کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مختار ثقفی کا ظہور
حدیث نمبر: 12450
عَنْ رِفَاعَةَ الْقِتْبَانِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ قَالَ فَأَلْقَى لِي وِسَادَةً وَقَالَ لَوْلَا أَنَّ أَخِي جِبْرِيلَ قَامَ عَنْ هَذِهِ لَأَلْقَيْتُهَا لَكَ قَالَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِي بِهِ أَخِي عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
رفاعہ قتبانی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں مختار کے ہاں گیا، اس نے ایک تکیہ میری طرف کیا اور کہا: اگر میر ا بھائی جبرائیل اس سے اٹھ کر نہ گیا ہوتا تو میں یہ تکیہ آپ کو دے دیتا، رفاعہ کہتے ہیں: اس کی یہ بات سن کر مجھے غصہ آیا، میں نے ارادہ کیاکہ میں اس کی گردن اڑادوں، لیکن اچانک مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھے میرے بھائی سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے سنائی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مومن نے کسی مومن کو اس کی جان کی امان دی ہو اور پھر اسے قتل کردے تومیں اس سے لا تعلق اور بری ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12450
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه ابن ماجه: 2688، والنسائي في الكبري : 8739، والطيالسي: 1285، والبزار: 2309، وابن حبان: 5982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22293»
حدیث نمبر: 12451
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ كُنْتُ أَقُومُ عَلَى رَأْسِ الْمُخْتَارِ فَلَمَّا عَرَفْتُ كَذِبَهُ هَمَمْتُ أَنْ أَسُلَّ سَيْفِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى نَفْسِهِ فَقَتَلَهُ أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رفاعہ کہتے ہیں:میں مختار کے سر پر کھڑا تھا،جب مجھے اس کے جھوٹا ہونے کا یقین ہوگیا تو میں نے ارادہ کیا کہ تلوار سونت کر اس کی گردن اڑا دوں، لیکن مجھے وہ حدیث یاد آگئی جو سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی کو اس کی جان کی امان دینے کے بعد اس کو قتل کر دے تو قیامت کے دن اسے دھوکے والا جھنڈا دیاجائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … مختار بن ابی عبید ثقفی، یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ عراق میں رہتا تھا، ان کی شہادت کے بعد اس نے بصرہ میں سکونت اختیار کی، پھر سیدنا عبدا للہ بن زیبر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی، انھوں نے اس کو کوفہ کا والی بنا دیا، لیکن اس نے ان کی بیعت توڑ دی اور ابن حنفیہ کی امامت کا دعویدار بن کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلین کی تلاش شروع کر دی، پھر اس نے نبوت اور اپنے آپ پر نزولِ وحی کا دعوی کر دیا، پس مصعب بن زبیر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کو ۶۷ ؁ھ میں قتل کر دیا، مختلف کتب ِ تاریخ میں اس کے حالات پڑھے جا سکتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12451
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22294»
حدیث نمبر: 12452
عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ قَالَ رِفَاعَةُ الْبَجَلِيُّ دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَصْرَهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَا قَامَ جِبْرِيلُ إِلَّا مِنْ عِنْدِي قَبْلُ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ”إِذَا أَمَّنَكَ الرَّجُلُ عَلَى دَمِهِ فَلَا تَقْتُلْهُ“ قَالَ وَكَانَ قَدْ أَمَّنَنِي عَلَى دَمِهِ فَكَرِهْتُ دَمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو رفاعہ بجلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں مختار بن ابی عبید کے پاس اس کے محل میں داخل ہوا، میں نے سنا وہ کہہ رہاتھا کہ میرا بھائی جبرئیل ابھی میرے ہاں سے گیا ہے، اس کی یہ بات سن کر میں نے ارادہ کیا کہ اس کی گردن اڑادوں، پھر مجھے ایک حدیث یاد آئی جو مجھ سے سلیمان بن صرد نے بیان کی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے خون پر تم کو امین سمجھ لے تو اسے قتل نہ کرنا۔ اور اس مختار نے مجھ سے اپنی جان کی امان طلب کی ہوئی تھی، اس لیے میں نے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12452
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن ميسرة، ولجھالة ابي عكاشة الھمداني، اخرجه ابن ماجه: 2689، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27749»
حدیث نمبر: 12453
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ عَنِ الْمُخْتَارِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کسی کوفی کے ہاں تھے، وہ ان کو مختار کے بارے میں کچھ باتیں سنانے لگا، سیدناابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ قیامت سے پہلے تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ فِی ثَقِیْفٍ کَذَّاباً وَمُبِیْراً۔)) وَرَدَ مِنْ حَدِیْثِ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ، وَعَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، وَسَلَامَۃَ بِنْتِ الْحَرِّ الْجَعْفِیَّۃِ فَعَنْ أَسْمَائَ أَنَّھَا قَالَتْ لِلْحُجَّاجِ: أَمَا إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَدَّثَنَا: ((إِنَّ فِی ثَقِیْفٍ کَذَّاباً وَمُبِیْراً۔)) قَالَتْ: فَأَمَّا الْکَذَّابُ، فَقَدْ رَأَیْنَاہُ، وَأَمَّا الْمُبِیْرُ، فَلَا إِخَالُکَ إِلاَّ إِیَّاہُ، ثقیف قبیلہ میں ایک کذاب ہو گا اور ایک مہلِک (یعنی ہلاک کرنے والے)۔ یہ حدیث سیدہ اسما بنت ابو بکر صدیق، سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدہ سلامہ بنت حر جعفیہ سے مروی ہے، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے حجاج سے کہا: آگاہ ہو جا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیان کیا تھا کہ ثقیف قبیلہ میں ایک کذاب ہو گا اور ایک مہلِک۔ کذاب تو ہم نے دیکھ لیا، رہا مسئلہ مہلِک کا، تو میں تو یہی سمجھ پا رہی ہوں کہ وہ تو ہی ہے۔ (ملاحظہ ہو: مسلم: ۷/۱۹۰، ۱۹۱،ترمذي: ۲۲۲۰ و ۳۹۴۴، أحمد: ۲/۲۶، ۸۷، ۹۱، ۹۲، صحیحہ:۳۵۳۸)
ہوازن کے ایک قبیلہ کے باپ کا نام قسی بن منبہ بن بکر بن ہوازن تھا، اس کو ثقیف کہتے تھے۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/۲۲۷)
امام ترمذی نے یہ حدیث روایت کرنے کے بعد کہا: ویقال الکذاب المختار بن ابی عبید والمبیر الحجاج بن یوسف، یعنی: کہا جاتا ہے کہ کذاب سے مراد مختار بن ابی عبید اور مہلِک سے مراد حجاج بن یوسف ہے، مختار بن ابی عبید کا یہ دعوی تھا کہ جبریل امین اس کے پاس بھی آتے ہیں، رہا مسئلہ حجاج بن یوسف کا تو مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے اور ان کو موت کے گھاٹ اتارنے کے سلسلے میں اس کا بد کردار بلا مقابلہ رہا۔
اس حدیث میں تیس جھوٹوں کا ذکر ہے، اس کی تفصیل درج ذیل ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آیا ہے نہ آئے گا اور ایسا دعوی کرنے والا جھوٹا، کذاب اور دجال قرار پائے گا۔
ذہن نشین رہے کہ اس حدیث سے وہ مدعیانِ نبوت مراد نہیں جنھوں نے مطلق طور پر نبوت کا دعوی کیا، کیونکہ ایسے لوگ تو بہت زیادہ ہیں۔ احادیث میں جن تیس کذابوں کا ذکر ہے، ان سے مراد وہ کم بخت ہیں، جن کو اس دعوی کی وجہ سے شان و شوکت ملی اور ان کو اپنی نبوت پر واقعی شبہ ہونے لگا، پھر لوگوں کی معقول تعداد بھی ان کے ساتھ ہو گئی۔ جیسے مرزا غلام احمد قادیانی کا مسئلہ ہے۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: جن دجّالوں نے نبوت کا دعویٰ کیا، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہندی ہے، جس نے ہند پر برطانوی استعمار کے عہد میں یہ دعوی کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے، پھر اس نے اپنے آپ کو عیسی علیہ السلام باور کرایا اور بالآخر نبوت کا دعوی کر دیا، قرآن و سنت کا علم نہ رکھنے والے کئی جاہلوں نے اس کی پیروی کی۔ ہند اور شام کے ایسے باشندوں سے میری ملاقات ہوئی، جو اس کی نبوت کے قائل تھے۔ میرے اور ان کے مابین کئی مناظرے اور بحث مباحثے ہوئے، ان میں سے ایک تحریری مناظرہ بھی تھا۔ ان مناظروںمیں ان کا دعوی تھا کہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کئی انبیاء آئیں گے، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ شروع شروع میں انھوں نے ورغلانا اور پھسلانا چاہا اور مناظرہ کے اصل موضوع سے صرف نظر کرنا چاہا۔ لیکن میں نے ان کے حیلوں بہانوں کا انکار کیا اور اصل موضوع پر ڈٹا رہا۔ پس وہ بری ہزیمت سے دوچار ہوئے اور حاضرین مجلس کو پتہ چل گیا کہ یہ باطل پرست قوم ہے۔
ان کے کچھ دوسرے عقائد بھی باطل اور اجماعِ امت کے مخالف ہیں، بطورِ مثال: جسمانی بعث کا انکار کرنا اور یہ کہنا کہ جنت و جہنم کا تعلق روح سے ہے، نہ کہ جسم سے۔ کافروں کو دیا جانے والا عذاب بالآخر منقطع ہو جائے گا۔ جنوں کا کوئی وجود نہیں ہے اور جن جنوں کا قرآن مجید میں ذکر ہے، وہ حقیقت میں انسانوں کی ایک جماعت ہے۔
جب یہ لوگ قرآن کی کوئی آیت اپنے عقائد کے مخالف پاتے ہیں تو باطنیہ اور قرامطہ جیسے باطل فرقوں کی طرح اس کی غیر مقبول اور قابل انکار تاویل کرتے ہیں۔ اسی لیے انگریز مسلمانوں کے خلاف ان کی تائید و نصرت کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کہتا تھا کہ مسلمانوں پر انگریزوں سے جنگ کرنا حرام ہے۔ میں نے ان پر ردّ کرنے کے لیے کئی کتابیں تالیف کیں اور ان میں یہ وضاحت کی کہ یہ فرقہ جماعۃ المسلمین سے خارج ہے۔ ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۸۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12453
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5985»