کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب دوم: ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت
حدیث نمبر: 12440
عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأنا مُتِمٌّ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَاءَ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءَ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَكَانَ أَوَّلَ مَا دَخَلَ فِي جَوْفِهِ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ ثُمَّ حَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہا سے حاملہ ہوئیں، وہ کہتی ہیں: ایام پورے ہوچکے تھے کہ میں ہجرت کے سفر پر روانہ ہو گئی، قباء پہنچ کر ٹھہری اور میں نے وہاں اس بچے کو جنم دیا، میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئی اور جا کر آپ کی گود میں رکھ دیا، آپ نے کھجور منگوائی اور اسے چبا کر اس کے منہ میں ڈال دی، اس کے پیٹ میں سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لعاب داخل ہواتھا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی، یہ اسلام میں پیدا ہونے والا سب سے پہلا بچہ تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبدا للہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے نواسے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12440
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3909، 5469، ومسلم: 2146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26938 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27477»
حدیث نمبر: 12441
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ وَقَالَ ”هَذَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں(اپنے بھانجے) ابن زبیر کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اورفرمایا: یہ عبداللہ ہے اور تم ام عبداللہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بچے کی خالہ تھیں، جبکہ خالہ ماں ہی ہوتی ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ کی کنیت ام عبد اللہ رکھ دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12441
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، قولھا: فحنكه بتمرة أخرجه البخاري: 3910، ومسلم: 2148 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25126»
حدیث نمبر: 12442
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَتَذْكُرُ يَوْمَ اسْتَقْبَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمَلَنِي وَتَرَكَكَ وَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسْتَقْبَلُ بِالصِّبْيَانِ إِذَا جَاءَ مِنْ سَفَرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عرو ہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تمہیں وہ دن یاد ہے، جس دن ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آئے تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی سواری پر سوار کر لیا تھا اور تمہیں چھوڑ دیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے تو بچوں کے ساتھ آپ کا استقبال کیا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12442
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف اسماعيل بن عياش في روايته عن غير اھل بلده، وھذه منھا، اخرجه الحاكم: 3/555، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16228»
حدیث نمبر: 12443
عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى عَائِشَةَ أَنَا وَعَمَّارٌ وَالْأَشْتَرُ فَقَالَ عَمَّارٌ السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا أُمَّتَاهُ فَقَالَتْ السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى حَتَّى أَعَادَهَا عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّكِ لَأُمِّي وَإِنْ كَرِهْتِ قَالَتْ مَنْ هَذَا مَعَكَ قَالَ هَذَا الْأَشْتَرُ قَالَتْ أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ ابْنَ أُخْتِي قَالَ نَعَمْ قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ وَأَرَادَهُ قَالَتْ أَمَا لَوْ فَعَلْتَ مَا أَفْلَحْتَ أَمَّا أَنْتَ يَا عَمَّارُ فَقَدْ سَمِعْتَ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مَنْ زَنَى بَعْدَ مَا أُحْصِنَ أَوْ كَفَرَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَقُتِلَ بِهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمرو بن غالب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدنا عمار اور اشتر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: امی جان! آپ پر سلامتی ہو، سیدہ نے جواباًکہا: اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی (سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے) عمار رضی اللہ عنہ نے سلام کے یہ کلمات دو یا تین مرتبہ دہرائے، پھرکہا! اللہ کی قسم! آپ میری ما ں ہیں، خواہ آپ مجھ سے نفرت کریں، سیدہ نے کہا: یہ تمہارے ساتھ کون کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ اشتر ہے، سیدہ نے کہا: تم ہی ہو نا جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں! واقعی میں نے اس بات کا ارادہ کیا تھا اور ان کا بھی یہی ارادہ تھا کہ وہ مجھے قتل کردیں، سیدہ نے کہا: اگر تم یہ کام کرلیتے تو کامیاب نہ ہوتے اور عمار! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون تین صورتوں کے علاوہ کسی بھی صورت میں حلال نہیں، شادی شدہ زنا کرے یا وہ مرتد ہوجائے یاکسی کو قتل کرے اور اسے اس کے بدلے میں قتل کردیاجائے۔ (تو کیا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے کوئی جر م کیا تھاکہ ان کو قتل کر دیا گیا؟)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12443
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابوداود: 4353، والنسائي: 7/ 101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24808»
حدیث نمبر: 12444
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِلْأَشْتَرِ أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ قَتْلَ ابْنِ أُخْتِي قَالَ قَدْ حَرَصْتُ عَلَى قَتْلِهِ وَحَرَصَ عَلَى قَتْلِي قَالَتْ أَوَمَا عَلِمْتَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ إِلَّا رَجُلٌ ارْتَدَّ أَوْ تَرَكَ الْإِسْلَامَ أَوْ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عرو ہ بن غالب سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اشتر سے کہا: تم ہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں ان کو قتل کرنے کا حریص تھا اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے، انہوں نے کہا:کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاہے: کسی مسلمان کا خون بہانا کسی بھی صورت میں جائز نہیں الایہ کہ کوئی مرتد ہوجائے یا شادی شدہ ہو کر زنا کا ارتکاب کرے یا کسی مسلمان کو ناحق قتل کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12444
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25992»