کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12608
عَنْ أَبِي حَسَّانَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالْأَمْرِ فَيُؤْتَى، فَيُقَالُ: قَدْ فَعَلْنَا كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ الْأَشْتَرُ: إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ أَفَشَيْئٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا خَاصَّةً دُونَ النَّاسِ إِلَّا شَيْئٌ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، فَهُوَ فِي صَحِيفَةٍ فِي قِرَابِ سَيْفِي، قَالَ: فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى أَخْرَجَ الصَّحِيفَةَ، قَالَ: فَإِذَا فِيهَا، ”مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ.“ قَالَ: وَإِذَا فِيهَا، ”إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا، وَحِمَاهَا كُلُّهُ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمَنْ أَشَارَ بِهَا، وَلَا تُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِيرَهُ، وَلَا يُحْمَلُ فِيهَا السِّلَاحُ لِقِتَالٍ.“ قَالَ: وَإِذَا فِيهَا، ”الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، أَلَا! لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو حسان سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب کوئی حکم دیتے اور وہ کام کر کے کہا جاتا کہ ہم لوگوں نے فلاں فلاں کام کر دیا ہے تو وہ کہتے: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے،اشتر نے ان سے کہا:آپ جو ایسی ایسی بات کہہ جاتے ہیں، اب یہ لوگوں میں عام پھیل گئی ہے، کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جو آپ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطورِ خاص ارشاد فرمائی ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے لوگوں سے الگ طور پر کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی، البتہ میں نے آپ سے ایک بات سنی ہوئی ہے، جو اس صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے اور وہ صحیفہ میری تلوار کے میان میں محفوظ ہے، لوگوں کے اصرار پر انہو ں نے وہ صحیفہ نکالا تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان لکھا ہوا تھا: جو شخص دین میں نیا کام جاری کرے یا کسی نئے کام کرنے والے کو تحفظ دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت مقبول نہیں ہو گی۔ نیز اس میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حرمت کا اعلان کیا اور میں مدینہ منورہ کی حرمت کاا علان کرتا ہوں، یہ دونوں حرّوں کے درمیان کا علاقہ حرم ہے اور اس کی تمام چراگاہوں میں سے گھاس نہ کاٹی جائے اور نہ اس کے شکار کو دھمکایا ڈرایاجائے اور یہاں پر گری ہوئی چیز کو نہ اٹھایا جائے، البتہ اگر کوئی اس کا اعلان کرنا چاہتا ہوتو اٹھاسکتا ہے اور نہ حدود حرم میں درخت کاٹے جائیں، ہاں کوئی آدمی اپنے اونٹ چرا سکتا ہے اور یہاں لڑائی کے لیے ہتھیار نہ اٹھائے جائیں۔ اور اس میں یہ بھی تحریر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام اہل ایمان کے خون برابر ہیں اور جب کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کو امان دے دے تو سب مسلمان ا س عہد و پیمان کو پورا کریں اور مسلمان اپنے دشمن کے مقابلہ میں سب مل کر ایک ہیں، یاد رکھو کہ کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جاسکتا اور نہ امان والے کو اس کی مدت امان میں قتل کیاجاسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 12609
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عِيرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ عیر پہاڑ سے ثور پہاڑ تک حرم ہے، جس نے مدینہ میں کوئی بدعت جاری کی یابدعتی کو پناہ دی، پس اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 12610
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لِكُلِّ نَبِيٍّ حَرَمٌ وَحَرَمِي الْمَدِينَةُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُهَا بِحُرَمِكَ، أَنْ لَا يُؤْوَى فِيهَا مُحْدِثٌ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا، وَلَا تُؤْخَذُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حرم ہوتا ہے اور میرا حرم مدینہ ہے، اے اللہ! میں اسے آپ کی اجازت سے حرم قرار دیتا ہوں، کوئی بدعتی یا گناہ گار یہاں پناہ نہ لے سکے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ گھاس کاٹی جائے اور اعلان کرنے والے کے علاوہ کسی دوسری کے لیے یہاں کی گری ہوئی چیز اٹھانے کی اجازت نہیں۔
حدیث نمبر: 12611
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا وَالْمَدِينَةُ حَرَامٌ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا مالک بناتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہ کرے گا، مدینہ حرم ہے، جو شخص یہاں بدعت یا گناہ کاکام کرے یا کسی بدعتی اور گناہ گار کو پناہ دے، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہ کرے گا، تمام مسلمانوں کی پناہ برابر ہے، کوئی ادنیٰ مسلمان کسی غیر مسلم کو پناہ دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کا عہد توڑا، اس پراللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 12612
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِي مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ“ ثُمَّ جَاءَ بَنِي حَارِثَةَ فَقَالَ ”يَا بَنِي حَارِثَةَ مَا أَرَاكُمْ إِلَّا قَدْ خَرَجْتُمْ مِنَ الْحَرَمِ“ ثُمَّ نَظَرَ فَقَالَ ”بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو میری زبان کے ذریعے حرم قرار دیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو حارثہ کے ہاں گئے اور فرمایا: بنو حارثہ! میرا خیال ہے کہ تمہاری سکونت حرم سے باہر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غور سے دیکھا اور فرمایا: نہیں،نہیں، تم حرم کے اندر ہی ہو، تم حرم کے اندر ہی ہو۔
حدیث نمبر: 12613
وَعَنْهُ فِي أُخْرَى قَالَ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَاءَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مَا ذَعَرْتُهَا وَجَعَلَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ اثْنَيْ عَشَرَ مِيلًا حِمًى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیا ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں ان دو حرّوں کے درمیان ہرن پاؤں تو میں ان کو ڈراتا دھمکاتا نہیں اور آپ نے مدینہ کے ارد گرد بار ہ میل کو حرم قرار دیا تھا۔
حدیث نمبر: 12614
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ لَوْ رَأَيْتُ الْأُرْوِيَّ تَجُوسُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يَعْنِي الْمَدِينَةَ مَا هِجْتُهَا وَلَا مَسَسْتُهَا وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يُحَرِّمُ شَجَرَهَا أَنْ يُخْبَطَ أَوْ يُعْضَدَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اگر میں جنگلی بکریوں کو مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان گھومتے دیکھو ں تو میں نہ انہیں ڈراتا دھمکاتا ہوں، اور نہ اس کو ہاتھ لگاتا ہوں، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے درختوں کو جھاڑنے یا کاٹنے کو حرام قرار دے رہے تھے۔
حدیث نمبر: 12615
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ حَرَّتَيِ الْمَدِينَةِ لَا يُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ الرَّجُلُ بَعِيرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے د و حرّوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیا ہے کہ وہاں سے کوئی درخت نہیں کاٹا جاسکتا، البتہ اگر کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ ڈالنا چاہے تو اس کی اجازت ہے۔
حدیث نمبر: 12616
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلًا يَصِيدُ فِي حَرَمِ الْمَدِينَةِ الَّذِي حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَبَهُ ثِيَابَهُ فَجَاءَهُ مَوَالِيهِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ هَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ ”مَنْ رَأَيْتُمُوهُ يَصِيدُ فِيهِ شَيْئًا فَلَهُ سَلَبُهُ“ فَلَا أَرُدُّ عَلَيْكُمْ طَعْمَةً أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْتُكُمْ ثَمَنَهُ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أُعْطِيَكُمْ ثَمَنَهُ أَعْطَيْتُكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سلیمان بن ابی عبداللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حرم مدینہ، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرم قرار دیا تھا، میں نے ایک آدمی کو شکار کرتے دیکھا تو انھوں نے اس کے کپڑے اپنے قبضے میں لے لیے، اس کی برادری کے لوگ آئے، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اس حرم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرم قرار دیا اور فرمایاکہ تم اس حرم میں کسی کو شکار کرتا دیکھو تو اس سے چھینا ہوا مال اس کا ہو گا۔ پس جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دی ہے، میں تو اسے واپس نہیں کروں گا، البتہ اگر تم چاہتے ہو تو میں اس کی قیمت تمہیں دے دیتا ہوں۔
حدیث نمبر: 12617
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ غُلَامًا يَخْبِطُ شَجَرًا أَوْ يَقْطَعُهُ فَسَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْغُلَامِ فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سواری پر سوار ہو کر وادیٔ عقیق میں واقع اپنے محل کی طرف جارہے تھے، انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا جو درختوں کے پتے جھاڑ رہا تھایاکاٹ رہا تھا، انہوں نے اس کا سازو سامان چھین لیا، جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ واپس آئے تو اس لڑکے کی برادری کے لوگوں نے آکر درخواست کی کہ انہوں نے اس لڑکے کا جو سامان قبضے میں لیا ہے، وہ اسے واپس کر دیں، لیکن انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ، ایسا نہیں ہوسکتا کہ جو چیز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دی ہو، میں وہ واپس کر دوں اور انہوں نے وہ سامان واپس کرنے سے انکار کردیا۔
حدیث نمبر: 12618
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَلِيَّةُ قَوْمٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُحَلَّقَةٌ رُءُوسُهُمْ“ وَسُئِلَ عَنِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ ”حَرَامٌ آمِنٌ حَرَامٌ آمِنٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرق کی طرف ایک قوم ظاہر ہو گی ، ان کے سر منڈے ہوں گے اور وہ فتنوں میں مبتلا ہو گی ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدینہ منورہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ حرم ہے ، امن کی جگہ ہے ، یہ حرم ہے ، امن کی جگہ ہے ۔
وضاحت:
فوائد: … مشرق کی طرف سے نکلنے والی قوم سے مراد خوارج ہیں، جن کا ذکر آگے آئے گا۔
حدیث نمبر: 12619
عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ خَطَبَ مَرْوَانُ النَّاسَ فَذَكَرَ مَكَّةَ وَحُرْمَتَهَا فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ إِنَّ مَكَّةَ إِنْ تَكُنْ حَرَمًا فَإِنَّ الْمَدِينَةَ حَرَمٌ حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَكْتُوبٌ عِنْدَنَا فِي أَدِيمٍ خَوْلَانِيٍّ إِنْ شِئْتَ أَنْ نُقْرِئَكَهُ فَعَلْنَا فَنَادَاهُ مَرْوَانُ أَجَلْ قَدْ بَلَغَنَا ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نافع بن جبیرسے مروی ہے کہ مروان نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس نے مکہ اورحرم مکہ کا ذکر کیا، سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے اسے مخاطب کر کے کہا: اگر مکہ حرم ہے تو مدینہ منورہ بھی حرم ہے، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے اور یہ مسئلہ ہمارے پاس خولانی چمڑے میں لکھا ہوا موجود ہے، اگر تم چاہو تو میں وہ تحریر تمہیں پڑھا سکتا ہوں، تو مروان نے بھی بآواز بلند کہا: ہاں ہاں یہ مسئلہ ہمیں بھی معلوم ہے۔
حدیث نمبر: 12620
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ مَا بَيْنَ كَدَاءٍ وَأُحُدٍ حَرَامٌ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا كُنْتُ لِأَقْطَعَ بِهِ شَجَرَةً وَلَا أَقْتُلَ بِهِ طَائِرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مدینہ منورہ کداء سے احد پہاڑ تک حرم ہے، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے، میں حدودِ حرم میں سے نہ کوئی درخت کاٹتا ہوں اور نہ کسی پر ندے کو قتل کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 12621
عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي حَسَنٍ قَالَ دَخَلْتُ الْأَسْوَاقَ وَقَالَ فَأَثَرْتُ وَقَالَ الْقَوَارِيرِيُّ مَرَّةً فَأَخَذْتُ دُبْسَتَيْنِ قَالَ وَأُمُّهُمَا تُرَشْرِشُ عَلَيْهِمَا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آخُذَهُمَا قَالَ فَدَخَلَ عَلَيَّ أَبُو حَسَنٍ فَنَزَعَ مِتِّيخَةً قَالَ فَضَرَبَنِي بِهَا فَقَالَتْ لِي امْرَأَةٌ مِنَّا يُقَالُ لَهَا مَرْيَمُ لَقَدْ تَعِسْتَ مِنْ عَضُدِهِ وَمِنْ تَكْسِيرِ الْمِتِّيخَةِ فَقَالَ لِي أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یحیی بن عمارہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بازار میں داخل ہوا تو میں نے دو چھوٹے چھوٹے پرندے دیکھے، جن پر ان کی ماں اپنے پر پھیلائے بیٹھی تھی، میں نے ان کو پکڑ نا چاہا تواچانک ابو حسن آگئے، انہوں نے کھجور کی شاخ کھینچی اور مجھے مار دی، تو ہمارے خاندان کی ایک خاتون، جس کا نام مریم تھا، اس نے کہا: تو اس کے بازو اور کھجور کی شاخ توڑنے کی وجہ سے ہلاک ہو جائے، پھر انھوں نے مجھ سے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کی دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیا ہے؟
حدیث نمبر: 12622
عَنْ شُرَحْبِيلَ قَالَ أَخَذْتُ نُهَسًا بِالْأَسْوَاقِ فَأَخَذَهُ مِنِّي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَأَرْسَلَهُ وَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شرحبیل کہتے ہیں: میں نے (مدینہ منورہ کی) اسواق جگہ سے نُہَس پرندا پکڑ لیا، لیکن سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے لے کر چھوڑ دیا اور کہا: کیا آپ جانتے نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو حرّوں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نُہَس وہ پرندہ ہے، جو چڑیوں اور چھوٹے جانوروں کا شکار کرتا ہے، اس کاسر اور چونچ بڑے ہوتے ہیںاور اس کی دم ہلتی رہتی ہے۔
حدیث نمبر: 12623
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ الْخُرَاسَانِيِّ سَمِعَ شُرَحْبِيلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ أَتَانَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَنَحْنُ فِي حَائِطٍ لَنَا وَمَعَنَا فِخَاخٌ نَنْصِبُ بِهَا فَصَاحَ بِنَا وَطَرَدَنَا وَقَالَ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ صَيْدَهَا يَعْنِي الْمَدِينَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شرجیل بن سعد سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم انپے باغ میں پرندوں کے شکار کے لیے جال لگائے ہوئے تھے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تشریف لائے اورہمیں دیکھ کر چیخ اٹھے اور ہمیں بھگا دیا اور کہا: کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں شکار کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 12624
عَنْ يَعْلَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّادٍ الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ يَصِيدُ الْعَصَافِيرَ فِي بِئْرِ إِهَابٍ وَكَانَتْ لَهُمْ قَالَ فَرَآنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ وَقَدْ أَخَذْتُ الْعُصْفُورَ فَيَنْزِعُهُ مِنِّي فَيُرْسِلُهُ وَيَقُولُ أَيْ بُنَيَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن عباد زرقی سے مروی ہے کہ وہ اِہاب کنویں کے قریب چڑیوں کا شکا رکر رہے تھے، یہ ان کا اپنا کنواں تھا، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے مجھے وہاں دیکھ لیا، جبکہ میں نے ایک چڑیا پکڑی ہوئی تھی، انہوں نے وہ مجھ سے چھین کر چھوڑ دی اور کہا: پیارے بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو اسی طرح حرم قرار دیا ہے، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے۔