کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل: بنوامیہ کے ایک ظالم حکمران کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات
حدیث نمبر: 12435
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَيَرْعَفَنَّ عَلَى مِنْبَرِي جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَةِ بَنِي أُمَيَّةَ يَسِيلُ رُعَافُهُ“ قَالَ فَحَدَّثَنِي مَنْ رَأَى عَمْرَو بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَعَفَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَالَ رُعَافُهُ (وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَيَرْتَقِيَنَّ جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَةِ بَنِي أُمَيَّةَ عَلَى مِنْبَرِي هَذَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے سنا ہے بنوامیہ کے ظالم حکمرانوں میں سے ایک ظالم کی نکسیر میرے منبر پر پھوٹے گی۔ علی بن زید کہتے ہیں: ایک آدمی، جس نے عمرو بن سعید کو دیکھا تھا، اس نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر پر عمرو بن سعید کی نکسیر پھوٹ پڑی تھی۔ علی بن زید سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک آدمی نے مجھے بیان کیا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنوامیہ کا ایک ظالم حکمران میرے اس منبرپر چڑھے گا۔
وضاحت:
فوائد: … درج ذیل دو احادیث پر غور کریں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنِّيْ رَاَیْتُ فِيْ مَنَامِيْ،کَأَنَّ بَنِيْ الْحَکَمِ بْنِ اَبِيْ الْعَاصِ یَنْزُوْنَ عَلٰی مِنْبَرِيْکَمَا تَنْزُوْ الْقِرَدَۃُ۔)) … میں نے خواب میں دیکھا کہ بنو حکم بن ابی عاص میرے منبر پر بندروں کی طرح کود رہے ہیں۔ یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور سعید بن مسیب سے مرسلًا روایت کی گئی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی حدیث میں مذکورہ بالا حدیث کے ساتھ یہ الفاظ بھی روایت کئے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی وفات تک پورے زور سے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ (ملاحظہ ہو: سلسلہ صحیحہ: ۳۹۴۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا بَلَغَ بَنُوْ أَبِیْ الْعَاصِ ثَلَاثِیْنَ رَجُلاً، اتَّخَذُوْا دِیْنَ اللّٰہِ دَخَلاً، وَعِبَادَاللّٰہِ خَوْلاً وَمَالَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ دُوْلاً۔)) … جب ابو عاص کے بیٹوں کی تعداد تیس مردوں تک پہنچے گی تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں عیب و نقص نکالیں گے، اللہ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے اور اللہ تعالیٰ کے مال کو آپس میں ہی ادل بدل کریں گے۔ یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا ابو ذر غفاری، سیدنا معاویہ بن سفیان
اور سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے۔ (ملاحظہ ہو سلسلہ صحیحہ: ۷۴۴)
بنو ابی العاص سے مراد بنو امیہ ہیں، جن کے دور حکومت میں اس باب میں مذکورہ احادیث کا مصداق بننے والے خلفا موجود تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا بَلَغَ بَنُوْ أَبِیْ الْعَاصِ ثَلَاثِیْنَ رَجُلاً، اتَّخَذُوْا دِیْنَ اللّٰہِ دَخَلاً، وَعِبَادَاللّٰہِ خَوْلاً وَمَالَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ دُوْلاً۔)) … جب ابو عاص کے بیٹوں کی تعداد تیس مردوں تک پہنچے گی تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں عیب و نقص نکالیں گے، اللہ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے اور اللہ تعالیٰ کے مال کو آپس میں ہی ادل بدل کریں گے۔ یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا ابو ذر غفاری، سیدنا معاویہ بن سفیان
اور سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے۔ (ملاحظہ ہو سلسلہ صحیحہ: ۷۴۴)
بنو ابی العاص سے مراد بنو امیہ ہیں، جن کے دور حکومت میں اس باب میں مذکورہ احادیث کا مصداق بننے والے خلفا موجود تھے۔