حدیث نمبر: 12574
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”اللَّهُمَّ اهْدِ ثَقِيفًا.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! بنو ثقیف کو ہدایت دے دے۔
حدیث نمبر: 12575
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الطُّفَيْلُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ دَوْسًا قَدِ اسْتَعْصَتْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو طفیل رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک بنو دوس نے سرکشی کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بنودوس کو ہدایت دے اور ان کومیرے پاس لے آ۔
حدیث نمبر: 12576
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرَةً، فَعَوَّضَهُ سِتَّ بَكَرَاتٍ فَتَسَخَّطَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: ”إِنَّ فُلَانًا أَهْدَى إِلَيَّ نَاقَةً، وَهِيَ نَاقَتِي أَعْرِفُهَا كَمَا أَعْرِفُ بَعْضَ أَهْلِي، ذَهَبَتْ مِنِّي يَوْمَ زَغَابَاتِ فَعَوَّضْتُهُ سِتَّ بَكَرَاتٍ فَظَلَّ سَاخِطًا، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بدلے میں چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، وہ تب بھی ناراض ہی رہا، جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: فلاں آدمی نے مجھے ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی تھی، حالانکہ وہ میری ہی اونٹنی تھی، میں اسے اسی طرح پہچانتا ہوں، جیسے میں اپنے اہل خانہ کو پہنچانتا ہوں، وہ زغابہ کے د ن لڑائی میں میرے ہاتھو ں سے نکل گئی تھی، تاہم میں نے اسے بدلے میں چھ اونٹنیاں دے دیں تھیں، مگر وہ پھر بھی ناراض رہا، اب میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی کے علاوہ کسی سے کوئی ہدیہ قبول نہ کروں۔