کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
حدیث نمبر: 12635
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ، أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا، وَقَالَ: الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَخْرُجُ مِنْهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَؤْمِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ القِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں مدینہ منورہ کی دو حرّوں کے درمیان والی زمین کو حرم قرار دیتاہوں، یہاں سے کوئی جھاڑی نہ کاٹی جائے اور کوئی شکار نہ کیا جائے۔ نیز فرمایا: مدینہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہو گا، کاش کہ یہ لوگ اس بات سے واقف ہوتے،ـ جو کوئی یہاں سے اعراض کرتے ہوئے چلا جاتا ہے، اللہ اس کے عوض اس سے بہتر آدمی کو اس میں لے آتاہے، جو آدمی یہاں کی پریشانیوں اور شدائد پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی بنوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … مدینہ منورہ میں وہی رہے گا، جس کے ایمان میں رسوخ ہو گا۔ مدینہ منورہ میں بسیرا کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی منقبت سمجھیں اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12635
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1363 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1573»
حدیث نمبر: 12636
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) بِنَحْوِهِ وَزَادَ: ”كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ حَرَمَهُ، لَا يُقْطَعُ عِضَاهَا، وَلَا يُقْتَلُ صَيْدُهَا، وَلَا يَخْرُجُ مِنْهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَهَا اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَلَا يُرِيدُهُمْ أَحَدٌ بِسُوءٍ إِلَّا أَذَابَهُ اللَّهُ ذَوْبَ الرَّصَاصِ فِي النَّارِ، أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے حرم کو حرمت والا بنایاکہ یہاں سے کوئی جھاڑی نہ کاٹی جائے، یہاں شکار نہ کیا جائے اورجو کوئی یہاں سے اعراض کرتے ہوئے چلا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس سے بہتر آدمی کو لے آتاہے، جو آدمی اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے یوں پگھلا دے گا، جیسے آگ میں پیتل یا پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12636
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1606»
حدیث نمبر: 12637
عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ أَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ فَذَكَرَتْ شِدَّةَ الْحَالِ وَأَنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهَا اجْلِسِي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَصْبِرُ أَحَدُكُمْ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے زبیر یحنس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کی خادمہ ان کے پاس آئی اور اس نے حالات کی شدت کا شکوہ کیا، وہ چاہتی تھی کہ مدینہ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلی جائے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: بیٹھ جا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ تم میں سے جو آدمی مدینہ منورہ میں پیش آنے والی تکالیف اور مصائب پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12637
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1377 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5935 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5935»
حدیث نمبر: 12638
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَفْعَلْ فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ مَاتَ بِهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ اسے مدینہ میں موت آئے تو اس کی ضرور کوشش کرے، کیونکہ جو لوگ یہاں فوت ہوں گے، میں ان کے حق میں سفارش کروں گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کامقصود یہ ہے کہ لوگ مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کریں، تبھی اُدھر موت آ ئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12638
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط البخاري، اخرجه ابن ماجه: 3112، والترمذي: 3917 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5437 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5437»
حدیث نمبر: 12639
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ ”يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ رِجَالٌ رَغْبَةً عَنْهَا وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ مدینہ سے اعراض کرتے ہوئے یہاں سے چلے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا، کاش کہ وہ یہ بات جان لیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12639
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه بنحوه ايو يعلي: 5868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8002»
حدیث نمبر: 12640
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تُفْتَحُ الْأَرْيَافُ فَيَأْتِي نَاسٌ إِلَى مَعَارِفِهِمْ فَيَذْهَبُونَ مَعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ“ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوشحالی اور آسودگی والی زمین فتح ہوگی تو کچھ لوگ اپنے دوستوں کے ہمراہ ادھر منتقل ہوجائیں گے، حالانکہ مدینہ کی سکونت ان کے لیے بہتر ہوگی، لیکن کاش وہ یہ بات جان لیں۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12640
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن لھيعة اختلط وساء حفظه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8592 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8576»
حدیث نمبر: 12641
وَعَنْهُ فِي أُخْرَى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”تُفْتَحُ الْبِلَادُ وَالْأَمْصَارُ فَيَقُولُ الرِّجَالُ لِإِخْوَانِهِمْ هَلُمُّوا إِلَى الرِّيفِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہت سے دوسرے علاقے اور شہر فتح ہوں گے توکچھ لوگ اپنے بھائیوں سے کہیں گے: آؤ ادھر چلیں، وہاں خوش حالی ہے، حالانکہ مدینہ کی سکونت ان کے حق میں بہتر ہوگی، اگر وہ اس بات کو جانیں، جو بھی آدمی مدینہ منورہ میں مشکلات وشدائد پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہ یا سفارشی بنو ں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12641
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8439»
حدیث نمبر: 12642
عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَفْصَةَ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فِي مَجْلِسِ اللَّيْثِيِّينَ يَذْكُرُونَ أَنَّ سُفْيَانَ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ فَرَسَهُ أَعْيَتْ بِالْعَقِيقِ وَهُوَ فِي بَعْثٍ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَيْهِ يَسْتَحْمِلُهُ فَزَعَمَ سُفْيَانُ كَمَا ذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَعَهُ يَبْتَغِي لَهُ بَعِيرًا فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا عِنْدَ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ الْعَدَوِيِّ فَسَامَهُ لَهُ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْمٍ لَا أَبِيعُكَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ خُذْهُ فَاحْمِلْ عَلَيْهِ مَنْ شِئْتَ فَزَعَمَ أَنَّهُ أَخَذَهُ مِنْهُ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ بِئْرَ الْإِهَابِ زَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يُوشِكُ الْبُنْيَانُ أَنْ يَأْتِيَ هَذَا الْمَكَانَ وَيُوشِكُ الشَّامُ أَنْ يُفْتَتَحَ فَيَأْتِيهُ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْبَلَدِ فَيُعْجِبَهُمْ رِيفُهُ وَرَخَاؤُهُ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ دَعَا لِأَهْلِ مَكَّةَ وَإِنِّي أَسْأَلُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُبَارِكَ لَنَا فِي صَاعِنَا وَأَنْ يُبَارِكَ لَنَا فِي مُدِّنَا مِثْلَ مَا بَارَكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بسر بن سعید سے مروی ہے کہ وہ بنولیث کے لوگوں کی ایک محفل میں تھے، وہاں ذکر ہورہا تھا کہ سفیان نے ان کو بتلایا کہ وادی ٔ عقیق میں ان کا گھوڑا چلنے سے عاجز آگیا، وہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھیجے ہوئے ایک دستے میں تھے، وہ اپنی مجبوری کی بنا پر دوسری سواری لینے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف واپس گئے، ان لوگوں نے ذکر کیا کہ سفیان نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ اس کے لیے اونٹ کی تلاش میں نکلے، آپ کو ابو جہم بن حذیفہ عدوی رضی اللہ عنہ کے ہاں اونٹ ملا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے خرید نے کے لیے بات کی تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو یہ اونٹ قیمتاً نہیں دیتا، بلکہ آپ یہ ویسے ہی لے جائیں اور جسے چاہیں عنایت فرما دیں، سیدنا سفیان کہتے ہیں: آپ نے ان سے وہ اونٹ لے لیا اور وہاں سے روانہ ہوئے، جب بئرا ھاب میں پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امیدہے کہ مدینہ کی آبادی یہاں تک پہنچ جائے گی اور امید ہے کہ شام کا ملک فتح ہوگا، مدینہ کے لوگ وہاں جائیں گے تو انہیں وہاں کی خوش حالی پسند آئے گی، حالانکہ اگر وہ جانتے ہوں تو ان کے لیے مدینہ کی سکونت ہی بہتر ہوگی، پھر عراق فتح ہوگا، یہ لوگ واپس آکر اپنے جانوروں کو ہانکتے ہوئے اور اپنے اہل و عیال اور ساتھیوں سمیت ادھر منتقل ہوجائیں گے، حالانکہ ان کے لیے مدینہ کی سکونت ہی بہتر ہوگی، اگر وہ اس بات کو جان لیں، ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے حق میں برکت کی دعا کی تھی اور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس نے جس طرح اہل مکہ کے لیے برکت فرمائی اسی طرح وہ ہمارے صاع میں او ر مد میں برکت فرمائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12642
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الليثين الذين روي عنھم بسر بن سعيد، لكن قوله يوشك الشام ان يفتح الي آخر الحديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21914 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22259»
حدیث نمبر: 12643
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْمَدِينَةِ زَمَانٌ يَنْطَلِقُ النَّاسُ فِيهَا إِلَى الْآفَاقِ يَلْتَمِسُونَ الرَّخَاءَ فَيَجِدُونَ رَخَاءً ثُمَّ يَأْتُونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ إِلَى الرَّخَاءِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ لوگ خوش حالی کی تلاش میں مدینہ سے نقل مکانی کر کے ادھر اُدھر چلے جائیں گے، جب وہ وہاں خوش حالی پائیں گے تو آخر اپنے اہل و عیال کو بھی وہیں لے جائیں گے، حالانکہ اگر وہ جانتے ہوں تو مدینہ ان کے لیے بہر حال بہتر ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12643
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14680 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14736»
حدیث نمبر: 12644
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ قَالَ تُوُفِّيَ أَخِي وَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ أَخِي تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عِيَالًا وَلِي عِيَالٌ وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ بِعِيَالِي وَعِيَالِ أَخِي حَتَّى نَنْزِلَ بَعْضَ هَذِهِ الْأَمْصَارِ فَيَكُونَ أَرْفَقَ عَلَيْنَا فِي مَعِيشَتِنَا قَالَ وَيْحَكَ لَا تَخْرُجْ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے مہری ابو سعید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میرے بھائی کا انتقال ہوگیا، میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا، میں نے کہا: ابو سعید! میرے بھائی کا انتقال ہوگیاہے، وہ اہل و عیال چھوڑ گیا ہے، میرے اپنے بھی بال بچے ہیں، ہمارے پاس کچھ زیادہ مال بھی نہیں ہے، میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اپنے اور بھائی کے اہل وعیال کو لے کر کسی دوسرے علاقہ میں چلا جاؤں تاکہ وہاں ہمارے معاشی حالات کچھ بہتر ہوجائیں، انہوں نے کہا: تجھ پر افسوس، مدینہ چھوڑ کر مت جانا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مدینہ منورہ میں آنے والے مصائب و شدائد پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12644
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11246 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11266»
حدیث نمبر: 12645
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِيَ الْحَرَّةِ فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ عَنِ الْمَدِينَةِ وَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ابو سعید واقعہ حرہ کے ایام میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور مدینہ سے نقل مکانی کے بارے میں مشورہ کیا اور اوپر والی حدیث والا واقعہ بیان کیا، آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا (جو آدمی مدینہ منورہ میں پیش آنے والے مصائب و شدائد پر صبر کرے گا)، بشرطیکہ وہ مسلمان ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12645
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11575»
حدیث نمبر: 12646
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مدینہ میں پیش آنے والے مصائب و شدائد پر صبرکرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارشی یا گواہ بنوں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12646
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه النسائي في الكبري : 4282، والطبراني في الكبير : 24/ 373 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27085 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27625»
حدیث نمبر: 12647
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَوُعِكَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى ثُمَّ أَتَاهُ فَأَبَى فَقَالَ أَقِلْنِي فَأَبَى فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا خَرَجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتُنَصِّعُ طَيِّبَهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر اسلام پر بیعت کی، بعد میں اسے بخار ہوگیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: آپ میری بیعت واپس کردیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کیا، وہ پھر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر انکار کردیا، اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری بیعت واپس کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے پوچھا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ تو چلا گیا ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ ایک بھٹی کی مانند ہے، یہ برے لوگوں کو باہر نکال دیتا ہے اوراچھے لوگوں کو ظاہر کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12647
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 7208، 7211، ومسلم: 1383، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14335»
حدیث نمبر: 12648
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَسْلَمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقِلْنِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر اسلام قبول کیا اور ہجرت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر کہا: آپ میری بیعت واپس کر دیں، … ۔ پھر روایت کا باقی حصہ ذکر کیا۔
وضاحت:
فوائد: … ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ((أُمِرْتُ بِقَرْیَۃٍ تَأْکُلُ الْقُرٰی، یَقُوْلُوْنَ: یَثْرِبُ، وَھِیَ الْمَدِیْنَۃُ، تَنْفِیْ النَّاسَ کَمَا یَنْفِیْ الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ مِنْ طُرُقٍ أُخْرٰی عَنْہُ مَرْفُوْعًا بِلَفْظِ: ((یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَدْعُوْ الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّہٖ وَقَرِیْبَہٗ: ھَلُمَّ إِلَی الرَّخَائِ ھَلُمَّ إِلَی الرَّخَائِ وَالْمَدِیْنَۃُ خَیْرٌ لَّھُمْ لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ، لَایَخْرُجُ مِنْھُمْ أَحَدٌ رَغْبَۃً عَنْھَا إِلَّا أَخْلَفَ اللّٰہُ فِیْھَا خَیْرًا مِّنْہُ، أَلَا إِنَّ الْمَدِیْنَۃَ کَالْکِیْرِ تُخْرِجُ الْخَبِیْثَ، لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَنْفِیْ الْمَدِیْنَۃُ شِرَارَھَا کَمَا یَنْفِیْ الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ۔)) … مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم دیا گیا ہے جس (کے باسی) دوسری بستیوں پر غالب آ جائیں گے۔لوگ اسے یثرب کہتے ہیں، جبکہ وہ مدینہ ہے، جو لوگوں سے برائیوں کو اس طرح دور کرتی ہے، جس طرح دھونکنی لوہے کی میل کچیل صاف کر دیتی ہے۔ ایک اور روایت میں ہے: لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ آدمی اپنے چچیرے بھائی یا کسی رشتہ دار کو یوں بلائے گا:ـ (مدینہ کو چھوڑو اور) خوشحالی کی طرف آؤ، آسودگی کی طرف آؤ۔ لیکن مدینہ میں بسیرا کرنا ان کے لیے بہتر ہو گا۔ کاش انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب کوئی آدمی مدینہ سے بے رغبتی کرتے ہوئے نکل جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس سے بہترین فرد کو لے آئے گا۔ آگاہ رہو! مدینہ تو دھونکنی کی طرح ہے جو خبیث لوگوں کو خارج دیتا ہے۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مدینہ شرّ پسند لوگوں (کوجلاوطن کر کے ان کی) یوں نفی نہ کر دے گا جس طرح کہ بھٹی لوہے کی کھوٹ کو ختم کر دیتی ہے۔
(صحیح بخاری: ۴/۶۹۔۷۰، صحیح مسلم: ۹/۱۵۴)
اس میں مدینہ کے باسیوں کی عظمتوں کا بیان ہے، ان کو بھی چاہئے کہ جہاں ان کی پناہ گاہ عظیم ہے، وہ اپنے آپ کو بھی عظیم تر ثابت کریں۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: (امرت بقریۃ): خطیب نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ایک گاؤں کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(تاکل القری): کا معنی ہے کہ اس بستی والے دوسری بستیوں والوں پر غالب آ جائیں گے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کا تعلق زمانۂ دجال سے ہے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ جب دجال مدینہ کا قصد کرے گا تو مدینہ تین دفعہ زور زور سے ہلے گا اور اللہ تعالیٰ ہر کافر اور منافق کو اس سے (اس دجال کی طرف) نکال دے گا، (کیونکہ دجال مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا)۔ یہ روایت صحیح بخاری میں بھی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں سکونت اختیار کرنے پر صبر کرنے کی فضیلت ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ساتھ خاص تھی، جیسا کہ بد و والی درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتاہے: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدونے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسلام پر بیعت کی، لیکن اسے مدینہ میں بخار ہو گیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری بیعت واپس کر دو۔ آپ نے انکار کر دیا۔ وہ دوسری مرتبہ آیا اور کہا: مجھے میری بیعت واپس کر دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا۔ وہ تیسری دفعہ آیا اور کہا کہ مجھے میری بیعت واپس کر دو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا۔ (بالآخر اجازت نہ ملنے کے باوجود)وہ بدو مدینہ سے نکل گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ تو دھونکنی اور بھٹی کی طرح ہے، یہ خبیث چیز کی نفی کر دیتا ہے اور طیب چیز کو نکھارتا ہے۔ (صحیحہ: ۲۱۷)
غور فرمائیں! ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ} (سورۂ توبہ: ۱۰۱) … اور کچھ مدینے والوں میں ایسے (منافق) ہیں کہ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔
بلا شک وشبہ منافق خیبث ہے، جبکہ وہ مدینہ میں بھی رہ رہا ہو، اس لیے ان احادیث میں یہ جو کہا گیا ہے کہ مدینہ خبیث چیز کی نفی کرتا ہے، یہ اسمتراراً نہیں، بلکہ تکراراً ہے۔ ایک دفعہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہو چکا ہے اور دوبارہ دجال کے دور میں ہو گا۔ (صحیحہ: ۲۱۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12648
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15287»