کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
حدیث نمبر: 12556
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ يَوْمًا خَيْلًا وَعِنْدَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَا أَفْرَسُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ“ فَقَالَ عُيَيْنَةُ وَأَنَا أَفْرَسُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَكَيْفَ ذَاكَ“ قَالَ خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالٌ يَحْمِلُونَ سُيُوفَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ جَاعِلِينَ رِمَاحَهُمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ لَابِسُو الْبُرُودِ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَذَبْتَ بَلْ خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَهْلِ الْيَمَنِ وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ إِلَى لَخْمٍ وَجُذَامَ وَعَامِلَةَ وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ آكِلِهَا وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ وَقَبِيلَةٌ خَيْرٌ مِنْ قَبِيلَةٍ وَقَبِيلَةٌ شَرٌّ مِنْ قَبِيلَةٍ وَاللَّهِ مَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَارِثَانِ كِلَاهُمَا لَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ جَمَدَاءَ وَمِخْوَسَاءَ وَمِشْرَخَاءَ وَأَبْضَعَةَ وَأُخْتَهُمُ الْعَمَرَّدَةَ“ ثُمَّ قَالَ ”أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ أَلْعَنَ قُرَيْشًا مَرَّتَيْنِ فَلَعَنْتُهُمْ وَأَمَرَنِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ“ ثُمَّ قَالَ ”عُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ غَيْرَ قَيْسٍ وَجَعْدَةَ وَعُصَيَّةَ“ ثُمَّ قَالَ ”لَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَأَخْلَاطُهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ وَتَمِيمٍ وَغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ ثُمَّ قَالَ ”شَرُّ قَبِيلَتَيْنِ فِي الْعَرَبِ نَجْرَانُ وَبَنُو تَغْلِبَ وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ وَمَأْكُولٌ“ قَالَ قَالَ أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ صَفْوَانُ حِمْيَرَ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ آكِلِهَا قَالَ مَنْ مَضَى خَيْرٌ مِمَّنْ بَقِيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑوں کا معائنہ فرما رہے تھے، عیینہ بن حصن بن بدر فزاری بھی آپ کے پاس موجود تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیینہ سے فرمایا: میں گھوڑوں کے بارے میں تم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہوں۔ عیینہ نے کہا: اور میں لوگوں کے بارے میں آپ سے زیادہ بصیرت رکھتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: لوگوں میں سب سے اچھے اور افضل لوگ وہ ہیں، جو اپنی تلواریں اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوں اور اپنے نیزے اپنے گھوڑوں کی گردنوں پر رکھتے ہوں اور نجد کی بنی ہوئی چادریں زیب تن کرتے ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے غلط کہا، صحیح یہ ہے کہ لوگو ں میں سب سے اچھے اہل یمن ہیں، قابل قدر ایمان یمنی یعنی اہل یمن کا ایمان ہے، آپ کا اشارہ لخم، جذام اورعاملہ نامی قبائل کی طرف تھا اور قبیلہ حمیر کی ماکول نامی شاخ کے گزشتہ لوگ موجود لوگوں میں سے بہتر ہیں اور قبیلہ حضرموت، بنوحارث سے بہتر ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ ایک قبیلہ دوسرے سے بہتر یا ایک قبیلہ دوسرے سے بدترہو، اللہ کی قسم! مجھے اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں کہ حارث کے دونوں قبیلے ہلاک ہوجائیں، اللہ تعالیٰ نے چار بادشاہوں جمداء، منحوساء، مشرفاء اور بضعہ پر اور ان سے ملتی جلتی عمر دۃ پر لعنت کرے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش پر دو مرتبہ لعنت کروں، پس میں نے ان پر لعنت کی اور ربّ تعالیٰ نے مجھے ان کے لیے دعائے رحمت کرنے کا حکم دیا تو میں نے ان کے حق میں دو مرتبہ رحمت کی دعا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے، البتہ ان میں سے قیس، جعدہ اور عصیہ کے قبائل معصیت سے محفوظ رہے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے دیگر قبائل اللہ تعالیٰ کے ہاں بنو اسد، تمیم، غطفان، ہوازن سے بہتر ہوں گے، عرب میں سے بنو نجران اور بنو تغلب کے قبیلے بد ترین ہیں اور جنت میں مذحج اور بنو ما کول کے افراد باقی قبائل کی نسبت زیادہ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 12557
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ خَيْلًا وَعِنْدَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَقَالَ لِعُيَيْنَةَ ”أَنَا أَبْصَرُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ“ فَقَالَ عُيَيْنَةُ وَأَنَا أَبْصَرُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ قَالَ ”فَكَيْفَ ذَاكَ“ قَالَ خِيَارُ الرِّجَالِ الَّذِينَ يَضَعُونَ أَسْيَافَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ وَيَعْرِضُونَ رِمَاحَهُمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ قَالَ ”كَذَبْتَ خِيَارُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَهْلِ الْيَمَنِ وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ وَأَنَا يَمَانٍ وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ وَمَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَيَّانِ كِلَاهُمَا فَلَا قِيلَ وَلَا مُلْكَ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ جَمَدَاءَ وَمِشْرَخَاءَ وَمِخْوَسَاءَ وَأَبْضَعَةَ وَأُخْتَهُمْ الْعَمَرَّدَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدناعمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑوں کا معائنہ فرما رہے تھے اور عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بد رفزاری بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیینہ سے فرمایا: میں گھوڑوں ے بارے میں تم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہوں۔ آگے سے عیینہ نے کہا: اور میں لوگوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: بہترین لوگ وہ اہل نجد ہیں، جو اپنی تلواریں اپنے کاندھوں پر رکھتے ہیں اور اپنے نیزے گھوڑوں کی گردنوں پر رکھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: تم نے غلط کہا، بہترین لوگ یمن کے ہیں اور بہترین ایما ن بھی اہل یمن کا ایمان ہے، میں بھی اصلاً یمنی ہی ہوں اور قیامت والے دن جنت میں تمام قبائل کی نسبت بنو مذ حج کے افراد زیادہ ہوں گے اور قبیلہ حضر موت، قبیلہ بنو حارث سے بہتر ہے اور مجھے ایک بات کی قطعاً پرواہ نہیں ہے کہ دونوں قبیلے ہلاک ہوجائیں، حکمرانی اور بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ جمدائ، شرحائ، مخوساء اور ابضعہ چاروں بادشاہوں اور ان کی بہن عمردۃ پر لعنت کرے۔