کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب سوم: سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
حدیث نمبر: 12445
عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ الزُّبَيْرِ حَدِّثْنِي بَعْضَ مَا كَانَتْ تُسِرُّ إِلَيْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فَرُبَّ شَيْءٍ كَانَتْ تُحَدِّثُكَ بِهِ تَكْتُمُهُ النَّاسَ قَالَ قُلْتُ لَقَدْ حَدَّثَتْنِي حَدِيثًا حَفِظْتُ أَوَّلَهُ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِجَاهِلِيَّةٍ أَوْ قَالَ بِكُفْرٍ قَالَ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ فَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ فِي الْأَرْضِ بَابًا يُدْخَلُ مِنْهُ وَبَابًا يُخْرَجُ مِنْهُ“ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ فَأَنَا رَأَيْتُهَا كَذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: تم مجھے ایسی باتیں بیان کرو،جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمہارے ساتھ خصوصی طور پر کیا کرتی تھیں اور جن کو وہ لوگوں سے چھپاتی تھیں،اسود نے کہا: انہوں نے مجھے ایک بات بیان کی تھی جس کا ابتدائی حصہ مجھے خوب یاد ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اگر تمہاری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں کعبہ کی عمارت کو گرا کر نئی تعمیر کرتا اور میں اس کے برابر کے دو دروازے بناتا، ایک اندر جانے کے لیے اور دوسرا باہر آنے کے لیے۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے بیت اللہ کو اس انداز سے تعمیر شدہ دیکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12445
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1584، 7243، ومسلم: 405، 406 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25216»
حدیث نمبر: 12446
عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي خَالَتِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا ”لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ أَوْ بِجَاهِلِيَّةٍ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا وَزِدْتُ فِيهَا مِنَ الْحِجْرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حِينَ بَنَتْ الْكَعْبَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خالہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: اگر تمہاری قوم نئی نئی شرک یاجاہلیت یعنی کفر کو چھوڑ کر نہ آئی ہوتی تو میں کعبہ کو منہدم کر کے زمین کے برابر کر دیتا اور اس کے دو دروازے اس طرح بناتا کہ ایک مشرق کی طرف ہوتا اور دوسرا مغرب کی طرف اور حجر یعنی حطیم میں سے چھ ہاتھ کے برابر جگہ بیت اللہ میں شامل کر دیتا، کیونکہ جب قریش نے اس کی تعمیر کی تھی تو وسائل کی کمی کے باعث وہ اسے کعبہ کی تعمیر میں شامل نہ کر سکے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12446
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1585، ومسلم: 1333 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25977»
حدیث نمبر: 12447
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ كَانَ عِنْدَنَا سَعَةٌ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ وَلَبَنَيْتُهَا وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ“ قَالَتْ فَلَمَّا وَلِيَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهَا فَجَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ قَالَتْ فَكَانَتْ كَذَلِكَ فَلَمَّا ظَهَرَ الْحَجَّاجُ عَلَيْهِ هَدَمَهَا وَأَعَادَ بِنَاءَهَا الْأَوَّلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہمارے اندر طاقت ہوتی تو میں کعبہ کو منہدم کر کے اس کی جدید تعمیر کرتا اور اس کے دو دروازے بناتا، ایک دروازے سے لوگ اندر داخل ہوتے اور دوسرے سے نکل جاتے۔ پھر جب سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ حکمران بنے تو انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کے مطابق اسے منہدم کر کے اس کے دو دروازے بنائے، لیکن ان کے بعد جب حجاج کا دور آیا تو اس نے اسے دوبارہ منہدم کر کے اس کی سابقہ بنیادوں پر تعمیر کردی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12447
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف اسماعيل بن عبد الملك، ثم ان قوله: قالت: فلما ولي ابن الزبير لفظ قالت ليس في رواية ابن ابي شيبة، وھو الصواب، اذا المعروف ان عائشة لم تدرك ولاية ابن الزبير ولا الحجاج، اخرجه ابن ابي شبية: ص 287، وابن راھويه: 1241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25048 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25562»
حدیث نمبر: 12448
عَنْ أَبِي قَزَعَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ سَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَا عَائِشَةُ لَوْلَا حَدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَبْتُ الْبَيْتَ“ قَالَ أَبِي قَالَ الْأَنْصَارِيُّ ”لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا عَنِ الْبِنَاءِ“ فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا فَقَالَ لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُ هَذَا قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ لَتَرَكْتُهُ عَلَى بِنَاءِ ابْنِ الزُّبَيْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو قزعہ سے مروی ہے کہ عبدالملک بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، اس دوران اس نے کہا: اللہ تعالیٰ ابن زبیر کوہلاک کرے، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ باندھتا اور کہتا تھا کہ سیدہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر کو چھو ڑ کر مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں بیت اللہ کو گرا کر حطیم میں سے کچھ حصہ ا س میں شامل کردیتا، تمہاری قوم قریش نے جب اسے تعمیر کیا تھا تو پور اتعمیر نہیں کر سکے تھے۔ اس کی یہ بات سن کر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا: امیر المومنین! یہ بات نہ کہیں، میں نے خودسیدہ رضی اللہ عنہا کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، عبد الملک نے کہا: اگر کعبہ کو گرانے سے پہلے میں نے یہ بات سنی ہوتی تو میں بیت اللہ کو ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیر پر باقی رہنے دیتا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبدا للہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کے مطابق خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی، لیکن ان کے بعد حجاج بن یوسف نے اس گھر کی تعمیر کو سیاسی شکل دے دی اور تعمیر نو کو ختم کر کے پرانے نقشے کے مطابق بیت اللہ کی تعمیر کی، اب خانہ کعبہ کی وہی شکل باقی ہے، جو دورِ جاہلیت میں بنائی گئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12448
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1585، ومسلم: 1333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26681»