حدیث نمبر: 12525
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَاتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ، وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَاتِهِمْ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے لیے میرا زمانہ سب سے بہتر ہے، پھر اس کے بعد والا زمانہ، پھر اس کے بعد والا زمانہ اور پھر اس کے بعد والا زمانہ، بعد ازاں ایسے لوگ آجائیں گے، جن کی گواہیاں ان کی قسموں پر اور ان کی قسمیں ان کی گواہیوں پر سبقت لے جائیں گی۔
حدیث نمبر: 12526
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يَتَسَمَّنُونَ يُحِبُّونَ السِّمَنَ يُعْطُونَ الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے لیے سب سے افضل میرا زمانہ ہے، اس کے بعد اس کے بعد والا زمانہ اور پھر اس کے بعد والا دور، ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے، جو موٹے ہوں گے اور موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ گواہی طلب کیے جانے سے پہلے از خود گوائیاں دیں گے۔
حدیث نمبر: 12527
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ ”الْقُرُونُ الَّذِي أَنَا فِيهِ ثُمَّ الثَّانِي ثُمَّ الثَّالِثُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: لوگوں کے لیے کونسا زمانہ سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس میں میں ہوں پھر اس کے بعد والا دوسرا زمانہ اور پھر اس کے بعد والا تیسرا۔
حدیث نمبر: 12528
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيَقُولُونَ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ جنگ میں شامل ہوں گے، اسی دوران پوچھا جائے گا کیا تمہارے اندر کوئی صحابی ہے؟ جواباً کہا جائے گا جی ہاں! سو وہ فتح یاب ہو جائیں گے، اس کے بعد پھر جنگ ہو گی، اسی دوران پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے اندر کوئی تابعی ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں! چنانچہ وہ بھی فتح یاب ہو جائیں گے، اس کے بعد پھر لوگوں میں جنگ ہو گی، اسی دوران پوچھا جائے گا: کیا تمہارے اندر کوئی تبع تابعی ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں! تو وہ بھی فتح یاب ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اس امت کے پہلے ادوار کی شخصیات میں صلاحیت، فضیلت، برکت اور تائید ونصرت زیادہ تھی۔