کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب ششم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
حدیث نمبر: 12660
عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَأَبْصَرَ جُدْرَانَ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ، فَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سفر سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر جب مدینہ کی دیواروں پر پڑتی تو مدینہ سے محبت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی کو تیز کردیتے اور اگر کسی دوسرے جانور پر سوار ہوتے تو اسے بھی تیز چلنے کے لیے حرکت دیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12660
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1802، 1886 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12646»
حدیث نمبر: 12661
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَتَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَنْزَ آلِ كِسْرَى، الَّذِي فِي الْأَبْيَضِ“، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ”إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ طَيْبَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں یا مومنوں کی ایک جماعت آلِ کسری کے سفید محلات میں موجود خزانوں کو فتح کرے گی۔ نیز سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کا نام طیبہ رکھا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12661
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21106»
حدیث نمبر: 12662
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْمَدِينَةَ فَقَالَ: ”هِيَ طَيْبَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یہ طیبہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12662
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه الطبراني في الكبير : 24/ 956 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27868»
حدیث نمبر: 12663
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ: يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ، تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسی بستی کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی یعنی اپنی فضیلت و مرتبہ کے لحاظ سے سب پر غالب آجائے گی، لوگ اسے یثرب کہتے ہیں، جبکہ یہ مدینہ ہے، یہ منافق اوربد کردار لوگوں کو یوں نکال دے گا، جیسے آگ کی بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بعض دوسری احادیث کے مطابق بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں یثرب کا ذکر کیا گیا، اس حدیث سے کراہت کا ہلکا سا اشارہ ملتا ہے کہ مدینہ کو یثرب نہیں کہنا چاہیے، طابہ، طیبہ یا مدینہ کہنا چاہیے۔ ویسے یثرب تثریب سے ماخوذ ہے، جس کے معانی زجر و توبیخ اور ملامت کے ہیں، جبکہ طابہ اور طیبہ کے الفاظ میں حسن پایا جاتا ہے، ان کے معانی پاکیزگی، عمدگی اور خوشگواری کے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12663
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1871، ومسلم: 1382 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7232 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7231»
حدیث نمبر: 12664
عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ سَمَّى الْمَدِينَةَ يَثْرِبَ فَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، هِيَ طَابَةُ هِيَ طَابَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مدینہ منورہ کو یثرب کے نام سے ذکر کیا، وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے، یہ طابہ ہے، اس کانام طابہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12664
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف يزيد بن ابي زياد، ولاضطرابه فيه، اخرجه ابويعلي: 1688، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18718»