کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے
حدیث نمبر: 12541
عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”خُذُوا بِقَوْلِ قُرَيْشٍ وَدَعُوا فِعْلَهُمْ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عامر بن شہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم قریش کی بات کو سامنے رکھو اور ان کے اعمال کو نذر انداز کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12541
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18475»
حدیث نمبر: 12542
وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”اسْتَقِيمُوا لِقُرَيْشٍ مَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدناثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم قریش کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، جب تک وہ بھی تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12542
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده منقطع، سالم بي ابي الجعد لم يسمع من ثوبان، اخرجه الطبراني في الصغير : 201 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22747»
حدیث نمبر: 12543
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ، صَالِحُهُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِهِمْ، وَشِرَارُهُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِهِمْ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی بن طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات میرے کانوں نے سنی اور میرے دل نے یاد کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ قریش کے پیرو کار ہیں، نیک لوگ قریش کے نیک لوگوں کی پیروی کرتے ہیں اور برے لوگ قریش کے برے لوگوں کے پیچھے چلتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12543
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه البزار: 512 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 790»
حدیث نمبر: 12544
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ، مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ.“ قَالَ: وَحَرَّكَ إِصْبَعَيْهِ يَلْوِيهِمَا هَكَذَا.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک دنیا میں دو آدمی باقی رہیں گے، یہ اقتدار ہمیشہ قریش میں رہے گا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو حرکت دے کر دو کا اشارہ کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12544
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3501، 7140، ومسلم: 1820، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4832 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4832»
حدیث نمبر: 12545
عَنْ خُبَيْبِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ، قَالَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَتَخَوَّلُنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ: لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ قُرَيْشٌ لَيَضَعَنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ فِي جُمْهُورٍ مِنْ جَمَاهِيرِ الْعَرَبِ سِوَاهُمْ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: كَذَبْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”قُرَيْشٌ وُلَاةُ النَّاسِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن ہذیل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہمارا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے، بکر بن وائل کے قبیلہ میں سے کسی نے کہا: اگر قریش اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو یہ اقتدار ان سے نکل کر عربوں کے دوسرے قبائل میں چلا جائے گا، یہ سن کر سیدنا عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تم غلط کہتے ہو، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ بھلائی کا کوئی کام ہو یا برائی کا، قیامت تک ہر کام میں قریش ہی لوگوں کے سربراہ رہیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12545
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 2227 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17961»
حدیث نمبر: 12546
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ لِي عَلَى قُرَيْشٍ حَقًّا، وَإِنَّ لِقُرَيْشٍ عَلَيْكُمْ حَقًّا، مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَأْتُمِنُوا فَأَدَّوْا، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے کچھ حقوق قریش کے ذـمہ ہیں اور قریش کے لیے کچھ حقوق تمہارے ذمے ہیں، جب تک وہ عدل و انصاف سے فیصلے کرتے رہیں، جب ان کے پاس امانتیں رکھی جائیں تو وہ امانتیں ادا کرتے رہیں اور جب ان سے رحم کا مطالبہ کیا جائے تو وہ شفقت کرتے رہیں۔
وضاحت:
فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس قسم کی احادیث میں بعض ایسے قدیم گمراہ فرقوں، بعض مولفین اور بعض جدید احزابِ اسلامیہ کا ردّکیا گیا ہے، جو خلیفہ میں عربی اور قریشی ہونے کی شرط نہیں لگاتے۔
بڑی عجیب بات ہے کہ سلفیت کے دعویدار ایک شیخ نے (الدولۃ الاسلامیۃ) کے نام سے ایک رسالہ لکھا، اس کے شروع میں خلیفہ کی تمام شروط لکھیں، ماسوائے اس شرط کے کہ وہ قریشی ہونا چاہیے، ظاہر بات تو یہی ہے کہ یہ احادیث اس کے علم میں نہ ہوں گی۔ جب میںنے ان کے سامنے ان احادیث کا ذکر کیا تو وہ مسکرانے لگے، لیکن اس موضوع پر نظر ثانی کرنے پر آمادگی کا اظہار نہ کیا، … …۔ بہرحال ہر مؤلف کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر مضمون لکھتے وقت حق کا خیال رکھے اور حزبی اور سیاسی جانبداری کو ترجیح نہ دے اور جمہور کی موافقت یا مخالفت کا خیال نہ رکھے۔ واللہ ولی التوفیق۔ (صحیحہ: ۱۰۰۷)
دورِ جاہلیت میں قریش کو جو شرف حاصل رہا، ان کے مسلمان ہونے کے بعد اسلام نے اس کو برقرار رکھا اور اسے عربوں کے بقیہ قبائل پر امامت و امارت میں مقدم قرار دیا۔
امام نووی نے کہا: اِن اور اس موضوع سے متعلقہ دیگر احادیث میں واضح دلالت موجود ہے کہ خلافت قریش کے ساتھ مختص ہے، کسی دوسرے کو یہ منصب دینا ناجائز ہے، صحابہ کے عہد اور ان کے بعد والے زمانے میں اسی بات پر اجماع منعقد ہوا۔ اگر اہل بدعت نے مخالفت کی ہے تو ان کا ردّ کرنے کے لیے صحابہ کا اتفاق ہی کافی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ وضاحت کر دی ہے کہ آخر زمانہ تک خلافت کا یہی حکم جاری رہے گا اور ابھی تک ایسے ہی ہوا۔
لیکن ملا علی قاری نے کہا: اشکال یہ ہے کہ اکثر علاقوں میں دو سو (۲۰۰) برسوں تک غیر قریشی حکمران رہے۔ تین جوابات دیے جا سکتے ہیں: احادیث میں مذکورہ خبر کو امر کے معنی میں لیا جائے یا پھر خبر کو درج ذیل حدیث کے ساتھ مقید کیا جائے: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ (خلافت والا) معاملہ قریش میں رہے گا، جب تک یہ دین (کے احکام) کو قائم رکھیں گے، مخالفت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ذلیل کر دے گا۔ (بخاری) جب قریشی خلفاء نے دین کی حرمتوں کو پامال کیا تو وہ خلافت سے محروم ہو گئے۔
اس لیے احادیث میں مذکورہ خبر کو امر کے معنی میں لیا جائے گا، یا پھر ناس سے مراد عرب لوگ ہیں۔
(مرقاۃ المفاتیح: ۱۰/ ۳۳۴)
سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ((اَلنَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَیْشٍ فِيْ ھٰذَا الشَّاْنِ، مُسْلِمُھُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِھِمْ، وَکَافِرُھُمْ تَبَعٌ لِکَافِرِھِمْ۔)) … لوگ اس (خلافت کے) معاملے میں قریشیوں کے تابع ہیں، مسلمان لوگ قریشی مسلمانوں کے تابع ہوں گے اور کافر لوگ قریشی کافروں کے تابع ہوں گے۔
(صحیح بخاری: ۶/ ۴۱۳، صحیح مسلم: ۶/ ۲)
قریش ہمیشہ متبوع اور دوسرے ان کے تابع رہے، جب یہ کافر تھے تو لوگ کفر میں ان کے پیروکار تھے، جیسا کہ عام عرب لوگوں کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں خیال تھا کہ دیکھتے ہیں کہ ان کی قوم قریش کیا کرتی ہے، جب وہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تو عرب قبائل نے ان کی پیروی کرتے ہوئے جماعتوں کی شکل میں اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12546
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه الطبراني في الاوسط : 3012، وعبدالرزاق: 19902، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7640»