کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 12625
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْحَرَّةِ بِالسُّقْيَا الَّتِي كَانَتْ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ائْتُونِي بِوَضُوءٍ“ فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ دَعَا لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْبَرَكَةِ وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ مِثْلَيْ مَا بَارَكْتَ لِأَهْلِ مَكَّةَ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں باہر گئے، جب ہم حرّہ میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے کنوئیں پر پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضو کا پانی لاؤ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر کے قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو گئے اور پھر فرمایا: اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور خلیل تھے، انہوں نے مکہ والوں کے لیے برکت کی دعا کی تھی، میں محمد بھی تیرا بندہ اور رسول ہوں، میں تجھ سے اہل مدینہ کے حق میں دعا کرتا ہوں کہ ان کے مد اور صاع میں اہل مکہ سے دو گنا زیادہ برکت کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، دونوں شہروں میں بسیرا کرنے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت کو محسوس کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12625
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح،اخرجه الترمذي: 3914 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 936»
حدیث نمبر: 12626
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ حَرَامٌ، قَدْ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ الْبَرَكَةَ فِيهَا بَرَكَتَيْنِ وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مدینہ منورہ کے دو حرّوں کے درمیان والی جگہ حرم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اسی طرح حرم قرار دیا ہے، جیسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یااللہ! تو مدینہ میں دو گناہ برکت نازل فرما اور اہل مدینہ کے صاع اور مد میں برکت فرما۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12626
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1363، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1457»
حدیث نمبر: 12627
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا وَاجْعَلِ الْبَرَكَةَ بَرْكَتَيْنِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ہمار ے مد اور صاع میں برکت فرما اور اس کی برکت کو دو گناکر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12627
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11452»
حدیث نمبر: 12628
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مَدِينَتِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، وَإِنَّ إِبْرَاهِيمَ سَأَلَكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ كَمَا سَأَلَكَ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، إِنَّ الْمَدِينَةَ مُشْتَبِكَةٌ بِالْمَلَائِكَةِ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا، لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ، فَمَنْ أَرَادَهَا بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعدبن مالک اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یااللہ! اہل مدینہ کے لیے ان کے مدینہ میں برکت فرما اور ان کے لیے ان کے صاع اور مد میں برکت فرما، اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور خلیل تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور رسول ہوں، ابراہیم علیہ السلام نے تجھ سے اہل مکہ کے لیے دعا کی تھی اور انہوں نے جس طرح اہل مکہ کے لیے دعا کی تھی، اسی طرح میں اہل مدینہ کے لیے دو گنا برکت کی دعا کرتا ہوں، مدینہ منورہ فرشتوں سے ڈھانپا ہوا ہے، اس کے داخلہ کے ہر راستہ پر دو دو فرشتے مقرر ہیں، جو اس کی حفاظت کرتے ہیں، طاعون اور دجال مدینہ میں داخل نہیں ہوسکیں گے، جو آدمی اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے اسی طرح پگھلا کر نیست و نابود کر دے گا، جیسے پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12628
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1593 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1593»
حدیث نمبر: 12629
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! مکہ میں جس قدر برکت ہے، مدینہ میں اس سے دوگنا زیادہ برکت نازل فرما۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12629
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1885، ومسلم: 1369 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12452 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12479»
حدیث نمبر: 12630
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَظَرَ إِلَى الشَّامِ، فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ“، وَنَظَرَ إِلَى الْعِرَاقِ، فَقَالَ نَحْوَ ذَلِكَ، وَنَظَرَ قِبَلَ كُلِّ أُفُقٍ فَفَعَلَ ذَلِكَ، وَقَالَ: ”اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا مِنْ ثَمَرَاتِ الْأَرْضِ، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شام کی طرف رخ کیا اور یہ دعا کی: اے اللہ! ان کے دلوں کو ادھر مائل کردے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عراق کی جانب اور پھر ہر افق کی جانب رخ کر کے یہی دعا فرمائی اور پھر فرمایا: اے اللہ! ہمیں زمین کے پھلوں کا رزق عطا فرما اور ہمارے مد اور صاع میں برکت فرما دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12630
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه البزار: 1184، والبخاري في الادب المفرد : 482 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14746»
حدیث نمبر: 12631
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى بِأَرْضِ سَعْدٍ بِأَصْلِ الْحَرَّةِ عِنْدَ بُيُوتِ السُّقْيَا، ثُمَّ قَالَ: ”اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَكَ وَعَبْدَكَ وَنَبِيَّكَ دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ مِثْلَ مَا دَعَاكَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ، نَدْعُوكَ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ وَثِمَارِهِمْ، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ، وَاجْعَلْ مَا بِهَا مِنْ وَبَاءٍ بِخُمٍّ، اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمْتَ عَلَى لِسَانِ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَمَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور پھر حرہ میں واقع سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی جگہ میں سقیا کے گھروں کے قریب نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: اے اللہ! تیرے خلیل، بند ے اور نبی ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لیے دعا کی تھی، میں محمد تیرا بندہ، نبی اور رسول ہوں، میں تجھ سے اہل مدینہ کے لیے اسی طرح دعا کرتا ہوں، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لیے دعا کی تھی، ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ اہل مدینہ کے صاع،مد اور پھلوں میں برکت فرما، اے اللہ! تو نے جس طرح ہمارے دلوں میں مکہ کی محبت رکھی ہے، اسی طرح مدینہ کی محبت بھی ہمارے دلوں میں ڈال دے اور یہاں کی وبا اور بیماری کو (جحفہ کے قریب) خُم میں منتقل کردے، اے اللہ! جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام کی زبانی مکہ کو حرم قرار دیا ہے، اسی طرح میں مدینہ کی دوحرّوں کے درمیان والی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12631
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه ابن خزيمة: 210 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23007»
حدیث نمبر: 12632
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهِيَ أَوْبَأُ أَرْضِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا، فَاجْعَلْهَا فِي الْجُحْفَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو یہ روئے زمین پر سب سے زیادہ وبا زدہ زمین تھی، جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت بھی اسی طرح ڈال دے، جیسے ہمارے دلوں میں مکہ کی محبت ہے، یا اس سے بھی زیادہ محبت ڈال اور اسے بیماریوں سے پاک کر کے صحت و پاکیزگی والا بنا دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت فرما اور اس کے بخار کو یہاں سے حجفہ میں منتقل کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … جُحفہ بہت بڑا گاؤں تھا، جو مکہ مکرمہ سے بیاسی میل کے فاصلے پر واقع تھا، اس کو مَھْیَعہ بھی کہتے تھے، یہ یہودیوں کا مسکن تھا اور وہاں کوئی ایک مسلمان بھی نہیں رہتا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی کہ مدینہ منورہ کا بخار اُدھر منتقل ہو جائے، جیسا کہ امام نووی نے شرح مسلم میں امام ابن حبان وغیرہ کے اقوال نقل کیے ہیں۔ (صحیحہ: ۲۵۸۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12632
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6372، ومسلم: 1376 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24792»
حدیث نمبر: 12633
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اشْتَكَى أَصْحَابُهُ، وَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَبِلَالٌ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي عِيَادَتِهِمْ، فَأَذِنَ لَهَا، فَقَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ فَقَالَ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ، وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَسَأَلَتْ عَامِرًا، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ، إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ، وَسَأَلَتْ بِلَالًا فَقَالَ: يَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَجٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ بِقَوْلِهِمْ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، وَقَالَ: ”اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَفِي مُدِّهَا، وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهْيَعَةَ“، وَهِيَ الْجُحْفَةُ كَمَا زَعَمُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بیمار پڑگئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، ان کے غلام سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی بیمار پڑگئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی عیادت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی، پس وہ گئیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہر آدمی کو اپنے اہل و عیال میں صبح بخیر کہا جاتا ہے جبکہ موت اس کے جوتے کے تسمہ سے بھی قریب ترہوتی ہے ۔ پھر انھوں نے سیدنا عامر رضی اللہ عنہ سے ان کا حال پوچھا تو انہوں نے کہا: میں موت آنے سے پہلے ہی موت چکھ رہا ہوں، بے شک بزدل آدمی پر اس کے اوپر سے موت آ گرتی ہے، جب سیدہ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ان کا حال دریافت کیا تو انھوں نے کہا: کاش مجھے معلوم ہو کہ میں کس رات مکہ کے قریب وادی فبح میں پہنچوں گا اوررات وہاں بسرکروں گا اور وہاں کی اذخر جھاڑی اور جلیل گھاس میرے ارد گرد ہوگی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے ان حضرات کی کیفیات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر یہ دعاکی: اے اللہ! تو نے جس طرح ہمارے دلوں میں مکہ کی محبت ڈالی ہوئی ہے، اسی طرح ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت یا اس سے زیادہ محبت ڈال دے، اے اللہ! ہمارے لیے یہاں کے صاع اور مد میں برکت فرما اور یہاں کی وباء کو مھیعہ کی طرف منتقل کردے۔ اہل علم کہتے ہیں: مھیعہ سے مراد مقام جحفہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مدینہ منورہ کے علاقے میں پایا جانے والا بخار مشہور تھا، یہاں تک کہ عمرۂ قضا میں طواف کے دوران مکہ کے مشرکوں نے صحابہ کے بارے میں کہا تھا کہ یثرب (مدینہ) کے بخار نے ان کو کمزور کر دیا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایک طرف صحابۂ کرام کے ذہن میں اپنے آبائی وطن مکہ مکرمہ کو چھوڑنے کا طبعی غم موجود تھا، دوسری طرف وہ جس شہر میں آئے تھے، اس میں پائے جانے والے بخار کی لپیٹ میں آ گئے، اسی بنا پر سیدنا ابو بکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما نے یہ اشعار کہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت سے مسلمان امراض سے راحت پا گئے اور انہیں مدینہ محبوب ہو گیا۔
اس وقت جحفہ دار الشرک تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے بخار کے جحفہ میں منتقل ہو جانے کی دعا کی، تاکہ وہ لوگ اس بخار میں مبتلا رہیں اور کافروں اور سرکشوں کی مدد نہ کر سکیں، اس دعا کے بعد سب سے زیادہ بخار اسی علاقے میں پایا جاتا تھا، بلکہ اگر کوئی آدمی جحفہ مقام سے پانی پیتا تو اسے بخار چڑھ جاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12633
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1889 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24864»
حدیث نمبر: 12634
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ عَامِرٍ، وَفِيهِ: إِنَّ بِلَالًا قَالَ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ، وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ، وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ تَغَنَّى، فَقَالَ: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ، وَحَوْلِيَ إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ، وَهَلْ أَرِدْنَ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ، وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ، اللَّهُمَّ اخْزِ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَكَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، اس طریق میں سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے، اس میں ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا: ہر آدمی کو اپنے اہل و عیال میں صبح بخیر کہا جاتا ہے جب کہ موت اس کے جوتے کے تسمہ سے بھی قریب ترہوتی ہے، جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا بخار اتر جاتا تو وہ گا کر یہ پڑھتے تھے: کاش مجھے معلوم ہو کہ میں کونسی رات اس وادی میں جا کر گزاروں گا، جہا ں میرے ارد گرد اذخر اور جلیل گھاس ہوگی اور میں مجنہ وادی کے پانیوں میں پہنچوں گا اور شامہ اور طفیل نامی پہاڑ میری نظر کے سامنے ہوں گے۔ اے اللہ! تو عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف کو رسوا کر دے، جیسا کہ انھوں نے ہمیں مکہ سے نکال دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12634
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26770»