کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 12547
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ لِلْقُرَشِيِّ مِثْلَيْ قُوَّةِ الرَّجُلِ مِنْ غَيْرِ قُرَيْشٍ.“ فَقِيلَ لِلزُّهْرِيِّ: مَا عَنَى بِذَلِكَ؟ قَالَ: نُبْلَ الرَّأْيِ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک قریشی کو غیر قریشی سے دوگنا زیادہ قوت حاصل ہے۔ زہری سے پوچھا گیا: اس حدیث سے مراد کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اصابت رائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں قریشی خاندان کے لوگوں کی بصیرت و بصارت اور فہم و فراست کا بیان ہے
حدیث نمبر: 12548
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَسْرَعُ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَاءً قُرَيْشٌ، وَيُوشِكُ أَنْ تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالنَّعْلِ، فَتَقُولَ: إِنَّ هَذَا نَعْلُ قُرَشِيٍّ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرب کے قبائل میں سب سے جلدی ہلاک ہونے والا قبیلہ قریش کاہے، قریب ہے کہ ایک عورت ایک جوتے کے پاس سے گزرے اور کہے: یہ کسی قریشی آدمی کا جوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ جوتے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود قریشیوں کی کوئی علامت یا نشان ہو۔ اس نبوی ارشاد کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَاعَائِشَۃُ قَوْمُکِ أَسْرَعُ أُمَّتِی بِیْ لِحَاقاً۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا جَلَسَ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَائَ کَ لَقَدْ دَخَلْتَ وَأَنْتَ تَقُوْلُ کَلَاماً ذَعَّرَنِیْ۔ قَالَ: ((وَمَا ھُوَ؟)) قَالَتْ: تَزْعَمُ أَنَّ قَوْمِیْ أَسْرَعُ أُمَّتِکَ بِکَ لِحَاقاً، قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَتْ: وَمِمَّ ذَاکَ؟ قَالَ: ((تَسْتَحْلِیْھِمُ الْمَنَایَا، وَتَنْفِسُ عَلَیْھِمْ أُمَّتُھُمْ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَکَیْفَ النَّاسُ بَعْدَ ذٰلِکَ أَوْ عِنْدَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((دَبًی تَأْکُلُ شِدَادُہٗ ضِعَافَہٗ حَتّٰی تَقُوْمُ عَلَیْھِمُ السَّاعَۃُ۔)) (الصحیحۃ:۱۹۵۳) … اے عائشہ! میری امت میں سے تیری قوم سب سے پہلے مجھے ملنے والی
ہے۔ وہ کہتی ہیں: جب آپ بیٹھ گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے‘ آپ تشریف لائے اور ایسی بات کہی ہے جس نے مجھے خوفزدہ کردیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کون سی بات؟ انھوں نے کہا: آپ کہہ رہے تھے کہ آپ کی امت میں سے میری قوم سب سے پہلے آپ سے ملنے والی ہے۔ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: ایسے کیوں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موتیں ان کو میٹھا محسوس کریں گی اور ان کی قوم ان پر حسد کرے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر اس کے بعد یا اس وقت لوگوں کی کیا حالت ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ٹڈیوں کی طرح زور دار کمزوروں کو کھا جائیں گے (اور کوئی انصاف کرنے والا نہ رہے گا)، انہی لوگوں پر قیامت برپا ہو جائے گی۔
(مسند احمد: ۶/ ۸۱، ۹۰، صحیحہ: ۱۹۵۳)
ہے۔ وہ کہتی ہیں: جب آپ بیٹھ گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے‘ آپ تشریف لائے اور ایسی بات کہی ہے جس نے مجھے خوفزدہ کردیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کون سی بات؟ انھوں نے کہا: آپ کہہ رہے تھے کہ آپ کی امت میں سے میری قوم سب سے پہلے آپ سے ملنے والی ہے۔ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: ایسے کیوں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موتیں ان کو میٹھا محسوس کریں گی اور ان کی قوم ان پر حسد کرے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر اس کے بعد یا اس وقت لوگوں کی کیا حالت ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ٹڈیوں کی طرح زور دار کمزوروں کو کھا جائیں گے (اور کوئی انصاف کرنے والا نہ رہے گا)، انہی لوگوں پر قیامت برپا ہو جائے گی۔
(مسند احمد: ۶/ ۸۱، ۹۰، صحیحہ: ۱۹۵۳)
حدیث نمبر: 12549
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”يَا عَائِشَةُ! إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يَهْلِكُ مِنَ النَّاسِ قَوْمُكِ.“ قَالَتْ: قُلْتُ: جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ أَبَنِي تَيْمٍ؟ قَالَ: ”لَا، وَلَكِنْ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ، تَسْتَحْلِيهِمُ الْمَنَايَا وَتَنَفَّسُ عَنْهُمْ أَوَّلَ النَّاسِ هَلَاكًا.“ قُلْتُ: فَمَا بَقَاءُ النَّاسِ بَعْدَهُمْ؟ قَالَ: ”هُمْ صُلْبُ النَّاسِ فَإِذَا هَلَكُوا هَلَكَ النَّاسُ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ!لوگوں میں سے پہلے جو لوگ فنا ہوں گے، وہ تیری قوم کے لوگ ہوں گے۔ سیدہ نے کہا: میں نے کہا: اللہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا کرے، کیا اس سے بنو تیم مراد ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، میری مراد یہ قریش ہیں، موتیں ان کو میٹھا سمجھیں گی اور ان کو برگشتہ کریں گی اور یہ سب سے پہلے تباہ ہوں گے۔ میں نے کہا: ان کے بعد باقی رہنے والے کیسے ہوں گے؟ فرمایا: وہ مضبوط لوگ ہوں گے، جب یہ ہلاک ہوجائیں گے توباقی لوگ بھی ہلاک ہو جائیں گے۔
حدیث نمبر: 12550
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: ”لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْيَوْمِ.“ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ) وَلَمْ يُدْرِكِ الْإِسْلَامُ أَحَدًا مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ، وَكَانَ اسْمُهُ عَاصِي فَسَمَّاهُ مُطِيعًا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مطیع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آج کے بعد قیامت تک کوئی قریشی باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا۔ قریش کے عُصَاۃ یعنی عاص نامی افراد میں سے اس مطیع کے سوا کوئی بھی مسلمان نہیں ہوا اور اس صحابی کانام بھی عاصی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے مطیع رکھا۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: اہل علم کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش کے بارے میں یہ خبر دینا چاہتے ہیں کہ وہ سارے کے سارے مشرف باسلام ہو جائیں گے اور ان میں سے کوئی بھی مرتد نہیں ہو گا، جیسا کہ غیر قریشی قبائل کے افراد مرتد ہو گئے تھے اور پھر ان سے لڑائی کی گئی تھی۔ اس حدیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ کسی قریشی کو ظلماً قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ قریشیوں کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا رہا۔ واللہ اعلم۔ (شرح مسلم نووی: ۱۲/ ۱۳۴)
اس حدیث میں لفظ عاص اسم علم ہے، نہ کہ اسم صفت اور اس کی جمع عُصَاۃ ہے، اس روایت کے آخری حصے کا مفہوم یہ ہے کہ دورِ جاہلیت میں کئی لوگوں کا نام عاص تھا، مثلا: عاص بن وائل سہمی، عاص بن ہشام، عاص بن سعید بن عاص، عاص بن ہشام بن مغیرہ، عاص بن منبہ بن حجاج، عاص بن اسود۔
ان عاص نامی افراد میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں ہوا، ما سوائے مؤخر الذکر یعنی عاص بن اسودکے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے مطیع رکھا تھا، ویسے عاص کے لفظی معانی نافرمان ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کا نام مطیع رکھا، جس کا معنی فرمانبردار ہے۔
عاص اور عاصی ایک ہی لفظ ہے، عربی زبان میں بعض تراکیب میں اس کو عاص پڑھا جاتا ہے اور بعض میں عاصی۔
اس حدیث میں لفظ عاص اسم علم ہے، نہ کہ اسم صفت اور اس کی جمع عُصَاۃ ہے، اس روایت کے آخری حصے کا مفہوم یہ ہے کہ دورِ جاہلیت میں کئی لوگوں کا نام عاص تھا، مثلا: عاص بن وائل سہمی، عاص بن ہشام، عاص بن سعید بن عاص، عاص بن ہشام بن مغیرہ، عاص بن منبہ بن حجاج، عاص بن اسود۔
ان عاص نامی افراد میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں ہوا، ما سوائے مؤخر الذکر یعنی عاص بن اسودکے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے مطیع رکھا تھا، ویسے عاص کے لفظی معانی نافرمان ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کا نام مطیع رکھا، جس کا معنی فرمانبردار ہے۔
عاص اور عاصی ایک ہی لفظ ہے، عربی زبان میں بعض تراکیب میں اس کو عاص پڑھا جاتا ہے اور بعض میں عاصی۔
حدیث نمبر: 12551
عَنْ طَارِقٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَائِلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ تو نے قریش کے پہلے لوگوں کو عذاب دئیے، پس اب تو قریش کے بعد والے لوگوں کو نعمتوں سے نواز۔
وضاحت:
فوائد: … قریش کے پہلے لوگ قتل، شکست، رسوائی، قہر، قحط اور مہنگائی جیسی آزمائشوں میں مبتلا رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول ہوئی اور جب یہ مسلمان ہوئے تو خلافت و امارت، عزت و ملوکیت، انعام و تکریم اور فتح جیسی نعمتوں سے مالا مال ہو گئے۔
حدیث نمبر: 12552
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَلِيَ عِيَالٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ“ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا قَوْلَهُ وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بَعِيرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، لیکن انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہوچکی ہوں اور میری کفالت میں بچے بھی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹ کی سواری کرتی ہیں، وہ قریشی خواتین ہیں، یہ اولاد پر ان کے بچپنے میں ازحد مہربان اور خاوندوں کے اموال کی بہت زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدہ مریم بنت عمران نے اونٹ پر کبھی سواری نہیں کی۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ بیوی کی یہ دو خصوصیات انتہائی اہم ہیں: بچوں کے حق میں شفیق ہونا اور خاوند کی امانتوں کی حفاظت کرنا، اور یہی دو خصوصیات ہیں، جن کی وجہ سے گھر میں امن و امان کا دور آ جاتا ہے اور اس گھر والے بلند مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ یہی دو خصائل ہیں کہ جن کی بنا پر قریشی عورتوںکی مدح سرائی کی گئی۔
حدیث نمبر: 12553
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ خَيْرَ نِسَاءِ رَكِبْنَ الْإِبِلَ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغْرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ بِذَاتِ يَدِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں، وہ قریش کی نیک خواتین ہیں، جو اپنی اولاد کے بچپنے میں اس کا بہت خیال رکھنے والی اور اپنے خاوندوں کے مال و منال کی حفاظت کرنے والی ہیں۔
حدیث نمبر: 12554
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ مَادَّةً وَإِنَّ مَوَادَّ قُرَيْشٍ مَوَالِيهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر قوم کے کچھ معاون ہوتے ہیں، قریش کے معاون ان کے حلیف (یا غلام) ہیں۔
حدیث نمبر: 12555
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ ”إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ مَادَّةً وَإِنَّ مَادَّةَ قُرَيْشٍ مَوَالِيهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’ہر قوم کا ایک معاون ہوتا ہے، قریش کے معاون ان کے حلیف (یا غلام) ہیں۔