کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے
حدیث نمبر: 12519
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا حَتَّى بُعِثْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں زمانہ بہ زمانہ بنی آدم کے بہترین زمانہ میں مبعوث ہوا ہوں، تاآنکہ میں اس دور میں آیا۔
وضاحت:
فوائد: … تاریخ انسانی میں سب سے زیادہ خیر و بھلائی والا زمانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دور تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12519
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3557 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9381»
حدیث نمبر: 12520
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ، قَالَ: فَانْتَظَرْنَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: ”مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا.“ قُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ!، قُلْنَا: نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ، قَالَ: ”أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ.“ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ: وَكَانَ كَثِيرًا مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: ”النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَتْ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ادا کی، اس کے بعد ہم نے سوچا کہ ہم انتظار کر لیں اور عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ادا کر لیں، سو ہم نے انتظار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کے وقت تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مغرب سے اب تک یہیں ٹھہرے ہوئے ہو؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! جی ہاں، ہم نے سوچا تھا کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ادا کرلیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر و بیشتر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تار ے آسمان کے محافظ ہیں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو اللہ نے آسمان کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے، وہ پورا ہوگا اور میں اپنے صحابہ کا محافظ ہوں، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ حالات پیش آ جائیں گے، جن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ میری امت کے محافظ ہیں،جب میرے صحابہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ شدید حالات درپیش ہوں گے، جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ صحابۂ کرام کے دور کے اواخر میں فتنہ و فساد اور بد امنی کی بعض صورتیں موجود تھیں، لیکن بعد والے ادوار کودیکھا جائے تو وہ بڑی خیر والا زمانہ تھا۔
قارئین کرام! اس اور اگلے باب کی احادیث کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی شریعت کی روشنی میں خیر و شرّ کے امور کی شناخت رکھتے ہوں، وگرنہ تو آج ہر ایک کا دعوی ہے کہ ہم چوں دیگرے نیست اور اسی لوگ بڑی سے آں۔ امت ِ مسلمہ شرّ اور بدی والے جس زمانے سے اب گزر رہی ہے،ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، لیکن مصیبت یہ ہے کہ شرّ کو شرّ قرار دینے کے لیے تیار کوئی نہیں ہے، ایک مثال یہ ہے کہ شریعت میں بے پردہ عورت کو دیکھنا منع ہے، لیکن اب سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، بازاروں، سیرگاہوں، شادی بیاہ کے موقعوں، لطف اندوزی کی صورتوں، اشتہاروں اور تعلیمی اداروں میں عورت کو دلہن شکل دے کر بلکہ نیم برہنہ کر کے اتنا عام کر دیا گیا کہ نسل نو تو کجا، بزرگ خواتین و حضرات کو یہ سمجھانا مشکل ہو گیا ہے کہ عورت کو دیکھنا گناہ ہے اور یہ سب گناہ کی صورتیں ہیں۔ اَلْعِیَاذُ بِاللّٰہِ (اللہ کی پناہ)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12520
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2531 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19795»