حدیث نمبر: 12467
عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ يَزِيدَ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا سَمِعْتُهُ يُكَنِّيهِ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا يَقُولُ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا عِيسَى إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً إِنْ أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ حَمِدُوا اللَّهَ وَشَكَرُوا وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ قَالَ يَا رَبِّ كَيْفَ هَذَا لَهُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ قَالَ أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا،راویہ ام درداء کہتی ہیں: میں نے ابودرداء کو اس سے پہلے یا اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کنیت کے ساتھ کرتے نہیں سنا، بہرحال وہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تیرے بعد ایک ایسی امت بھیجنے والا ہوں، اگر ان کو وہ چیز ملے جس سے وہ محبت کرتے ہوں، تو وہ میری حمد کریں گے اور شکر بجا لائیں گے اور اگر ان کو ایسے احوال پیش آئیں، جو بظاہر انہیں ناپسند ہوں گے، تب بھی وہ صبر کریں گے اور ثواب کی امید رکھیں گے اور ان کے پاس نہ بردباری ہو گی اور نہ علم ہوگا، عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب! جب ان کے پاس حلم اور علم نہ ہوگا تو مذکورہ خصائص ان میں کیسے آئیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنی طرف سے انہیں حلم اور علم سے نواز دوں گا۔
حدیث نمبر: 12468
عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أَنْتُمْ تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ عَامًا وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ وَإِنَّهُ لَكَظِيظٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاویہ بن جیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم امتوں کے ستر کے عدد کو پورا کرنے والے ہو، ان میں سے تم سب سے آخری اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے معزر اور مکرم ہو،جنت کے دروازوں کی جانبی لکڑیوں کے مابین چالیس برس کی مسافت ہے، لیکن جنت کے دروازے اس قدر وسیع ہونے کے باوجود تمہارے رش کی وجہ سے تنگ پڑجائیں گے۔
حدیث نمبر: 12469
عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ فُضِّلَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ بِثَلَاثٍ جُعِلَتْ لَهَا الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا وَجُعِلَتْ صُفُوفُهَا عَلَى صُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَا ”وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي“ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس امت کو باقی امتوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے: اس کے لیے پوری زمین کو ذریعۂ طہارت یعنی وضو کے قائم مقام تیمم کا ذریعہ اور عبادت گاہ بنایا گیا ہے اور اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند بنائی گئی ہیں، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مزید بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سورۂ بقرہ کی آخری آیات مجھے عرش کے نیچے والے خزانوں میں سے عطا کی گئی ہیں، ایسا خزانہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔ اس حدیث کا ایک راوی ابومعاویہ کہتا ہے کہ یہ ساری باتیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ بقرہ کی آخری آیات سے مراد {آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ} سے سورت کے آخر تک دو آیات ہیں۔
حدیث نمبر: 12470
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالرِّفْعَةِ وَالدِّينِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ“ وَهُوَ يَشُكُّ فِي السَّادِسَةِ قَالَ ”فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ نَصِيبٌ“ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي أَبُو سَلَمَةَ هَذَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ أَخُو عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت کو اللہ کے ہاں قدرو منزلت، بلند مرتبت، دین داری، تائید و نصرت اور زمین پر غلبہ کی بشارت دے دیں۔ راوی کو یہ پانچ چیزیں یاد رہیں اور چھٹی اس کے ذہن سے محو ہوگئی،اس کے بارے میں اسے شک ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت کا جوآدمی آخرت کا عمل دنیا کے لیے کرے گا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ عبداللہ کہتے ہیں: میرے والد نے بتلایا کہ اس حدیث کے راوی ابو سلمہ کا اصل نام مغیرہ بن مسلم ہے اور وہ عبدالعزیز بن مسلم قسملی کا بھائی ہے۔
حدیث نمبر: 12471
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ إِنَّمَا عَذَابُهُمْ فِي الدُّنْيَا الْقَتْلُ وَالْبَلَابِلُ وَالزَّلَازِلُ“ قَالَ أَبُو النَّضْرِ بِالزَّلَازِلِ وَالْقَتْلِ وَالْفِتَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت پر رحمت کر دی گئی ہے، اسے آخرت میں عذاب نہیں دیا جائے گا، میرے امتیوں کا عذاب دنیا میں قتل، پریشانیوں، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں ہے۔
حدیث نمبر: 12472
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ إِلَّا عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا الْقَتْلُ وَالْبَلَاءُ وَالزَّلَازِلُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت پر اللہ کی خصوصی رحمت ہے، آخرت میں اس پر کوئی عذاب نہیں ہو گا، اس کا عذاب تو دنیا میں قتل، پریشانیوں اور زلزلوں کی صورت میں ہے۔
حدیث نمبر: 12473
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ أَمَانَانِ كَانَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُفِعَ أَحَدُهُمَا وَبَقِيَ الْآخَرُ {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ} [الأنفال: 33]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اس امت کو دو ضمانتیں حاصل تھیں، اب ان میں سے ایک ضمانت تو اٹھا لی گئی ہے اور دوسری ابھی تک باقی ہے، امان کی ان دو قسموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنْتَ فِیہِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ} … اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا، اس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن و امان کے دو اسباب تھے، ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی اور دوسرا استغفار، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے ایک سبب ختم ہو چکا ہے اور استغفار کا سبب باقی ہے۔ اس آیت سے استغفار کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔
حدیث نمبر: 12474
عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَنْ يَجْمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ سَيْفَيْنِ سَيْفًا مِنْهَا وَسَيْفًا مِنْ عَدُوِّهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں ہرگز جمع نہیں فرمائے گا،ایک تلوار اس امت کی اپنی اور دوسری دشمن کی۔
وضاحت:
فوائد: … امت ِمسلمہ کی تاریخ یہی ہے کہ جب تک خارجی دشمنوں سے مقابلہ جاری رہا، اس وقت تک اندرونی دشمنوں سے نجات ملی رہی۔
حدیث نمبر: 12475
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ وَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میر ی امت کے دوگروہوں کو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے محفوظ کر لیا ہے، ایک وہ گروہ، جو ہندوستان پر حملہ کرے گا اور دوسرا وہ گروہ، جو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … مولانا عطاء اللہ بھوجیانی نے کہا: سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ۴۴ ھ میں مسلمانوں نے ہند پر چڑھائی کی تھی، پھر چوتھی سن ہجری میں محمود غزنوی نے بلادِ ہند میںجہاد کیا اور کافروں کو قتل کیا اور قیدی بنایا اور سومنات میں داخل ہو کر بڑے بت کو توڑا، جس کی وہ عبادت کرتے تھے، پھر وہ امن و سلامتی کے ساتھ لوٹ گئے۔ (التعلیقات السلفیۃ علی سنن النسائی: ۲/ ۵۶)
اس کے بعد بھی بلادِ ہند میں جہاد بعض صورتوںمیں جاری رہا اور اب بھی ہے۔
اس کے بعد بھی بلادِ ہند میں جہاد بعض صورتوںمیں جاری رہا اور اب بھی ہے۔
حدیث نمبر: 12476
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ مَيْمُونُ بْنُ سُنْبَاذَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”قِوَامُ أُمَّتِي بِشِرَارِهَا“ قَالَهَا ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا میمون بن سنباذ رضی اللہ عنہ نامی ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میر ی امت کا استحکام برے لوگوں سے ہوگا۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار ارشاد فرمائی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے دومفہوم بیان کیے گئے ہیں: (۱) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ۔)) … اللہ تعالیٰ اس دین کو فاجر آدمی کے ذریعے مضبوط کرے گا۔ (صحیح ابن حبان: ۱۶۰۷، طبرانی کبیر: ۸۹۶۳،۹۰۹۴، صحیحہ: ۱۶۴۹)
اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کے ذریعے اپنے دین کی نصرت کیسے کرتا ہے، اس کی ایک صورت درج ذیل حدیث میں بیان کی گئی ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک تھے، ایک آدمی مسلمان ہونے کا دعوی کرتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں یہ فرما دیا کہ یہ جہنمی ہے۔
جب ہم نے جنگ لڑنا شروع کی تو اس آدمی نے (لشکرِ اسلام کی طرف سے) بڑی زبردست لڑائی کی۔ خود اس کو بھی ایک زخم لگ گیا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس آدمی کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے، وہ تو آج بہت خوب لڑا اور شہید ہو گیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ قریب تھا کہ بعض مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے اس قول کی وجہ سے شک میں پڑ جائیں۔ اتنے میں کہا گیا کہ وہ آدمی تو ابھی تک نہیں مرا، لیکن شدید زخمی ضرور ہے۔ رات کا وقت تھا، اس نے زخم پر صبر نہ کیا اور خود کشی کر لی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس صورتحال پر مطلع کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کریں: جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا اور بیشک اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعے اس دین کو مضبوط کرتا ہے۔ (بخاری: ۳۰۶۲، مسلم)
(۲) اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے اکثر زمانے میں برے اور ظالم امراء و حکام رہیں گے، جبکہ بیچ میں اللہ تعالیٰ کے دین کا کام بھی ہوتا رہے گا، گویا برے لوگ اس امت کے استحکام کاسبب بنے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کے ذریعے اپنے دین کی نصرت کیسے کرتا ہے، اس کی ایک صورت درج ذیل حدیث میں بیان کی گئی ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک تھے، ایک آدمی مسلمان ہونے کا دعوی کرتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں یہ فرما دیا کہ یہ جہنمی ہے۔
جب ہم نے جنگ لڑنا شروع کی تو اس آدمی نے (لشکرِ اسلام کی طرف سے) بڑی زبردست لڑائی کی۔ خود اس کو بھی ایک زخم لگ گیا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس آدمی کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے، وہ تو آج بہت خوب لڑا اور شہید ہو گیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ قریب تھا کہ بعض مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے اس قول کی وجہ سے شک میں پڑ جائیں۔ اتنے میں کہا گیا کہ وہ آدمی تو ابھی تک نہیں مرا، لیکن شدید زخمی ضرور ہے۔ رات کا وقت تھا، اس نے زخم پر صبر نہ کیا اور خود کشی کر لی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس صورتحال پر مطلع کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کریں: جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا اور بیشک اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعے اس دین کو مضبوط کرتا ہے۔ (بخاری: ۳۰۶۲، مسلم)
(۲) اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے اکثر زمانے میں برے اور ظالم امراء و حکام رہیں گے، جبکہ بیچ میں اللہ تعالیٰ کے دین کا کام بھی ہوتا رہے گا، گویا برے لوگ اس امت کے استحکام کاسبب بنے ہوئے ہیں۔
حدیث نمبر: 12477
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَشْفَعُ لِأَكْثَرَ مِنْ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ رُكْنًا مِنْ أَرْكَانِهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے، جو قبیلہ ربیعہ اور مضر کے افراد سے زیادہ لوگوں کے حق میں سفارش کریں گے اور میری ہی امت میں بعض ایسے افراد بھی ہوں گے، جو جہنم کے لیے بڑے ہو جائیں گے، یہاں تک جہنم کا کونہ بھر جائے گا۔
حدیث نمبر: 12478
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ”لَا تَعْجِزُ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّي أَنْ يُؤَخِّرَهَا نِصْفَ يَوْمٍ“ وَسَأَلْتُ رَاشِدًا هَلْ بَلَغَكَ مَاذَا النِّصْفُ يَوْمٍ قَالَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے رب کے ہاں میری امت اس بات سے عاجزنہیں آئے گی کہ وہ اسے حساب کتاب میں نصف یوم تک روکے رکھے۔ ابو بکر کہتے ہیں: میں نے راشد سے کہا: کیاآپ کو اس بارے میں کوئی خبر پہنچی کہ نصف یوم کی مقدار کتنی ہے؟ انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔
حدیث نمبر: 12479
وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَعْجِزَ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّي أَنْ يُؤَخِّرَهُمْ نِصْفَ يَوْمٍ“ فَقِيلَ لِسَعْدٍ وَكَمْ نِصْفُ يَوْمٍ قَالَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے رب کے ہاں میری امت اس بات سے عاجز نہیں آئے گی کہ وہ اسے حساب کتاب کے لیے نصف یوم تک روکے رکھے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا: نصف یوم کی مقدار کتنی ہے؟ انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت حشر کے میدان میں نصف دن تک صبر کر سکے گی۔
حدیث نمبر: 12480
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ أَبَى“ قَالُوا وَمَنْ يَأْبَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میری ساری امت جنت میں جائے گی، ما سوائے ان لوگوں کے جو خود جنت میں جانے سے انکاری ہوں۔ صحابۂ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! جنت میں جانے سے کون انکارکرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے جنت میں جانے سے انکار کیا۔
حدیث نمبر: 12481
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَرْكَبُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي ثَبَجَ الْبَحْرِ أَوْ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ هُمُ الْمُلُوكُ عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک قوم اس سمندر کی سطح پر سوار ہوگی، وہ یوں لگیں گے جیسے تختوں پر بادشاہ بیٹھے ہوں۔
حدیث نمبر: 12482
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَقَالَ ”مِنْ أُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: وہ اللہ کی راہ میں غز وۂ کرتے ہوئے اس بحرا خضر کی سطح پر سوار ہوں گے، ان کی مثال یوں ہوگی جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث میں بحری جہاد کا ذکر ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۴۸۳۷) والا باب
حدیث نمبر: 12483
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، نہیں معلوم کہ اس کا ابتدائی حصہ بہتر ہے یا آخری حصہ۔
حدیث نمبر: 12484
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ مَثَلَ أُمَّتِي مَثَلَ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَوْ آخِرُهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، نہیں معلوم کہ اس کا آغاز بہتر ہے یا انجام۔
حدیث نمبر: 12485
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ أَلَا فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ أَلَا فَعَمِلَتِ النَّصَارَى ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِينَ عَمِلْتُمْ فَغَضِبَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى قَالُوا نَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلًا وَأَقَلَّ عَطَاءً قَالَ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا قَالُوا لَا قَالَ فَإِنَّمَا هُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی مانند ہے، جو بہت سے لوگوں کو بطور مزدور لگائے اور ان سے کہے: کون ہے جو صبح سے نصف النہار تک ایک ایک قیراط کے عوض کام کرے گا؟ یہودیوں نے اس شرط پر کام کیا، اس نے پھر کہا: کون ہے جو نصف النہار سے نماز عصر تک ایک ایک قیراط کے عوض کام کرے گا؟ نصاریٰ نے اس شرط پر کام کرنا منظور کر لیا، اس نے بعد ازاں کہا: کون ہے جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک دو دو قیراط کے عوض پر کام کرے گا۔ خبردار! وہ تم ہی ہو، جو تھوڑا وقت اور زیادہ معاوضہ پرکام کرنے والے ہو، یہ سن کر یہود اور نصاریٰ غضبناک ہوئے کہ ہم نے محنت زیادہ کی اور مزدوری تھوڑی ملی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پہلے یہ بتاؤ کہ کیا میں نے تمہارے حق میں کچھ کمی کی ہے یا اجرت کے سلسلہ میں تم پر کوئی زیادتی کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، یہ میں جسے چاہتا ہوں، دے دیتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر اتنا کرم کیا کہ اس کو تھوڑے وقت کے عوض معاوضہ زیادہ دیا۔ اس حدیث سے یہ استدلال کشید کرنے کی گنجائش نہیں ہے کہ نمازِ عصر کا وقت دو مثل سائے سے شروع ہوتا ہے، اس موضوع پر متعلقہ ابواب میں بحث ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 12486
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَثَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَثَلُ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَعْمَلُ بِهِ فِي مَالِهِ فَيُنْفِقُهُ فِي حَقِّهِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يُؤْتِهِ مَالًا فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ مَا لِهَذَا عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ“ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَهُمَا فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يُؤْتِهِ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبِطُ فِيهِ يُنْفِقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ وَرَجُلٌ لَمْ يُؤْتِهِ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ مِثْلُ هَذَا عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ الَّذِي يَعْمَلُ“ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَهُمَا فِي الْوِزْرِ سَوَاءٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت کی مثال چار آدمیوں کی مانند ہے، ایک کو اللہ تعالیٰ مال اور علم سے نوازے،وہ اپنے علم کو مال میں استعمال کرے اور مال حاصل کرکے اس کے جائز مقامات پر صرف کرے،دوسرے کو اللہ تعالیٰ علم عطا فرمائے اور مال نہ دے، وہ کہے اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی اسے اس کی طرح اس کے جائز مقامات پر صرف کرتا،تیسرے کو اللہ تعالیٰ مال تو دے مگر علم نہ دے، وہ اپنے مال ہی میں مگن رہے، نہ تو صلہ رحمی کرے اور نہ کسی حقدار کو حق ادا کرے بلکہ وہ اس مال کو ناحق خرچ کرتا ہے اور چوتھے کو اللہ تعالیٰ نہ مال دے اور نہ علم اور وہ کہے کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں بھی اس کی طرح ناجائز کا موں میں خرچ کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گناہ میں یہ اور وہ دونوں برابر ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اس امت کے افراد کی کل چار قسمیں ہیں، ہر آدمی اپنا جائزہ لے کر بآسانی فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔