کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
حدیث نمبر: 12503
عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ قَالَ شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ مَرِضَ ثَوْبَانُ بِحِمْصَ وَعَلَيْهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ فَلَمْ يَعُدْهُ فَدَخَلَ عَلَى ثَوْبَانَ رَجُلٌ مِنَ الْكَلَاعِيِّينَ عَائِدًا فَقَالَ لَهُ ثَوْبَانُ أَتَكْتُبُ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ اكْتُبْ فَكَتَبَ لِلْأَمِينِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ مِنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ لِمُوسَى وَعِيسَى مَوْلًى بِحَضْرَتِكَ لَعُدْتَهُ ثُمَّ طَوَى الْكِتَابَ وَقَالَ لَهُ أَتُبَلِّغُهُ إِيَّاهُ فَقَالَ نَعَمْ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِكِتَابِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى ابْنِ قُرْطٍ فَلَمَّا قَرَأَهُ قَامَ فَزِعًا فَقَالَ النَّاسُ مَا شَأْنُهُ أَحَدَثَ أَمْرٌ فَأَتَى ثَوْبَانَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَعَادَهُ وَجَلَسَ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ ثَوْبَانُ بِرِدَائِهِ وَقَالَ اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ”لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شریح بن عبید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حمص میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیمار پڑگئے، ان دنوں وہاں کا عامل عبداللہ بن قرط ازدی تھا، وہ ان کی عیادت کے لیے نہ آیا، جب بنو کلاع قبیلہ کا ایک آدمی سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آیا تو انھوں نے اس سے کہا: کیا تم لکھنا جانتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: لکھو، پھر انہوں نے یہ تحریر لکھوائی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم ثوبان رضی اللہ عنہ کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کے نام، امابعد! اگرتمہارے علاقہ میں موسی یا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی خادم ہوتا تو تم ضرور اس کی بیمار پرسی کو جاتے۔ پھر انہوں نے خط لپیٹ کر کہا: کیا تم یہ خط عبداللہ تک پہنچادو گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس جب اس آدمی نے جا کر وہ خط عبداللہ بن قرط کو دے دیا اور اس نے پڑھا تو وہ خوف زدہ سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا، لوگوں نے کہا: اسے کیا ہوا؟ کیا کوئی حادثہ پیش آگیا ہے؟ وہ ثوبان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا، ان کی عیادت کی اور کچھ دیر ان کی خدمت میں بیٹھا رہا، اس کے بعد اٹھ کر جانے لگا تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے اس کی چادر پکڑی اور کہا: بیٹھ جاؤ، میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں جائیں گے اور اس پر مستزاد یہ کہ ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ ستر آدمی ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ستر ہزار اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے یہ کل انچاس لاکھ اور ستر ہزار (۰۰۰،۷۰،۴۹) افراد بنتے ہیں، جو بغیر کسی حساب وکتاب اور باز پرس کے جنت کے وارث بن جائیں گے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے بہت سی امتیں دکھائی گئیں، میں نے دیکھا کہ کسی نبی کے ساتھ تو بہت بڑی جماعت ہے اور کسی نبی کے ساتھ صرف ایک یا دو آدمی ہیں اور ایسے نبی کو بھی دیکھا کہ جس کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا۔ اچانک میرے سامنے ایک انبوہِ کثیر آیا، میں نے خیال کیا کہ یہ میری امت ہو گی، لیکن مجھے کہا گیا کہ یہ موسی علیہ السلام اور ان کی قوم ہے۔
اس کے بعد میں نے ایک بہت بڑی تعداد کو دیکھا، مجھے بتلایا گیا: ھٰذِہٖ اُمَّتُکَ وَمَعَھُمْ سَبْعُوْنَ اَلْفًا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ۔ … یہ آپ کی امت ہے اور آپ کی امت میں ستر ہزار افراد وہ ہیں، جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔
یہ واقعہ سنا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے۔ پس صحابہ کرام آپس میں ان ستر ہزار کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے لگے۔ بعض کا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔بعض صحابہ کرام نے کہاکہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا، علاوہ ازیں صحابہ نے اور توجیہات بھی بیان کیں۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو صحابہ کرام نے اپنی مختلف آراء کا اظہار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُم الَّذِیْنَ لَایَسْتَرِقُوْنَ وَلَا یَکْتَوُوْنَ وَلَا یَتَطَیَّرُوْنَ وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔)) … یہ وہ لوگ ہوں گے جو دم نہیں کرواتے، نہ اپنے جسموں کو داغتے ہیں، نہ وہ فال لیتے ہیں اور اپنے اللہ پر ہی توکل کرتے ہیں۔ (بخاری، مسلم)
اس حدیث ِ مبارکہ میں بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے والوں کی نمایاں صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ شرک کی کسی بھی قسم میں مبتلا نہ ہوئے اور اپنی معمولی سے معمولی ضرورت کو غیر اللہ کے سامنے نہ رکھا، حتی کہ دم کرانے اور داغ لگوانے سے بھی گریز کیا۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ ان کا اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ تھا، اپنی مشکلات صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے علاوہ کسی کی طرف بھی ان کی توجہ نہ تھی، وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے، اس کے سوا کسی سے نہ ڈرتے تھے،ا ن کا عقیدہ تھا کہ جو مشکلات پیش آتی ہیں، وہ اللہ کی تقدیر اور اس کی مرضی کے مطابق آتی ہیں، لہٰذا وہ مصائب و مشکلات میں صرف اللہ تعالیٰ کو ہی پکارتے تھے، جیسا کہ یعقوب علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: {قَالَ اِنَّمَا اَشْکُوْ بَثِّیْ وَ حُزْنِیْ اِلَی اللّٰہِ} (سورۂ یوسف: ۸۶) … انھوں نے کہا: میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں کرتا۔
بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے والوں کی سب سے زیادہ تعداد درج ذیل حدیث میں بیان کی گئی ہے۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أُعْطِیْتُ سَبْعِیْنَ أَلْفًا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ، وُجُوْھُھُمْ کَالْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ، وَقُلُوْبُھُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَاسْتَزَدْتُّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَزَادَنِیْ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِیْنَ أَلْفًا۔)) قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: فَرَأَیْتُ أَنَّ ذٰلِکَ آتٍ عَلٰی أَھْلِ الْقُرٰی، وَمُصِیْبٌ مِنْ حَافَّاتِ الْبَوَادِیْ۔ … میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، ان کے چہرے بدر والی رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے اور ان کے دل ایک انسان کے دل کی مانند ہوں گے۔ جب میں نے اپنے ربّ سے مزید مطالبہ کیا تو اس نے ہر ایک کے ساتھ مزید ستر ہزار افراد کا اضافہ کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ چیز بستیوں والوں پر آئے گی اور دیہاتوں کے کناروں تک پہنچے گی۔
(مسند احمد: ۱/ ۶، صحیحہ: ۱۴۸۴)
اس حدیث کے مطابق چار ارب، نوے کروڑ اور ستر ہزار (۰۰۰،۷۰،۰۰،۹۰،۴) افراد حساب وکتاب کے بغیر جنت میں جائیں گے۔ (سبحان اللہ) یا اللہ! ہمارا بھی خیال رکھنا، تیرا رحم و کرم ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہے۔
لیکن درج ذیل حدیث میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی زیادہ وسعت نظر آ رہی ہے: سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَعَدَنِی رَبِّی سُبْحَانَہُ أَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی سَبْعِینَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَیَاتٍ مِنْ حَثَیَاتِ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ۔)) … میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں حساب اور عذاب کے بغیر ستر ہزار افراد کو جنت میں داخل کرے گا اور ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار بھی ہوں گے اور اس پر مستزاد یہ کہ میرے ربّ عزوجل کے تین چلو بھی ہوں گے۔ (ابن ماجہ: ۴۲۷۶) اللہ جانے کہ اس کے چلو میں کتنے محمدی سما جائیں گے۔
اس کے بعد میں نے ایک بہت بڑی تعداد کو دیکھا، مجھے بتلایا گیا: ھٰذِہٖ اُمَّتُکَ وَمَعَھُمْ سَبْعُوْنَ اَلْفًا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ۔ … یہ آپ کی امت ہے اور آپ کی امت میں ستر ہزار افراد وہ ہیں، جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔
یہ واقعہ سنا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے۔ پس صحابہ کرام آپس میں ان ستر ہزار کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے لگے۔ بعض کا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔بعض صحابہ کرام نے کہاکہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا، علاوہ ازیں صحابہ نے اور توجیہات بھی بیان کیں۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو صحابہ کرام نے اپنی مختلف آراء کا اظہار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُم الَّذِیْنَ لَایَسْتَرِقُوْنَ وَلَا یَکْتَوُوْنَ وَلَا یَتَطَیَّرُوْنَ وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ۔)) … یہ وہ لوگ ہوں گے جو دم نہیں کرواتے، نہ اپنے جسموں کو داغتے ہیں، نہ وہ فال لیتے ہیں اور اپنے اللہ پر ہی توکل کرتے ہیں۔ (بخاری، مسلم)
اس حدیث ِ مبارکہ میں بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے والوں کی نمایاں صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ شرک کی کسی بھی قسم میں مبتلا نہ ہوئے اور اپنی معمولی سے معمولی ضرورت کو غیر اللہ کے سامنے نہ رکھا، حتی کہ دم کرانے اور داغ لگوانے سے بھی گریز کیا۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ ان کا اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ تھا، اپنی مشکلات صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کے علاوہ کسی کی طرف بھی ان کی توجہ نہ تھی، وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے، اس کے سوا کسی سے نہ ڈرتے تھے،ا ن کا عقیدہ تھا کہ جو مشکلات پیش آتی ہیں، وہ اللہ کی تقدیر اور اس کی مرضی کے مطابق آتی ہیں، لہٰذا وہ مصائب و مشکلات میں صرف اللہ تعالیٰ کو ہی پکارتے تھے، جیسا کہ یعقوب علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: {قَالَ اِنَّمَا اَشْکُوْ بَثِّیْ وَ حُزْنِیْ اِلَی اللّٰہِ} (سورۂ یوسف: ۸۶) … انھوں نے کہا: میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں کرتا۔
بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے والوں کی سب سے زیادہ تعداد درج ذیل حدیث میں بیان کی گئی ہے۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أُعْطِیْتُ سَبْعِیْنَ أَلْفًا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ، وُجُوْھُھُمْ کَالْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ، وَقُلُوْبُھُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَاسْتَزَدْتُّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فَزَادَنِیْ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِیْنَ أَلْفًا۔)) قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: فَرَأَیْتُ أَنَّ ذٰلِکَ آتٍ عَلٰی أَھْلِ الْقُرٰی، وَمُصِیْبٌ مِنْ حَافَّاتِ الْبَوَادِیْ۔ … میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، ان کے چہرے بدر والی رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے اور ان کے دل ایک انسان کے دل کی مانند ہوں گے۔ جب میں نے اپنے ربّ سے مزید مطالبہ کیا تو اس نے ہر ایک کے ساتھ مزید ستر ہزار افراد کا اضافہ کر دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ چیز بستیوں والوں پر آئے گی اور دیہاتوں کے کناروں تک پہنچے گی۔
(مسند احمد: ۱/ ۶، صحیحہ: ۱۴۸۴)
اس حدیث کے مطابق چار ارب، نوے کروڑ اور ستر ہزار (۰۰۰،۷۰،۰۰،۹۰،۴) افراد حساب وکتاب کے بغیر جنت میں جائیں گے۔ (سبحان اللہ) یا اللہ! ہمارا بھی خیال رکھنا، تیرا رحم و کرم ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہے۔
لیکن درج ذیل حدیث میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی زیادہ وسعت نظر آ رہی ہے: سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَعَدَنِی رَبِّی سُبْحَانَہُ أَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِی سَبْعِینَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَیَاتٍ مِنْ حَثَیَاتِ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ۔)) … میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں حساب اور عذاب کے بغیر ستر ہزار افراد کو جنت میں داخل کرے گا اور ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار بھی ہوں گے اور اس پر مستزاد یہ کہ میرے ربّ عزوجل کے تین چلو بھی ہوں گے۔ (ابن ماجہ: ۴۲۷۶) اللہ جانے کہ اس کے چلو میں کتنے محمدی سما جائیں گے۔
حدیث نمبر: 12504
وَعَنْ سَهْلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا أَوْ قَالَ سَبْعَمِائَةِ أَلْفٍ بِغَيْرِ حِسَابٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ستر ہزار یا فرمایا سات لاکھ آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔
حدیث نمبر: 12505
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ هُبَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ يَقُولُ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ يَقُولُ غَابَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَنْ يَخْرُجَ فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَةً فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبِضَتْ فِيهَا فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ ”إِنَّ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى اسْتَشَارَنِي فِي أُمَّتِي مَاذَا أَفْعَلُ بِهِمْ فَقُلْتُ مَا شِئْتَ أَيْ رَبِّ هُمْ خَلْقُكَ وَعِبَادُكَ فَاسْتَشَارَنِي الثَّانِيَةَ فَقُلْتُ لَهُ كَذَلِكَ فَقَالَ لَا أُحْزِنُكَ فِي أُمَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ وَبَشَّرَنِي أَنَّ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ ادْعُ تُجَبْ وَسَلْ تُعْطَ فَقُلْتُ لِرَسُولِهِ أَوَمُعْطِيَّ رَبِّي سُؤْلِي فَقَالَ مَا أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ إِلَّا لِيُعْطِيَكَ وَلَقَدْ أَعْطَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَلَا فَخْرَ وَغَفَرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي وَمَا تَأَخَّرَ وَأَنَا أَمْشِي حَيًّا صَحِيحًا وَأَعْطَانِي أَنْ لَا تَجُوعَ أُمَّتِي وَلَا تُغْلَبَ وَأَعْطَانِي الْكَوْثَرَ فَهُوَ نَهْرٌ مِنَ الْجَنَّةِ يَسِيلُ فِي حَوْضِي وَأَعْطَانِي الْعِزَّ وَالنَّصْرَ وَالرُّعْبَ يَسْعَى بَيْنَ يَدَيْ أُمَّتِي شَهْرًا وَأَعْطَانِي أَنِّي أَوَّلُ الْأَنْبِيَاءِ أَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَطَيَّبَ لِي وَلِأُمَّتِي الْغَنِيمَةَ وَأَحَلَّ لَنَا كَثِيرًا مِمَّا شَدَّدَ عَلَى مَنْ قَبْلَنَا وَلَمْ يَجْعَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے پورا دن غائب رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف نہ لائے، ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اب باہر بالکل نہیں آئیں گے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے آئے اور آتے ہی اس قدر طویل سجدہ کیا کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض کر لی گئی ہے، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: میرے رب نے مجھ سے میری امت کے بارے میں مشورہ لیاہے کہ میں ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کروں؟ میں نے کہا: اے میرے رب! وہ تیری مخلوق اور بندے ہیں، تو ان کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے، کر سکتا ہے، اللہ نے دوبارہ مجھ سے مشورہ لیا، میں نے پھر اسی طرح کہا، پھر اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا: اے محمد! میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی امت کے بارے میں غمگین نہیں کروں گا اور اس نے مجھے بشارت دی کہ سب سے پہلے میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ان میں سے ہر ہزار افراد کے ساتھ ستر ہزار آدمی بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی کہ آپ کوئی دعا کریں، قبول ہوگی، کچھ مانگیں آپ کو دیا جائے گا، میں نے اللہ کے فرستادے یعنی فرشتے سے کہا: کیا میں جو سوال کروں گا، میرا رب مجھے ضرو ر دے گا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا اسی لیے ہے کہ آپ جو سوال بھی کریں گے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دے دے گا۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، اس نے میرے اگلے پیچھے گناہ معاف کر دئیے ہیں اور میں تندرست صحیح چلتا ہوں اور اس نے مجھے یہ خصوصیت بھی دی ہے کہ میری امت قحط سے نہیں مرے گی اور نہ دشمن اس پر غالب آئے گا اور اللہ نے مجھے کو ثر سے نوازا ہے، یہ ایک نہر ہے، جو جنت سے بہہ کر میرے حوض میں گرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت اور نصرت عطا فرمائی ہے اور میری امت کا رعب اس سے ایک مہینہ کی مسافت کے برابر آگے آگے چلتا ہے اور اللہ نے مجھے یہ فضیلت بھی دی ہے کہ انبیائے کرام میں سے میں سب سے پہلے جنت میں جاؤں گا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اور میری امت کے لیے غنیمت کو حلال ٹھہرا یا ہے اور ہم سے پہلے لوگوں پر جو سخت احکامات نازل ہوئے تھے ان میں سے بہت سے ہمارے لیے حلال کر دئیے اور ہم پر کوئی مشقت یا تنگی مقرر نہیں کی۔
حدیث نمبر: 12506
عَنْ أَنَسٍ أَوْ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَ مِائَةِ أَلْفٍ“ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”وَهَكَذَا“ وَجَمَعَ كَفَّهُ قَالَ زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”وَهَكَذَا“ فَقَالَ عُمَرُ حَسْبُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ دَعْنِي يَا عُمَرُ مَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ كُلَّنَا فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ أَدْخَلَ خَلْقَهُ الْجَنَّةَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”صَدَقَ عُمَرُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہاـ: اے اللہ کے رسول! اس تعداد میں ہمارے لیے اضافہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی کو جمع کر کے فرمایا: اور اس طرح۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس تعداد میں ہمارے لیے اضافہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اس طرح۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو بکر! تمہیں یہ کافی ہے، اب بس کرو، لیکن سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر! تم مجھے چھوڑو، اور درخواست کر لینے دو، اگر اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت میں داخل کرے تو آپ کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک ہی ہتھیلی سے اپنی ساری مخلوق کو جنت میں داخل کر دے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔
حدیث نمبر: 12507
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَكْثَرْنَا الْحَدِيثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ غَدَوْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ ”عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ اللَّيْلَةَ بِأُمَمِهَا فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ النَّفَرُ وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى مَعَهُ كَبْكَبَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَعْجَبُونِي فَقُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ فَقِيلَ لِي هَذَا أَخُوكَ مُوسَى مَعَهُ بَنُو إِسْرَائِيلَ قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ أُمَّتِي فَقِيلَ لِي انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا الظِّرَابُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ ثُمَّ قِيلَ لِي انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ فَقِيلَ لِي أَرَضِيتَ فَقُلْتُ رَضِيتُ يَا رَبِّ رَضِيتُ يَا رَبِّ قَالَ فَقِيلَ لِي إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِدًا لَكُمْ أَبِي وَأُمِّي إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ الْأَلْفِ فَافْعَلُوا فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ثَمَّ نَاسًا يَتَهَاوَشُونَ“ فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنَ السَّبْعِينَ فَدَعَا لَهُ فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ ”قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ“ قَالَ ثُمَّ تَحَدَّثْنَا فَقُلْنَا مَنْ تَرَوْنَ هَؤُلَاءِ السَّبْعُونَ الْأَلْفَ قَوْمٌ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا حَتَّى مَاتُوا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک رات ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کا فی دیر تک باتیں کیں، پھر جب صبح کو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات تمام انبیاء اور ان کی امتیں میرے سامنے پیش کیے گئے، کسی نبی کے ساتھ تین آدمی تھے، کسی کے ساتھ چھوٹی سی جماعت، کسی کے ساتھ چھوٹا سا گروہ تھا اور کچھ نبی ایسے بھی تھے کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھی نہیں تھا، یہاں تک کہ میرے سامنے سے موسیٰ علیہ السلام گزرے اور ان کے ساتھ بنو اسرائیل کی ایک بڑی جماعت تھی، وہ لوگ مجھے بڑے اچھے لگے،میں نے پوچھا:یہ کون لوگ ہیں؟ مجھے بتلایا گیا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی قوم بنو اسرائیل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے پوچھا کہ میری امت کہاں ہے؟ مجھ سے کہا گیا کہ آپ اپنی دائیں جانب دیکھیں، میں نے دیکھاتو وہاں ایک بہت بڑا ہجوم ساتھا، جو لوگوں کے چہروں سے بھر ا ہوا تھا، پھر مجھے کہا گیا: اپنی بائیں جانب دیکھیں، میں نے دیکھا تو اس طرف والا افق لوگوں سے بھرا ہوا تھا، پھر مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اب راضی ہیں؟ میں نے کہا: جی میں راضی ہوں، اے میرے رب! میں راضی ہوں، اے میرے ربّ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان امتیوں کے ساتھ ستر ہزار لوگ ایسے ہیں، جو حساب کے بغیر جنت میں جائیں گے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ماں باپ تم لوگوں پر فدا ہوں، اگر ہوسکے تو تم ان ستر ہزار میں سے بننے کی کوشش کرو اور اگر اس قدرمحنت نہ ہو سکے تو کم از کم اس ہجوم والوں میں سے ہی بننے کی کوشش کرو اور اگر اتنا بھی نہ ہوسکے تو افق والوں میں سے بننے کی کوشش کرو، میں نے وہاں کچھ لوگوں کو دھکم پیل کرتے بھی دیکھا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان ستر ہزار والوں میں سے مجھے بھی بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی، اتنے میں ان کے بعد ایک اور آدمی کھڑ اہوا اور اس نے بھی یہی درخواست کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ رضی اللہ عنہ تم سے سبقت لے گیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر ہم باتوں میں مصروف ہوگئے اور ہم نے کہا کہ اس بارے میں کیا خیال ہے کہ یہ ستر ہزار آدمی کون ہوسکتے ہیں، کیا یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے اور پھر مرتے دم تک شرک کے قریب نہیں گئے؟ جب یہ باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جو نہ زخموں کو داغتے ہیں،نہ دم جھاڑ کرتے ہیں اور نہ بد فالی یا بد شگونی لیتے ہیں، بلکہ اپنے رب پر مکمل توکل کرتے ہیں۔