کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
حدیث نمبر: 12508
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”مَا مِنْ أُمَّتِي مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ قَالُوا وَكَيْفَ تَعْرِفُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَثْرَةِ الْخَلَائِقِ قَالَ ”أَرَأَيْتَ لَوْ دَخَلْتَ صَبْرَةً فِيهَا خَيْلٌ دُهْمٌ بُهْمٌ وَفِيهَا فَرَسٌ أَغَرُّ مُحَجَّلٌ أَمَا كُنْتَ تَعْرِفُهُ مِنْهَا“ قَالَ بَلَى قَالَ ”فَإِنَّ أُمَّتِي يَوْمَئِذٍ غُرٌّ مِنَ السُّجُودِ مُحَجَّلُونَ مِنَ الْوُضُوءِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز میں اپنی امت کے ہر فرد کو پہچان لوں گا۔ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس قدر لوگوں میں سے آپ اپنی امت کے لوگوں کو کیسے پہچان لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا خیال ہے، اگر تم کسی اصطبل میں جاؤ، وہاں خالص سیاہ فام گھوڑے ہوں اور ان میں ایک ایسا گھوڑا ہو، جس کی پیشانی اور چاروں پاؤں سفید ہوں، تو کیا تم اسے جلدی سے پہچان نہ لوگے؟ صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میری امت کے افراد کی پیشانی سجدہ کی وجہ سے اور ہاتھ پاؤں وضو کی وجہ سے چمکتے ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12508
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه مختصرا الترمذي: 607، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:17693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17845»
حدیث نمبر: 12509
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا مِنْ أُمَّتِي أَحَدٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ رَأَيْتَ وَمَنْ لَمْ تَرَ قَالَ ”مَنْ رَأَيْتُ وَمَنْ لَمْ أَرَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الطَّهُورِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اپنی امت کے ہر فرد کو پہچان لوں گا۔ صحابہ کرام نے کہاـ: اے اللہ کے رسول! خواہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کودیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو، ہر ایک کو پہچان لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے کسی کو دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو، وضو کی وجہ سے ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیوں کا بہت بڑا اعزاز ہے کہ وضو کی وجہ سے قیامت کے روز چہرہ، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں چمکتے ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12509
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير : 7509 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:22258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22612»
حدیث نمبر: 12510
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَأَنْظُرَ إِلَى بَيْنِ يَدَيَّ فَأَعْرِفَ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَمِينِي مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ شِمَالِي مِثْلُ ذَلِكَ“ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ فِيمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلَى أُمَّتِكَ قَالَ ”هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ لَيْسَ أَحَدٌ كَذَلِكَ غَيْرُهُمْ وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ وَأَعْرِفُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ذُرِّيَّتُهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور مجھے ہی سب سے پہلے سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی، میں اپنے سامنے دیکھوں گا تو ساری امتوں میں سے اپنی امت کو پہچان لوں گا، میرے پیچھے میری دائیں اور میری بائیں جانب، ہرطرف لوگ ہی لوگ ہوں گے۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ نوح علیہ السلام سے اپنی امت تک کی امتوں کے افراد میں سے اپنی امت کے لوگوں کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضو کی برکت سے ان کے وضو کے اعضا ء روشن ہوں گے، اس امت کے علاوہ کسی دوسری کا کوئی آدمی اس علامت کا حامل نہ ہوگا اور میری امت کے لوگوں کو ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور میں انہیں اس طرح بھی پہچان لوں گا کہ ان کی اولاد ان کے سامنے دوڑ رہی ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12510
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، دون قوله: واعرفھم انھم يؤتون كتبھم ۔ ، اخرجه الحاكم: 2/ 478، والبزار: 3457 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22080»
حدیث نمبر: 12511
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنِّي لَأَعْرِفُ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ قَالَ ”أَعْرِفُهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ وَأَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ وَأَعْرِفُهُمْ بِنُورِهِمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر اور سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں ساری امتوں میں سے اپنی امت کے لوگوں کو پہچان لوں گا۔ صحابہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں انہیں پہچان لوں گا، انہیں ان کے نامہ اعمال داہنے ہاتھوں میں ملیں گے اور سجدوں کی وجہ سے ان کے چہروں پر علامت ہو گی، میں اس علامت کی وجہ سے بھی انہیں پہچان لوں گا اور ان کے آگے آگے روشنی دوڑ رہی ہوگی،اس سے بھی میں انہیں پہچان لوں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12511
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21740 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22083»