کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 12558
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نِعْمَ الْقَوْمُ الْأَزْدُ طَيِّبَةٌ أَفْوَاهُهُمْ بَرَّةٌ أَيْمَانُهُمْ نَقِيَّةٌ قُلُوبُهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ ازد کے لوگ بہترین لوگ ہیں، ان کے منہ یعنی گفتگو انتہائی شان دار ہوتی ہے، یہ اپنی قسم کو پورا کرتے ہیں اوردلوں کے صاف ہوتے ہیں، یعنی یہ کسی کے خلاف بغض یا حسد نہیں رکھتے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد ازد شنوء ۃ تھی، یہ ایک یمنی قبیلہ تھا اور ازد بن غوث بن لیث کی اولاد تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12558
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8600»
حدیث نمبر: 12559
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَنْ حِمْيَرَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى فَأَعْرَضَ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ الْعَنْ حِمْيَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرَ أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، ایک آدمی نے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا، وہ دوسری طرف سے آگیا اور اس بار بھی یہی بات کہی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا اور فرمایا: اللہ قبیلہ حمیر پر رحم فرمائے، ان کے منہ یعنی گفتگو سلامتی والی ہے، ان کے ہاتھ کھانا کھلانے والے ہیں اور یہ لوگ امن و ایمان والے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … قرآن مجید میں جس تبع کا ذکر ہے اس سے مراد قوم سبا ہے، سبا میں حمیر قبیلہ تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12559
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، ميناء القرشي الزھري ليس بثقة، وقال الدارقطني: منكر الحديث، اخرجه الترمذي: 3939 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7731»