کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
حدیث نمبر: 12487
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوٌ مِنْ أَرْبَعِينَ فَقَالَ ”أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ ”أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا أَنْتُمْ فِي الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَحْمَرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم تقریباً چالیس آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک قبہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ اس بات پر راضی ہو کہ اہل جنت کا چوتھا حصہ تم لوگ ہو گے۔ ہم نے عرض کی: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہاری تعداد اہل جنت کا تیسراحصہ ہو؟ ہم نے کہا:جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھی تعداد تمہاری ہوگی، اس لیے کہ جنت میں وہی لوگ جائیں گے جو مسلمان ہوں گے اور اہل شرک کے بالمقابل تمہاری تعداد یوں ہے، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر سفید بال ہو یا سرخ بیل کی جلد پر سیاہ بال ہو۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی دو امتیازی خصوصیات بھی ہیں کہ اس کی عمر بھی زیادہ ہے اور ایک وقت میں اس کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوتی ہے،اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی پندرہویں صدی جاری ہے اور تعداد کم و بیش سوا ارب سے زیادہ ہے۔ ان خصوصیات کا یہ نتیجہ تو واضح ہے کہ جنت میں بھی اس کی تعداد زیادہ ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12487
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6642ومسلم: 376، 378 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3661»
حدیث نمبر: 12488
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَيْفَ أَنْتُمْ وَرُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَكُمْ رُبُعُهَا وَلِسَائِرِ النَّاسِ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِهَا“ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”فَكَيْفَ أَنْتُمْ وَثُلُثَهَا“ قَالُوا فَذَاكَ أَكْثَرُ قَالَ ”فَكَيْفَ أَنْتُمْ وَالشَّطْرَ“ قَالُوا فَذَلِكَ أَكْثَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَهْلُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ أَنْتُمْ مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت کیا عالم ہوگا، جب جنت میں ایک چوتھائی تم لوگ ہو گے، پوری جنت کا چوتھا حصہ صرف تمہارے لیے اور تین چوتھائی باقی ساری امتوں کے لیے۔ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا، جب جنت میں ایک تہائی تعداد تمہاری ہوگی؟ صحابہ نے کہا: تب تو پہلے سے بھی زیادہ ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں تمہاری ہوں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12488
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه البزار: 3534، وابويعلي: 5358، والطبراني في الكبير : 10350 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4328 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4328»
حدیث نمبر: 12489
وَعَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ مِنْهُمْ ثَمَانُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ“ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً ”أَنْتُمْ مِنْهُمْ ثَمَانُونَ صَفًّا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں اس میری امت کے لوگوں کی ہوں گی۔
وضاحت:
فوائد: … جنت کی ایک صف میں کتنے افراد ہوں گے، کوئی بھی اس کا اندازہ نہیں لگا سکتا، ما سوائے اللہ تعالیٰ کے
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12489
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 2546، وابن ماجه: 4289 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23328»
حدیث نمبر:
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
حدیث نمبر: 12491
عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ يَتَّبِعُنِي مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ قَالَ فَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ ”أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا ثُلُثَ النَّاسِ“ قَالَ فَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ ”أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الشَّطْرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: مجھے امید ہے کہ میری امت میں سے میری اتباع کرنے والے قیامت کے دن کل اہل جنت کا چوتھا حصہ ہوں گے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:یہ سن کر ہم نے خوشی سے اللہ اکبر کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے پیروکار اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہوں گے۔ یہ سن کر ہم نے خوشی سے پھر اللہ اکبر کہا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے متبعین ا ہل جنت کی کل تعداد کا نصف ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12491
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه الطبراني في الاوسط : 9078 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14781»
حدیث نمبر: 12492
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِآدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قُمْ فَجَهِّزْ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدًا إِلَى الْجَنَّةِ“ فَبَكَى أَصْحَابُهُ وَبَكَوْا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ“ فَخَفَّفَ ذَلِكَ عَنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا: تم اٹھو اور اپنی اولاد کے ہر ہزار افراد میں سے نو سو ننانوے آدمی جہنم کے لیے اور ایک جنت کے لیے الگ کردو۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین رونے لگ گئے، اس کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے سر اوپر اٹھاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میر ی جان ہے! دوسری امتوں کے مقابلے میں میری امت کی مثال ایسے ہے، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال ہو۔ یہ سن کر صحابہ کا غم کچھ ہلکا ہوا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12492
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27489 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28037»
حدیث نمبر: 12493
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ آدَمُ فَيُقَالُ هَذَا أَبُوكُمْ آدَمُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ فَيَقُولُ لَهُ رَبُّنَا أَخْرِجْ نَصِيبَ جَهَنَّمَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَكَمْ فَيَقُولُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ“ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ فَمَاذَا يَبْقَى مِنَّا قَالَ ”إِنَّ أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو لا کر کہا جائے گا: یہ تمہارا باپ آدم علیہ السلام ہے، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب! میں حاضر ہوں، پھر ہمارا رب ان سے فرمائے گا: تم اپنی اولاد میں سے جہنم کا حصہ الگ کر دو، وہ کہیں گے:اے میرے رب! کتنا حصہ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر سو میں سے ننانوے۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہر سو میں ننانوے نکل گئے تو جنت میں جانے کے لیے ہم میں سے کتنے باقی بچیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: باقی امتوں کے بالمقابل میری امت یوں ہوگی، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ ایک حدیث درج ذیل ہے: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَقُولُ اللّٰہُ تَعَالٰی یَا آدَمُ فَیَقُولُ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ فِی یَدَیْکَ فَیَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَتِسْعِینَ فَعِنْدَہُ یَشِیبُ الصَّغِیرُ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَارٰی وَمَا ہُمْ بِسُکَارٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیدٌ۔)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَأَیُّنَا ذٰلِکَ الْوَاحِدُ قَالَ: ((أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْکُمْ رَجُلًا وَمِنْ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا۔)) ثُمَّ قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنِّی أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَکَبَّرْنَا فَقَالَ: ((أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَکَبَّرْنَا فَقَالَ: ((أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا نِصْفَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) فَکَبَّرْنَا فَقَالَ: ((مَا أَنْتُمْ فِی النَّاسِ إِلَّا کَالشَّعَرَۃِ السَّوْدَائِ فِی جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْیَضَ أَوْ کَشَعَرَۃٍ بَیْضَائَ فِی جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ۔)) … اللہ تعالیٰ (قیامت کے روز) فرمائے گا: اے آدم! وہ عرض کریں گے: جی میں حاضر ہوں اور شرف یاب ہوں اور ہر طرح کی بھلائی سب تیرے ہاتھ میں ہے، اللہ فرمائے گا: دوزخ میں جانے والا لشکر نکالو، وہ عرض کریں گے: دوزخ کا کتنا لشکر ہے؟ اللہ فرمائے گا: ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے دوزخ میں اور ایک جنت میں جائے گا، پس وہ ایسا وقت ہوگا کہ (خوف کے مارے) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا اور تو لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہونگے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ (جنت میں فی ہزار ایک جانے والا) ہم میں سے کون ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، کیونکہ تم میں سے ایک آدمی ہوگا اور یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو گے۔ ہم لوگوں نے اللہ اکبر کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو گے۔ ہم نے پھر تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ ہو گے (یعنی نصف تم اور نصف دوسرے لوگ)۔ ہم نے پھر تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو اور لوگوں کے مقابلہ میں ایسے ہو جیسے سیاہ بال سفید بیل کے جسم پر یا سفید بال سیاہ بیل کے جسم پر۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12493
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6529 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8913 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8900»