کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 12564
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَجُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، بنو اسلم، بنو غفار اور بنواشجع یہ سب میرے حلیف ہیں، ان کا اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی دوسرا حلیف نہیں۔
حدیث نمبر: 12565
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَشَيْءٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ أَوْ شَيْءٌ مِنْ جُهَيْنَةَ وَمُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ“ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ ”يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ وَتَمِيمٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسلم اوربنو غفار اور مزینہ اور جہینہ قبیلے کے کچھ لوگ اللہ کے ہاں بہترین لوگ ہیں، راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ قبائل اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن بنو اسد بنو غطفان، بنو ہوازن اور بنو تمیم سے افضل اور بہتر ہوں گے۔
حدیث نمبر: 12566
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَعُصَيَّةُ الَّذِينَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بنو اسلم کو سلامت رکھے اور بنو غفار کی مغفرت فرمائے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی معصیت کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں سالم اور غفار دونوں قبائل کے حق میں دعا کر کے ان کی منقبت کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ دونوں قبیلے بغیر کسی لڑائی کے مشرف باسلام ہوئے، چونکہ غفار قبیلے پر حاجیوں کی چوری کرنے کی تہمت تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے بخشش کی دعا کی۔
حدیث نمبر: 12567
حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، أَمَا وَاللَّهِ! مَا أَنَا قُلْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَالَهُ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بنو سالم کو سلامت رکھے اور بنو غفارکی مغفرت فرمائے، خبردار! اللہ کی قسم! یہ بات میں نے نہیں کہی، اللہ تعالیٰ نے خود فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 12568
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَسْلَمَ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، مَا أَنَا قُلْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَهُ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سالم قبیلہ کو سلامت رکھے اور غفار قبیلہ کی مغفرت فرمائے، یہ بات میں نہیں کہہ رہا، اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔
حدیث نمبر: 12569
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّمَا بَايَعَكَ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارٍ وَمُزَيْنَةَ، وَأَحْسَبُ جُهَيْنَةَ، مُحَمَّدٌ الَّذِي يَشُكُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَمُزَيْنَةَ، وَأَحْسَبُ جُهَيْنَةَ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَامِرٍ وَأَسَدٍ وَغَطَفَانَ أَخَابُوا وَخَسِرُوا.“ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ لَأَخْيَرُ مِنْهُمْ إِنَّهُمْ لَأَخْيَرُ مِنْهُمْ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اسلم، غفار، مزینہ او رمیرا خیال ہے کہ راوی نے جہینہ کا نام بھی لیا تھا، یہ قبائل حاجیوں کی چوریاں کیاکرتے تھے، ان سب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اسلم، غفار، مزینہ، جہینہ کے قبائل تمیم، عامر، اسد اور غطفان سے بہتر ہوں توکیا وہ قبائل خسارے میں نہ ہو ں گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ ا ن سے کہیں بہتر ہیں وہ ان سے بدر جہا بہتر ہیں۔ جہینہ قبیلے کے بارے میں محمد بن ابی یعقوب راوی کو شک ہواہے۔
حدیث نمبر: 12570
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ أَسْلَمَ وَغِفَارًا وَمُزَيْنَةَ وَأَشْجَعَ وَجُهَيْنَةَ، وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي كَعْبٍ مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؒ نے فرمایا: اسلم، غفار، مزینہ، اشجع، جہینہ اور بنو کعب کے قبائل میرے حلیف، معاون اور مدد گار ہیں اوراللہ اور اس کے رسول ان کے مددگار ہیں۔