کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 12580
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ ”الْإِيمَانُ هَاهُنَا الْإِيمَانُ هَاهُنَا وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ایمان یہاں ہے، ایمان یہاں ہے، اور شدت اور دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوں میں ہے، جہاں سے ربیعہ اور مضر میں سے شیطان کے سینگ طلوع ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12580
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3302، 5303، ومسلم: 51 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22699»
حدیث نمبر: 12581
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَتَضْرِبَنَّ مُضَرُ عِبَادَ اللَّهِ حَتَّى لَا يُعْبَدَ لِلَّهِ اسْمٌ وَلَيَضْرِبَنَّهُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى لَا يَمْنَعُوا ذَنَبَ تَلْعَةٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو مضر اللہ کے بندوں کو اس حدتک ماریں گے کہ اللہ کی عبادت کرنے والا کوئی نام نہیں رہے گا، پھر اہل ایمان ان کو ضرور ضرور اس طرح ماریں گے اور وہ ذلیل و رسوا ہو کر رہ جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ذَنَب کا معنی نچلی جگہ اور تَلْعَۃ سے مراد پانی کے بہاؤ کی وہ جگہ ہے، جہاں پانی اوپر سے نیچے کو بہہ رہا ہوتا ہے، حَتّٰی لَا یَمْنَعُوا ذَنَبَ تَلْعَۃٍ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ قبیلہ ذلیل و خوار ہو جائے گا اور اس کا کوئی غمخوار نہ ہو گا۔ بعض کے نزدیک تَلْعَۃ لفظ کا اطلاق بلند اور پست زمین دونوں پر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12581
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11843»
حدیث نمبر: 12582
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْجِ الْوَلِيدَ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر کی آخری رکعت سے سر اٹھایا تو یوں دعا کی: اے اللہ! توں ہمارا رب ہے اور تیری ہی تعریف ہے، تو ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور بے کس مسلمانوں کو نجات دلا، اے اللہ! تو مضر پر اپنی گرفت سخت کر اور ان پر یوسف علیہ السلام کے دور جیسا قحط مسلط فرما۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12582
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6200، ومسلم: 675 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7259»
حدیث نمبر: 12583
عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُضَرَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَصَرَكَ وَأَعْطَاكَ وَاسْتَجَابَ لَكَ وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ فَأَعْرَضَ عَنْهُ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَصَرَكَ وَأَعْطَاكَ وَاسْتَجَابَ لَكَ وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ قَالَ ”اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيعًا طَبَقًا غَدَقًا غَيْرَ رَائِثٍ نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ“ فَمَا كَانَتْ إِلَّا جُمُعَةً أَوْ نَحْوَهَا حَتَّى مُطِرُوا قَالَ شُعْبَةُ فِي الدُّعَاءِ كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَالِمٍ فِي الِاسْتِسْقَاءِ وَفِي حَدِيثِ حَبِيبٍ أَوْ عَمْرٍو عَنْ سَالِمٍ قَالَ جِئْتُكَ مِنْ عِنْدِ قَوْمٍ مَا يَخْطِرُ لَهُمْ فَحْلٌ وَلَا يُتَزَوَّدُ لَهُمْ رَاعٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مضر پر بددعا کی، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد فرمائی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاقبول فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم ہلاک ہورہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ سے ان کے حق میں دعا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رخ پھیرلیا، میں نے دوبارہ کہا: اللہ کے رسول! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول فرمائی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم ہلاک ہو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ سے ان کے حق میں دعا فرمائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! ایسی بارش نازل فرما، جو ہمیں سیراب کر دے، بہت زیادہ ہو، نفع والی ہو، نقصان والی نہ ہو۔ ایک ہفتہ کے لگ بھگ گزرا ہوگا کہ وہاں خوب بارش برسی۔ شعبہ راوی نے اس دعا میں ایسا لفظ بھی بیان کیا ہے جو میں نے حبیب بن ابی ثابت عن سالم سے الا ستسقاء میں بھی سنا ہے اور سالم سے حبیب یا عمرو کی روایت میں ہے: میں آپ کے پاس ایسی قوم کے پاس سے آرہا ہوں کہ شدت بھوک کی وجہ سے ان کے اونٹ اپنی دموں کو حرکت تک نہیں دیتے اور ان کے چرواہوں کے پاس زادِ راہ تک نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12583
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، سالم بن ابي الجعد لم يسمع من شرحبيل بن السمط، اخرجه ابن ماجه: 1269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18062 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18229»