حدیث نمبر: 12521
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: ”أَنَا وَمَنْ مَعِي.“ قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: ثُمَّ مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ!، قَالَ: ”الَّذِي عَلَى الْأَثَرِ.“ قِيلَ لَهُ: ثُمَّ مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ!، قَالَ: فَرَفَضَهُمْ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے افضل کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اور میرے ساتھ والے۔ پھر پوچھا گیا کہ ان کے بعد کون لوگ افضل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان سے بعد والے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ان کے بعد کون ہیں؟ تو آپ نے انس کو چھوڑ دیا (یعنی خاموش رہے)۔
حدیث نمبر: 12522
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”خَيْرُكُمْ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.“ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَا أَدْرِي ذَكَرَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ”ثُمَّ خَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ، يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے میرا زمانہ سب سے بہتر ہے، پھراس کے بعد والا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو بار اس چیز کا ذکر کیا یا تین بار، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد ایسے لوگ آئیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور بغیر گواہی طلب کیے وہ گواہیاں دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … موٹاپے کو پسند کرنے سے مراد یہ ہے کہ لوگ ماکولات و مشروبات پر بہت توجہ دیں گے، جس موٹاپے کا سبب بنتے ہیں، اور بعض لوگ تو واقعی مناسب حد تک موٹاپے کو پسند کرتے ہیں، سنگل باڈی اور سکڑو سے افراد کو پسند نہیں کیا جاتا۔
حدیث نمبر: 12523
(وَعَنْهَا أَيْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.“ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَقَالَ الثَّالِثَةَ أَمْ لَا، ”ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا سب سے بہترین زمانہ وہ ہے، جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے،پھر اس کے بعدوالا زمانہ افضل ہو گا، پھر اس کے بعد والا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد تیسرے زمانے کا ذکر کیا یا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد ایسے لوگ آجائیں گے، جو موٹاپے کو پسند کریں گے اور وہ گواہی دیں گے، جب کہ ان سے گواہی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 12524
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْلَى قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ بِالْأَهْوَازِ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيَّ عَلَى بَغْلٍ أَوْ بَغْلَةٍ، فَإِذَا هُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ ذَهَبَ قَرْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَأَلْحِقْنِي بِهِمْ، فَقُلْتُ: وَأَنَا فَأَدْخِلْ فِي دَعْوَتِكَ، قَالَ: وَصَاحِبِي هَذَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي مِنْهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.“ قَالَ: وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا، ”ثُمَّ تَخْلُفُ أَقْوَامٌ يَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ، يُهْرِيقُونَ الشَّهَادَةَ وَلَا يَسْأَلُونَهَا.“ قَالَ: وَإِذَا هُوَ بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن مولہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اہوا ز میں چلا جارہا تھااور میرے آگے آگے ایک آدمی خچر پر سوار یوں کہتا جارہا تھا: یا اللہ اس امت میں میرا زمانہ پورا ہوگیا ہے، اب تو مجھے میرے ساتھیوں کے ساتھ ملا دے، میں نے ان کی بات سن کر کہا: اور میں بھی، مجھے بھی اپنی دعامیں شامل کرو، اس نے کہا: اے اللہ! میرا یہ ساتھی بھی میرے ساتھ ہو،اگر یہ بھی اس بات کا متمنی ہے تو، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: میری امت میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والوں کا۔ اب میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسرے زمانے کا ذکر کیا تھا یا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعدایسے لوگ آجائیں گے، جن میں موٹاپا عام ہوگا، ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی، مگر وہ گواہی دیں گے۔ یہ آدمی سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس اور اگلے ابواب کا مفہوم بھی یہی ہے کہ بعد والے زمانوں کی بہ نسبت پہلے والے ادوار خیر و بھلائی پر مشتمل تھے، اُن ادوار میں بڑی بڑی نیکوکار ہستیاں موجود تھیں۔