کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 12577
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نِعْمَ الْقَوْمُ الْأَزْدُ طَيِّبَةٌ أَفْوَاهُهُمْ بَرَّةٌ أَيْمَانُهُمْ نَقِيَّةٌ قُلُوبُهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو ازد بہترین قوم ہیں، ان کے منہ یعنی ان کی گفتگو نہایت عمدہ ہے، یہ اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں اور ان کے دل (بغض، حسد اور کینہ وغیرہ سے)صاف اور پاک ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12577
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8600»
حدیث نمبر: 12578
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَذِهِ صَدَقَةُ قَوْمِي وَهُمْ أَشَدُّ النَّاسِ عَلَى الدَّجَّالِ“ يَعْنِي بَنِي تَمِيمٍ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا كَانَ قَوْمٌ مِنَ الْأَحْيَاءِ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُمْ فَأَحْبَبْتُهُمْ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو تمیم کے بارے میں فرمایا: یہ صدقہ میری قوم کی طرف سے ہے اور یہ دجال کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت ہوں گے۔ سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں: ا س سے پہلے بنو تمیم کے لوگ مجھے سب سے زیادہ ناپسند تھے، لیکن میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے بارے میں یہ فرماتے سنا، تب سے میں ان سے محبت کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12578
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 2543، 4366، ومسلم: 2525 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9068 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9056»
حدیث نمبر: 12579
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَهُ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى لِيَحْصِبَهُ ثُمَّ قَالَ عِكْرِمَةُ حَدَّثَنِي فُلَانٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ تَمِيمًا ذُكِرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ أَبْطَأَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ تَمِيمٍ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُزَيْنَةَ فَقَالَ ”مَا أَبْطَأَ قَوْمٌ هَؤُلَاءِ مِنْهُمْ“ وَقَالَ رَجُلٌ يَوْمًا أَبْطَأَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ مِنْ تَمِيمٍ بِصَدَقَاتِهِمْ قَالَ فَأَقْبَلَتْ نَعَمٌ حُمْرٌ وَسُودٌ لِبَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَذِهِ نَعَمُ قَوْمِي“ وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ ”لَا تَقُلْ لِبَنِي تَمِيمٍ إِلَّا خَيْرًا فَإِنَّهُمْ أَطْوَلُ النَّاسِ رِمَاحًا عَلَى الدَّجَّالِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عکرمہ بن خالد سے مروی ہے کہ اس کے سامنے ایک آدمی نے بنو تمیم کے بارے میں نازیبا الفاظ کہے، تو انہوں نے اسے مارنے کے لیے کنکروں سے بھری ہوئی مٹھی اٹھالی، پھر عکرمہ نے کہا: مجھے فلاں صحابی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بنو تمیم کا ذکر کیا گیا تو کسی نے کہا: انہوں نے اسلام قبول کرنے میں کافی تاخیر کر دی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مزینہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: ان لوگوں نے کوئی دیر نہیں کی، بنو مزینہ بھی انہی میں سے ہیں۔ پھر ایک دن ایک آدمی نے یوں کہہ دیا کہ بنو تمیم نے اپنے صدقات کی ادائیگی اور ترسیل میں دیر کر دی ہے اور پھر بنو تمیم کی طرف سے سر خ اور سیاہ اونٹ آن پہنچے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان اونٹوں کو دیکھ کر فرمایا: یہ میری قوم کی زکوۃ ہے۔ پھر ایک آدمی نے بنو تمیم کے بارے میں ناقدانہ تبصرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بنو تمیم کے بارے میں اچھی باتوں کے سوا کچھ نہ کہا کرو، دجال کے مقابلے میں ان کے نیزے سب سے بلند ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12579
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17533 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17674»