث نمبر: 12672
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ دَخَلَ مَسْجِدَنَا هَذَا لِيَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ لِيُعَلِّمَهُ، كَانَ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ دَخَلَهُ لِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَالنَّاظِرِ إِلَى مَا لَيْسَ لَهُ“، وَفِي لَفْظٍ: ”وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ہماری اس مسجد میں بھلائی سیکھنے یا سکھانے کے لیے آئے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے اورجو آدمی اس مقصد کے علاوہ کسی دوسری غرض سے آئے گا تو وہ گویا ایسی چیز کو دیکھ رہا ہے جو اس کی نہیں۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: اور جو آدمی کسی دوسری غرض سے آئے گا، وہ اس آدمی کی طرح ہے، جو دوسرے کے سامان کی طرف دیکھ رہا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12672
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «حديث ضعيف، واختلف علي سعيد المقبري في اسناده، اخرجه مالك في المؤطا : 1/ 160 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8587»
حدیث نمبر: 12673
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ادا کی ہوئی ایک نماز عام مساجد کی ہزار نمازوں سے افضل ہے، ما سوائے مسجد حرام کے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12673
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه ابويعلي: 774، والبزار: 426 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1605 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1605»
حدیث نمبر: 12674
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَهُوَ أَفْضَلُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں اد ا کی ہوئی ایک نمازعام مسجد میں ادا کی ہوئی ہزار نمازوں سے بہتر ہے، ما سوائے مسجد حرام کے، وہاں کی نماز اس نماز سے افضل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12674
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1395، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4838»
حدیث نمبر: 12675
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز دیگر مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے، ما سوائے مسجد حرام کے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12675
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1394 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9153 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9142»
حدیث نمبر: 12676
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً اشْتَكَتْ شَكْوَى، فَقَالَتْ: لَئِنْ شَفَانِي اللَّهُ لَأَخْرُجَنَّ فَلَأُصَلِّيَنَّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَبَرِئَتْ فَتَجَهَّزَتْ تُرِيدُ الْخُرُوجَ، فَجَاءَتْ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُسَلِّمُ عَلَيْهَا، فَأَخْبَرَتْهَا ذَلِكَ، فَقَالَتْ: اجْلِسِي فَكُلِي مَا صَنَعْتِ وَصَلِّي فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”صَلَاةٌ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابراہیم بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک عورت بیمار پڑگئی اور اس نے کہا: اگر اللہ نے مجھے شفا دی تو میں بیت المقدس میں جاکر نماز پڑھوں گی، وہ تندرست ہوگئی اور اس نے جانے کی تیار ی کی اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئی، انہیں سلام کہا اور اپنے ارادہ سے ان کو مطلع کیا، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹھو اور جو کچھ میں نے تیار کیا، وہ کھاؤ اور مسجد نبوی میں ہی نماز پڑھ لو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز دیگر مساجد کی ہزار نمازوں سے افضل ہے، ما سوائے کعبہ کی مسجد کے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12676
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه مسلم: 1396 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27363»
حدیث نمبر: 12677
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَقَالَ لَهُ: ”أَيْنَ تُرِيدُ؟“، قَالَ: أُرِيدُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”صَلَاةٌ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کو الوادع کرنے لگے تو اس سے پوچھا: اچھا یہ تو بتاؤ کہ تمہارا ارادہ کہاں کا ہے؟ اس نے کہا: بیت المقدس جانے کا ارادہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میری اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز دیگر مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے، ما سوائے مسجد حرام کے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12677
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن حبان: 1624، والبزار: 429 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11756»
حدیث نمبر: 12678
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا يَفُوتُهُ صَلَاةٌ، كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ، وَنَجَاةٌ مِنَ الْعَذَابِ، وَبَرِئَ مِنَ النِّفَاقِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری مسجد میں چالیس نمازیں اس طرح باجماعت ادا کیں کہ کوئی نماز فوت نہ ہوئی تو اس کے لیے جہنم سے آزادی، عذاب سے نجات اور نفاق سے بری ہونے کا پروانہ لکھ دیاجاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12678
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة نبيط بن عمر، اخرجه الطبراني في الاوسط : 5440 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12611»