کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
حدیث نمبر: 12649
عَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ ظُلْمًا أَخَافَهُ اللَّهُ وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظلم کرتے ہوئے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اللہ اسے خوف زدہ کرے گا اور اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 12650
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَخَافَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اللہ تعالیٰ اسے خوف زدہ کرے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 12651
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَمِيرًا مِنْ أُمَرَاءِ الْفِتْنَةِ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُ جَابِرٍ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ: لَوْ تَنَحَّيْتَ عَنْهُ، فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ فَنُكِّبَ، فَقَالَ: تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا: يَا أَبَتِ وَكَيْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ مَاتَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ جَنْبَيَّ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ظالم حکمرانوں میں سے ایک حکمران مدینہ منورہ آیا، اس وقت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی بینائی ختم ہو چکی تھی، کسی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ اس سے ایک طرف ہی رہیں تو بہتر ہوگا، پس وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلتے ہوئے گئے تو انہیں چوٹ لگ گئی پس انہوں نے کہا: ہلاک ہواوہ آدمی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوف زدہ کیا، ان کے دونوں یا ایک بیٹے نے کہا: اباجان!اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے خوف زدہ کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو وفات پاچکے ہیں؟ انہو ں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا اس نے مجھے ڈرایا۔
حدیث نمبر: 12652
عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِدَهْمٍ أَوْ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خو ف زدہ کرنے یا ان کے ساتھ برا سلوک کرنے کا ارادہ کیا، اللہ اسے اس طرح نسیت و نابود کردے گا، جیسے پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 12653
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ الثَّلَاثَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: ”مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عبداللہ قراظ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں تین بار سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر گواہی دیتے ہوئے کہتا ہوں کہ انھوں نے کہا کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کے ساتھ برا سلوک کرنے کا ارادہ کیا، اللہ اسے یوں ہلاک کر دے گا جیسے نمک پانی میں میں گھل جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ایسا آدمی اللہ تعالیٰ کی اس انتقامی کاروائی کا دنیا میں بھی مصداق بن سکتا ہے اور آخرت میں بھی۔
حدیث نمبر: 12654
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا،اللہ اسے اس طرح ختم کردے گا، جیسے نمک پانی میں حل ہو کر ختم ہوجاتا ہے۔