کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت¤اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان¤باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کا بیان
حدیث نمبر: 12438
عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ بَايَعْتَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ قَالَ نَعَمْ بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَجَاءَ أَهْلُ الشَّامِ فَسَاقُونِي إِلَى جَيْشِ بْنِ دَلَحَةَ فَبَايَعْتُهُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ إِيَّاهَا كُنْتُ أَخَافُ وَمَدَّ بِهَا حَمَّادٌ صَوْتَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَنَامَ نَوْمًا وَلَا يُصْبِحَ صَبَاحًا وَلَا يُمْسِيَ مَسَاءً إِلَّا وَعَلَيْهِ أَمِيرٌ“ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُبَايِعَ أَمِيرَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَى أَمِيرٍ وَاحِدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بشر بن حرب سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور ان سے کہا: مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ کہ لوگوں کے ایک امیر کی امارت پر متفق ہونے سے پہلے ہی آپ نے دو امیروں کی بیعت کر لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر چکا تھا کہ شامی آگئے اوروہ مجھے ابن دلحہ کے لشکر کی طرف لے گئے، میں نے اس کی بیعت بھی کرلی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس بات کا اندیشہ تھا، میں اسی سے ڈرتا تھا، ان الفاظ کو ادا کرتے ہوئے حماد بن سلمہ نے اپنی آواز کو لمبا کر کے کھینچا،ابو سعید نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کیا آپ نے نہیں سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے اگر کوئی آدمی اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ کسی امیر کی امارت کے نہ ہوتے ہوئے نہ صبح کرے اور نہ شام کرے تو اسے ضرورکسی کی امارت میں چلے جانا چاہیے۔ ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، مگر میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ لوگوں کے کسی ایک امیر کی امارت پر متفق ہونے سے پہلے میں دوامیروں کی بیعت کروں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12438
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف بشر بن حرب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11247 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11267»
حدیث نمبر: 12439
قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ قُلْتُ لِجُنْدُبٍ إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ أَمْسِكْ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ فَقَالَ افْتَدِ بِمَالِكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِبَ مَعَهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ جُنْدُبٌ حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي“ قَالَ شُعْبَةُ فَأَحْسِبُهُ قَالَ ”فَيَقُولُ عَلَامَ قَتَلْتَهُ فَيَقُولُ قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ“ قَالَ فَقَالَ جُنْدُبٌ فَاتَّقِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عمران سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے جندب سے کہا: میں ان لوگوں یعنی سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر چکا ہوں،اب یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں ان کے ہمراہ شام کی طرف جاؤں، انہوں نے کہا: مت جانا، میں نے کہا: وہ مجھے اپنے ساتھ لے جانے پر مصر ہیں، انہوں نے کہا: تم مال دے کر جان چھڑا لو، میں نے کہا: ان کا ایک ہی اصرا ر ہے کہ میں ان کے ساتھ مل کر قتال میں حصہ لوں، جندب نے کہا: مجھے فلاں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاارشاد ہے: قیامت کے دن ایک مقتول اپنے قاتل کو ساتھ لے کر آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھ کیوں قتل کیا تھا؟شعبہ کے الفا ظ ہیں: وہ کہے گا کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا: میں نے فلاں کی حکومت بچانے کے لیے اسے قتل کیا تھا۔ تو جندب نے کہا: پس تم بچ ہی جاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے باپ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور آپ کی ماں سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا تھیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ میں ہجرت کر کے تشریف لانے سے بیس ماہ کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی، آپ مدینہ منورہ میں مہاجرین کی سب سے پہلی اولاد تھے، اس لیے مہاجرین غیر معمولی طور پر خوش ہوئے، آپ ۷۲ برس کی عمر میں جمادی الثانی سنہ ۷۳ ہجری میں بنو امیہ کے حکمرانوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔
اگلی حدیث اور اس کے متعلقہ بخاری کی شرح فتح الباری (ج:۷، ص: ۲۴۸) کو سامنے رکھیں تو بات یہ سمجھ آتی ہے کہ عبداللہ بن زبیر مسلمانوں کے ہجرت کرکے مدینہ پہنچنے کے چند دن بعد پیدا ہوئے تھے۔ (عبداللہ رفیق)
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت مکہ معظمہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ہی سے قائم تھی اور انھوں نے یزید کے عہد ِ حکومت میں مکہ پر کبھی یزید کی حکومت قائم نہیں ہونے گی،یزید کے مرنے کے بعد انھوں نے لوگوں سے بیعت ِ خلافت لی اور بہت جلد شام کے بعض مقامات کے ساتھ تمام عالم اسلام میں وہ خلیفہ تسلیم کر لیے گئے، اس زمانے مں ان کو ملک شام کی اس حالت کا جوان کے موافق پیدا ہو چکی تھی، صحیح اندازہ نہیں ہو سکا اور وہ بنو امیہ کی طاقت و قبولیت کا جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے سے شام میں ان کو حاصل تھی، اندازہ کرنے میں غلطی کھا گئے، اگر ان کو بنو قیس اور بنو کلب کی نا اتفاقی و رقابت اور اپنی قبولیت کا جو ملک شام میں پیدا ہو چکی تھی، صحیح اندازہ ہو جاتا تو وہ ضرور ملک شام کا ایک سفر کرتے اور یہ سفر ایسا ہی مفید ثابت ہوتا جیسا سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا سفرِ شام عالمِ اسلام کے لیے مفید ثابت ہوا تھا۔ اس کے بعد مروان کی خلافت اور بنو امیہ کے اثر و اقتدار کی واپسی ہر گز ظہور میں نہ آتی۔
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی زندگی کئی حالات واقعات سے گزری، تفصیل کے لیے کتب تاریخ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12439
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه النسائي مختصرا دون القصة: 7/84 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23189 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23576»