حدیث نمبر: 12665
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَتَعَجَّلَتْ رِجَالٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِتْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهُمْ فَقِيلَ: تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: ”تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَالنِّسَاءِ، أَمَا إِنَّهُمْ سَيَدَعُونَهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ“، ثُمَّ قَالَ: ”لَيْتَ شِعْرِي مَتَى تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوِرَاقِ تُضِيءُ مِنْهَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بُرُوكًا بِبُصْرَى كَضَوْءِ النَّهَارِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سفر سے واپس ہوئے اور ہم ذوالحلیفہ میں ٹھہرے، کچھ لوگ تو مدینہ منورہ کی طرف جلدی چلے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات وہیں بسر کی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی رات گزاری، صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان حضرات کے متعلق پوچھا کہ وہ کہاں ہیں؟ بتلایا گیا کہ وہ تو مدینہ کی طرف جلدی چلے گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مدینہ کی طرف اور اپنی بیویوں کی طرف جلدی چلے گئے، خبردار! عنقریب ایک دور آئے گا کہ مدینہ کی اچھی بھلی حالت ہونے کے باوجود یہ مدینہ کو چھوڑ جائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاش کہ مجھے علم ہو کہ یمن کے جبل وارق سے کب وہ آگ نمودار ہوگی، جس سے بصریٰ میں بیٹھے ہوئے اونٹوں کی گردنیں یوں چمکیں گی، جیسے دن میں چمکتی ہیں۔
حدیث نمبر: 12666
عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَجَاءٌ: أَقْبَلْتُ مَعَ مِحْجَنٍ ذَاتَ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا انْتَهَيْنَا إِلَى مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ، فَوَجَدْنَا بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ جَالِسًا، قَالَ: وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: سُكْبَةُ يُطِيلُ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَيْهِ بُرَيْدَةُ، قَالَ: وَكَانَ بُرَيْدَةُ صَاحِبَ مُزَاحَاتٍ، قَالَ: يَا مِحْجَنُ! أَلَا تُصَلِّي كَمَا يُصَلِّي سُكْبَةُ؟ قَالَ: فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ مِحْجَنٌ شَيْئًا وَرَجَعَ، قَالَ: وَقَالَ لِي مِحْجَنٌ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ يَمْشِي حَتَّى صَعِدَ أُحُدًا، فَأَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: ”وَيْلُ أُمِّهَا مِنْ قَرْيَةٍ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا كَأَعْمَرِ مَا تَكُونُ، يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ، فَيَجِدُ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهَا مَلَكًا مُصْلِتًا، فَلَا يَدْخُلُهَا“، قَالَ: ثُمَّ انْحَدَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، وَيَسْجُدُ وَيَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَيَرْكَعُ، قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ هَذَا؟“، قَالَ: فَأَخَذْتُ أُطْرِيهِ لَهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذَا فُلَانٌ وَهَذَا وَهَذَا، قَالَ: ”اسْكُتْ لَا تُسْمِعْهُ فَتُهْلِكَهُ“، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ حُجْرَةٍ لَكِنَّهُ رَفَضَ يَدِي ثُمَّ قَالَ: ”إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ، إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ، إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محجن بن ادرع سے مروی ہے کہ رجاء کہتے ہیں: میں ایک روز محجن کے ہمراہ آیا اور ہم بصرہ کی مسجد میں جاپہنچے، مسجد کے ایک دروزے پر ہم نے بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو بیٹھے ہوئے پایا، مسجد میں سکبہ نامی ایک شخص تھا، وہ کافی طویل نماز پڑھتا تھا، جب ہم مسجد کے دروازے پر واپس آئے تو سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ وہیں موجود تھے، وہ بڑے صاحب مزاح تھے، کہنے لگے: ارے محجن! کیا تم اس طرح نماز نہیں پڑھتے، جیسے سکبہ پڑھتا ہے؟ تو محجن نے کوئی جواب نہ دیا اور واپس آگئے، رجاء کہتے ہیں: محجن نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے، یہاں تک کہ احد کے اوپر چلے گئے، آپ نے مدینہ کی طرف جھانک کر فرمایا: افسوس ہے اس بستی پر کہ جب یہ خوب آباد ہوگی، یہاں کے باشندے اسے چھوڑ دیں گے یعنی یہاں سے نقل مکانی کر جائیں گے۔ (ایک روایت ہے محجن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے نبی! تب یہاں کے پھل وغیرہ کون کھائے گا؟ آپ نے فرمایا: پرندے اور درندے) دجال اس بستی کی طرف آئے گا تو وہ اس کے ہر دروازے پر تلوار سونتے ہوئے فرشتے کو دیکھے گا اور اس میں داخل نہ ہو سکے گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے کو اترے، جب ہم مسجد کے دروازے پر پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا بس وہ رکوع و سجود ہی کیے جا رہا تھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے بعد اسے غور سے دیکھنا شروع کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ فلاں آدمی ہے، یہ فلاں ہے اور یہ فلاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خاموش رہو، یہ الفاظ اسے سنا کر تم اسے ہلاکت میں ڈال دو گے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے، یہاں تک کہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اورفرمایا: تمہارا بہترین دین وہ ہے، جو سب سے آسان ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے، جس میں سب سے زیادہ آسانی ہو، تمہارا بہترین دین وہ ہے جو سب سے آسان ہو۔
حدیث نمبر: 12667
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَيَدَعَنَّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْمَدِينَةَ وَهِيَ خَيْرُ مَا يَكُونُ مُرْطِبَةٌ مُونِعَةٌ“، فَقِيلَ: مَنْ يَأْكُلُهَا؟ قَالَ: ”الطَّيْرُ وَالسِّبَاعُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ، مدینہ کو چھوڑ جائیں گے، حالانکہ یہ ہر لحاظ سے خوش گوار اور آسودہ زندگی والاہو گا اور اس کے پھل خوب پکے ہوئے ہوں گے۔ کسی نے کہا: تب وہاں کے پھل وغیرہ کون کھائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پرندے اور درندے۔
حدیث نمبر: 12668
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْمَدِينَةِ: ”لَتَتْرُكَنَّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي يَعْنِي السِّبَاعَ وَالطَّيْرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے متعلق فرمایا: تم لوگ خوش حالی کے باوجود اس شہر کو درندوں اور پرندوں کے لیے چھوڑ جاؤ گے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ مدینہ منورہ سے خلافت شام و عراق کی طرف منتقل ہوجانے کو اس حدیث کا مصداق ٹھہرایا گیا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ حالات قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حافظ ابن حجر نے مختلف شواہد بھی ذکر کیے ہیں۔ (ملاحظہ ہو:فتح الباری: ۴/ ۱۱۱، ۱۱۲)
حدیث نمبر: 12669
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”الْمَدِينَةُ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا وَهِيَ مُرْطِبَةٌ“، قَالُوا: فَمَنْ يَأْكُلُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ”السِّبَاعُ وَالْعَائِفُ“، قَالَ أَبُو عَوَانَةَ: فَحُدِّثْتُ أَنَّ أَبَا بِشْرٍ قَالَ: كَانَ فِي كِتَابِ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ اگر چہ تازہ کھجوروں والا ہوگا، مگر اہل مدینہ اسے چھوڑ جائیں گے۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہاں (کے پھل اور غلہ وغیرہ) کون کھائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درندے اور پرندے۔ ابو عوانہ نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ ابو بشر نے کہا ہے کہ یہ حدیث سلیمان بن قیس کی کتاب میں تھی۔
حدیث نمبر: 12670
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَيَسِيرَنَّ رَاكِبٌ فِي جَنْبِ وَادِي الْمَدِينَةِ، لَيَقُولَنَّ لَقَدْ كَانَ فِي هَذِهِ مَرَّةً حَاضِرَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَثِيرٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ کی وادی کے قریب سے کوئی سوار گزرتے ہوئے کہے گا کہ کبھی ا س شہر میں اہل ایمان کی بہت بڑی آبادی ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 12671
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَيَسِيرَنَّ الرَّاكِبُ فِي جَنَبَاتِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ لَيَقُولُ: لَقَدْ كَانَ فِي هَذَا حَاضِرٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَثِيرٌ“، قَالَ أَبِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وَلَمْ يَجُزْ بِهِ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ جَابِرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سوار مدینہ کے پاس سے گزرتے ہوئے کہے گا کہ کبھی اس شہر میں اہل ایمان کی بڑی تعداد ہوا کرتی تھی۔ امام احمد بن حنبل نے کہا: حسن اشیب نے جابر رضی اللہ عنہ سے آگے تجاوز نہیں کیا۔ (یعنی عمر بن خطاب کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ مسند جابر کے انداز میں حدیث بیان کی ہے)