کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 12560
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبَنِي نَاجِيَةَ ”أَنَا مِنْهُمْ وَهُمْ مِنِّي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ بنی ناجیہ کے بارے میں فرمایا: میں ان سے اور وہ مجھ سے ہیں، (یعنی وہ میرے اور میں ان کا ہوں)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12560
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابن اخي سعد ولاضطراب سنده، اخرجه الطيالسي: 222 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1447»
حدیث نمبر: 12561
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ أَخِي سَعْدٍ قَالَ ذَكَرُوا بَنِي نَاجِيَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”هُمْ حَيٌّ مِنِّي“ وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ سَعْدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک دوسری روایت جو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بھتیجے سے مروی ہے، اس میں ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں بنو ناجیہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قبیلہ مجھ سے ہے۔ اس روایت کی سند میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا جاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12561
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1448»
حدیث نمبر: 12562
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو لِهَذَا الْحَيِّ مِنَ النَّخَعِ أَوْ قَالَ يُثْنِي عَلَيْهِمْ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي رَجُلٌ مِنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نخع کے اس قبیلہ کے حق میں اس قدر دعا کی یا یوں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اس قدر مدح کی کہ میں نے تمنا کی کہ میں بھی ان میں سے ایک فرد ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12562
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه البزار: 2830 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3826»
حدیث نمبر: 12563
وَعَنِ الْغَضْبَانِ بْنِ حَنْظَلَةَ أَنَّ أَبَاهُ حَنْظَلَةَ بْنَ نُعَيْمٍ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ فَكَانَ عُمَرُ إِذَا مَرَّ بِهِ إِنْسَانٌ مِنَ الْوَفْدِ سَأَلَهُ مِمَّنْ هُوَ حَتَّى مَرَّ بِهِ أَبِي فَسَأَلَهُ مِمَّنْ أَنْتَ فَقَالَ مِنْ عَنَزَةَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”حَيٌّ مِنْ هَاهُنَا مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ مَنْصُورُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حنظلہ بن نعیم سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے، یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب وفد کا کوئی آدمی ان کے پاس سے گزرتا تو وہ اس سے دریافت کرتے کہ وہ کس قبیلہ سے ہے؟ یہاں تک کہ میرے والد سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کا ان کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے ان سے پوچھا کہ وہ کس قبیلہ سے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں عنزہ قبیلے سے ہوں، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: یہاں ایک قبیلہ ایسا بھی ہے کہ ان پر ظلم کیا جائے گا، لیکن ان کی تائید و نصرت کی جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12563
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة الغضبان بن حنظلة وابيه، اخرجه البزار: 337، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 141»