کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب ششم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
حدیث نمبر: 12512
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَرَرْنَا عَلَى مَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَنَاجَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ طَوِيلًا قَالَ ”سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سفر سے واپس ہوئے، ہمارا مسجد بنی معاویہ کے پاس سے گزر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے اندر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز ادا کی، ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کافی دیر تک اللہ سے مناجات کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں، میں نے ایک دعا یہ کی کہ اللہ میری امت کو غرق کے ذریعے ہلاک نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ وہ میری امت کو قحط کے ذریعے ہلاک نہ کرے،اللہ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی، میں نے تیسری دعا یہ کی کہ ان کا آپس میں اختلاف نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔
وضاحت:
فوائد: … کسی ایک خطے میں سخت قحط پڑ سکتا ہے اور کسی خطے میں لوگ پانی میں غرق بھی ہو سکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا سے مراد یہ ہے کہ ان آزمائشوں کی وجہ سے پوری امت ہلاک نہیں ہو گی، جیسا کہ پہلے والی امتیں مبتلا ہو جاتی تھیں۔
حدیث نمبر: 12513
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ”إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ وَلَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَفَعَلَ وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سفر میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی، نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج میں نے انتہائی رغبت اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نما ز پڑھی ہے، میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں،اس نے میری دو دعاؤں کو قبول اورایک کو قبول نہیں کیا، میں نے دعا کی کہ وہ میری امت کو قحط میں مبتلا نہ کرے،اس نے اسے قبول کر لیا، پھر میں نے دعا کی کہ ان کا دشمن ان پر غالب نہ آئے، اس نے یہ دعا بھی قبول کر لی اور میں نے دعا کی کہ ان کے آپس میں اختلافات نہ ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔
وضاحت:
فوائد: … کسی ایک ملک یا خطے کے لوگوں پر دشمنوں کا غلبہ ہو سکتا ہے، پوری امت کے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔
حدیث نمبر: 12514
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِيهِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ رَاقَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا حَتَّى كَانَ مَعَ الْفَجْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ جَاءَهُ خَبَّابٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَقَدْ صَلَّيْتَ اللَّيْلَةَ صَلَاةً مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ نَحْوَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ سَأَلْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى ثَلَاثَ خِصَالٍ فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ لَا يُهْلِكَنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَنَا فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا غَيْرَنَا فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ لَا يَلْبِسَنَا شِيَعًا فَمَنَعَنِيهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا خباب بن ارت سے روایت ہے، یہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں نے ساری رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نگاہ رکھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساری رات نماز پڑھنے میں گزاردی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کے وقت سلام پھیرا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آج رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی نماز پڑھی ہے کہ میں نے قبل ازیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے نہیں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ انتہائی رغبت اور اللہ سے ڈروالی نماز تھی،میں نے اپنے رب تعالیٰ سے تین دعائیں کیں تو اس نے دو کو قبول اور ایک کو رد کردیا، میں نے اپنے رب تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ہمیں ان عذابوں کے ساتھ ہلاک نہ کرے جن کے ساتھ اس نے گزشتہ قوموں کو ہلاک کیا تھا، تو اس نے یہ دعا قبول کرلی اور میں نے اپنے رب عزوجل سے دعا کی کہ وہ ہمارے دشمنوں کو ہم پر غالب نہ کرے، اس نے میری یہ دعا بھی قبول کرلی اور میں نے اپنے رب عزوجل سے دعاکی کہ وہ ہمارے درمیان آپس میں اختلافات نہ ڈالے، تو اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔
حدیث نمبر: 12515
عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَرْبَعًا فَأَعْطَانِي ثَلَاثًا وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَجْمَعَ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ كَمَا أَهْلَكَ الْأُمَمَ قَبْلَهُمْ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
صحابی ٔ رسول سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے چار دعائیں کی ہیں، اس نے تین کو قبول کر لیا اور ایک کو قبول نہ کیا، میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ میری امت کو گمراہی پراکٹھا نہ کرے، اس نے میری یہ دعا قبول فرمائی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ اس نے جس طرح گزشتہ اقوام کو قحط کے ذریعے ہلاک کیا تھا، میری امت کو اس طرح ہلاک نہ کرے، اس نے اسے بھی قبول کر لیا اور میں نے یہ دعا بھی کی کہ وہ میری امت کو آپس کے اختلافات میں نہ ڈالے، لیکن اس نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔
حدیث نمبر: 12516
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”اللَّهُمَّ مَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِي فَارْفُقْ بِهِ، وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ فَشُقَّ عَلَيْهِ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جو آدمی میری امت سے نرمی کا برتاؤ کرے تو بھی اس پرنرمی فرما اور جو آدمی ان سے سختی کرے اس پر تو بھی سختی فرما۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث حکمرانوں اور با اختیار لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے۔
حدیث نمبر: 12517
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ قَيْسٍ أَخِي أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ فَنَاءَ أُمَّتِي فِي سَبِيلِكَ بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا ابوبردہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو میری امت کی موت اس طرح بنا دے کہ وہ تیرے راستے میں نیزے کے ذریعے موت پائیں یا طاعون کے ذریعے۔
وضاحت:
فوائد: … نیز کے ذریعہ موت حقیقی شہادت ہے، مراد جہاد فی سبیل اللہ میں آنے والی موت ہے اور طاعون کی بیماری میں فوت ہونے والوں کا حکم شہادت کا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرنا چاہیے، لیکن اگر کوئی کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے تو وہ صبر کرے اور اللہ تعالیٰ کا شکوہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 12518
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنٌ لِكِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَاهُ الْعَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ لِأُمَّتِهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ فَأَكْثَرَ الدُّعَاءَ، فَأَجَابَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْ قَدْ فَعَلْتُ وَغَفَرْتُ لِأُمَّتِكَ إِلَّا مَنْ ظَلَمَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَقَالَ: يَا رَبِّ! إِنَّكَ قَادِرٌ أَنْ تَغْفِرَ لِلظَّالِمِ، وَتُثِيبَ الْمَظْلُومَ خَيْرًا مِنْ مَظْلَمَتِهِ، فَلَمْ يَكُنْ فِي تِلْكَ الْعَشِيَّةِ إِلَّا ذَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ دَعَا غَدَاةَ الْمُزْدَلِفَةِ فَعَادَ يَدْعُو لِأُمَّتِهِ، فَلَمْ يَلْبَثِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَبَسَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، ضَحِكْتَ فِي سَاعَةٍ لَمْ تَكُنْ تَضْحَكُ فِيهَا، فَمَا أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؟ قَالَ: ”تَبَسَّمْتُ مِنْ عَدُوِّ اللَّهِ إِبْلِيسَ حِينَ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ اسْتَجَابَ لِي فِي أُمَّتِي وَغَفَرَ لِلظَّالِمِ، أَهْوَى يَدْعُو بِالثُّبُورِ وَالْوَيْلِ، وَيَحْثُو التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ، فَتَبَسَّمْتُ مِمَّا يَصْنَعُ جَزَعُهُ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کے حق میں مغفرت و رحمت کی بہت سی دعائیں کیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے آپ کی یہ دعائیں قبول کر لیں ہیں اور میں نے آپ کی امت کی مغفرت کر دی ہے، البتہ لوگوں میں سے کوئی کسی پر ظلم کرے تو یہ جرم معاف نہ ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے رب! تو اس بات پر قادر ہے کہ ظالم کو معاف کر دے اور مظلوم کو اس کے ظلم کے بقدر بدلہ اپنی طرف سے عطا فرما دے۔ اس رات صرف اتنی با ت ہوئی،دوسرا دن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ کو صبح کی دوبارہ امت کے حق میں دعائیں کیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچانک مسکرانے لگ گئے، کسی صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے ایک ایسے وقت میں تبسم فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تبسم نہیں فرمایا کرتے تھے، اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسکراتا رکھے، اس مسکراہٹ کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کے دشمن ابلیس کی حالت دیکھ کر مسکرایا ہوں، جب اسے پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ نے امت کے حق میں میری دعا قبول کر لی ہے اور ظالم کو بھی بخشنے کا وعدہ کیا ہے تو وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اپنی ہلاکت و تباہی کی باتیں کرنے لگا اور اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا، تو میں اس کی پریشانی اور گھبراہٹ دیکھ کر مسکرا دیا۔