کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
حدیث نمبر: 12494
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لِعَدُوِّهِمْ قَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ إِلَّا مَا أَصَابَهُمْ مِنْ لَأْوَاءَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيْنَ هُمْ قَالَ ”بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَكْنَافِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ قیامت تک دین پر ثابت قدم اور دشمن پر غالب رہے گا، ان سے اختلاف کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، سوائے اس کے کہ انہیں کچھ معاشی تنگدستی کا سامنا کرنا پڑے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا اوروہ اسی حالت پر ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ بیت المقدس اور اس کے گرد و نواح میں ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12494
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره دون قوله: قالوا: يا رسول الله، واين ھم وھذا اسناد ضعيف لجھالة عمرو بن عبد الله السيباني الحضرمي، اخرجه الطبراني في الكبير : 7643 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22676»
حدیث نمبر: 12495
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَلَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطافرما دیتا ہے،مسلمانوں میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور وہ قیامت تک اپنے مخالفین پر غالب رہیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12495
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16849 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16974»
حدیث نمبر: 12496
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ذَكَرَ حَدِيثًا رَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَسْمَعْهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا غَيْرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَلَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل شام میں بگاڑ آگیا تومسلمانوں میں کوئی خیر نہیں رہے گی میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ رہے گا، جنہیں اللہ کی نصرت حاصل رہے گی، ان کی مخالفت کرنے والے ان کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت بپا ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12496
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 71، 3116، ومسلم: 1037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16849 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16974»
حدیث نمبر: 12497
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ هَانِئٍ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً بِأَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ أَوْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ“ فَقَامَ مَالِكُ بْنُ يَخَامِرٍ السَّكْسَكِيُّ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَقُولُ وَهُمْ أَهْلُ الشَّامِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَرَفَعَ صَوْتَهُ هَذَا مَالِكٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذًا يَقُولُ وَهُمْ أَهْلُ الشَّامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمیر بن ہانی سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا وہ اس منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ قیامت تک اللہ کے حکم سے موجود رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے،بلکہ وہ لوگوں پر غالب رہیں گے۔ مالک بن یخامر سکسکی نے کہا: اے امیر المومنین! میں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ اس حدیث کا مصداق اہل شام ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے کہا: یہ مالک کہہ رہا ہے کہ اس نے سیدنا معا ذ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ اس گروہ سے مراد اہل شام ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12497
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17056»
حدیث نمبر: 12498
عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَزَالُ الْأُمَّةُ عَلَى الشَّرِيعَةِ مَا لَمْ يَظْهَرْ فِيهَا ثَلَاثٌ مَا لَمْ يُقْبَضِ الْعِلْمُ مِنْهُمْ وَيَكْثُرْ فِيهِمْ وَلَدُ الْحِنْثِ وَيَظْهَرْ فِيهِمُ الصَّقَّارُونَ“ قَالَ وَمَا الصَّقَّارُونَ أَوْ الصَّقْلَاوُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”بَشَرٌ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ تَحِيَّتُهُمْ بَيْنَهُمُ التَّلَاعُنُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن انس جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت شریعت پر ثابت قدم رہے گی، جب تک ان میں یہ تین باتیں ظاہر نہ ہو جائیں گی: (۱) علم کا اٹھ جانا، (۲) زنا کی یعنی حرامی اولاد کی کثرت ہو جانا اور صَقَّارُون کا ظاہر ہونا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! صقارون سے کون لوگ مرادہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخر زمانہ میں ایسے لوگ آئیں گے، جو ملاقات کے وقت سلام کی بجائے ایک دوسرے کو گالیاں دیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12498
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف زبان بن فائد وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه، اخرجه الطبراني في الكبير : 20/ 439 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15713»
حدیث نمبر: 12499
وَعَنْ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَغْرِسُ فِي هَذَا الدِّينِ بِغَرْسٍ يَسْتَعْمِلُهُمْ فِي طَاعَتِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو عتبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس دین میں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا، جن کو وہ اپنی اطاعت کے لیے استعمال کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12499
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه ابن ماجه: 8 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:17787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17940»
حدیث نمبر: 12500
عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“ قَالَ ”فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ بِنَا فَيَقُولُ لَا إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أَمِيرٌ لِيُكْرِمَ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور وہ قیامت تک دوسروں پر غالب رہیں گے، یہاں تک کہ جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا، تو اس گروہ کا امیر ان سے کہے گا: تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں، لیکن وہ جواباً کہیں گے:تم ہی ایک دوسرے پر امیر ہو (لہٰذا تم خود نماز پڑھاؤ)، یہ دراصل اللہ تعالیٰ اس امت کو عزت دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12500
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابويعلي: 2078 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:14720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14777»
حدیث نمبر: 12501
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”لَنْ يَزَالَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت بپا ہو جائے گی اور وہ اسی طرز عمل پر ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12501
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، اخرجه ابن ماجه: 7، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:8484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8465»
حدیث نمبر: 12502
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَيَنْزِلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ اپنے مخالفین پر ہمیشہ غالب رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر یعنی قیامت آجائے گی اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … امام بخاری نے کہا: اس جماعت سے مراد اہل علم ہیں۔
امام احمد نے کہا: اِنْ لَّمْ یَکُوْنُوْا اَھْلَ الْحَدِیْثِ فَلَا اَدْرِیْ مَنْ ھُمْ۔ یعنی: اگر اس جماعت سے مراد اہل الحدیث (یعنی محدثین) نہیں ہیں، تو میں نہیں جانتا کہ کون مراد ہیں۔
قاضی عیاض نے کہا: اِنَّمَا اَرَادَ اَحْمَدُ اَہْلَ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ وَمَنْ یَعْتَقِدُ مَذَہْبَ اَہْلِ الْحَدِیْثِ۔ یعنی: امام احمد کی مراد اہل السنہ والجماعہ ہیں اور وہ لوگ ہیں جو اہل الحدیث کے منہج کے پیروکار ہوں۔
امام نووی نے کہا: ممکن ہے کہ یہ طائفہ مومنوں کی متعدد جماعتوں پر مشتمل ہو، مثلا: بہادری والے، بصیرت والے، فقیہ، محدث، مفسر، آمر بالمعروف، ناہی عن المنکر، زاہد اور عابد۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ ایک علاقے میں جمع ہوں۔ (دیکھئے: فتح الباری: ۱۳/ ۳۶۳، ۳۶۵، عون المعبود: حدیث: ۲۴۸۴)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جو لوگ علم و عمل کی صورت میں قرآن و حدیث کی خدمت اور ان کا تحفظ کرتے رہے، وہ اس خوشخبری کے مستحق ہیں۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: عجیب حسنِ اتفاق ہے کہ اس حدیث ِ مبارکہ کا محل متعین کرتے ہوئے ہر دور اور زمانہ کے نیز ہر طبقہ کے محدثین کرام متفق نظر آتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل، امام بخاری، امام علی بن مدینی، یزید بن ہارون اور متأخرین میں سے خطیب بغدادی وغیرہ، کوئی بھی اختلاف کرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ الفاظ اگرچہ مختلف ہیں، مگر مسمّی ایک ہی ہے۔ ایسا زبردست اتفاق شاید ہی کسی حدیث کی توضیح و تعبیر میں دیکھنے میں آیا ہو۔ بعض لوگ اس اختصاص پر چیں بجبیں ہوتے ہیں اور اہل حدیث کے تذکرہ سے سخت کبیدہ خاطر ہوتے ہیں، مگر انہیں دو باتیں ذہن نشین کر لینی چاہئیں۔ ایک یہ کہ حدیث و سنت کے ساتھ والہانہ شغف، حدیث و سنت کے جملہ علوم کے ساتھ حد درجہ اعتنا و توجہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت و اخلاق اور غزوات و سرایا نیز حدیث پڑھنے پڑھانے میں یہ محدثین سب لوگوں سے فائق ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ صدر اول کے بعد امت مرحومہ کئی فرقوں میں بٹ گئی، ہر مذہب والوں نے اپنے اصول و فروع مقرر کر لئے اور مسلک کی رو رعایت کرتے ہوئے مخصوص احادیث سے استدلال کرنے لگے اور دوسری طرف نگاہ اٹھانا ہی گوارہ نہ کیا۔ مگر قربان جائیے اہل حدیث پر، ان کے ماتھے کا جھومر اور مانگ کا سیندور ہمیشہ فرمودۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہا ہے۔ انہوں نے فرمانِ رسول کو ہمیشہ سینے سے لگایا ہے، خواہ روایت کرنے والا شیعہ ہو یا قدریہ یا خارجی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والا ہے، حنفی اور مالکی وغیرہ ہونا تو دوسری بات ہے، بشرطیکہ وہ عادل مسلم اور ثقہ ہو۔ اہل حدیث کسی دھڑے بندی اور گروہی تعصب کا شکار نہیں ہوئے۔ حدیث ِ رسول ہی ان کا مطمح نظر رہا۔ فللہ درھم۔
ہم اپنی گفتگو کو حنفی سرخیل عالم مولانا محمد عبد الحئی لکھنوی کی بات پر ختم کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص بنظرِ انصاف دیکھے، فقہ و اصول کے سمندر میں تنگ نظری کے بغیر غوطہ خوری کرے تو اسے یقین کامل ہو جائے گا کہ اختلافی مسائل، خواہ ان کا تعلق اصول سے ہو یا فروع سے، ان میںمحدثین کرام کا مؤقف محفوظ، قوی اور بادلائل ہے۔ میں نے جب اختلافی مسائل میں تحقیق و تدقیق سے کام لیا تو محدثین کی بات کو قرین انصاف پایا ہے۔
بھلا ایسا کیوں نہ ہو، وہ وارثانِ علوم نبوت اور نائبینِ شرعیت ِ محمدی ہیں۔ مولائے کریم ہمیں ان کی رفاقت کے شرفِ عظیم سے بہرہ ور فرمائیں اور ان کی محبت و کردار کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائیں۔ (ملخص از صحیحہ: ۲۷۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12502
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابوداود: 2484، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20091»