کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح رضی اللہ عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
حدیث نمبر: 12433
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ لَمَّا بَعَثَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ إِلَى مَكَّةَ بَعَثَهُ يَغْزُو ابْنَ الزُّبَيْرِ أَتَاهُ أَبُو شُرَيْحٍ فَكَلَّمَهُ وَأَخْبَرَهُ بِمَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى نَادِي قَوْمِهِ فَجَلَسَ فِيهِ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَ قَوْمَهُ كَمَا حَدَّثَ عَمْرَو بْنَ سَعِيدٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَمَّا قَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ قَالَ قُلْتُ هَذَا إِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ عَدَتْ خُزَاعَةُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَقَتَلُوهُ وَهُوَ مُشْرِكٌ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِينَا خَطِيبًا فَقَالَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهِيَ حَرَامٌ مِنْ حَرَامِ اللَّهِ تَعَالَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا لَمْ تَحْلِلْ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ يَكُونُ بَعْدِي وَلَمْ تَحْلِلْ لِي إِلَّا هَذِهِ السَّاعَةَ غَضَبًا عَلَى أَهْلِهَا أَلَا ثُمَّ قَدْ رَجَعَتْ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ أَلَا فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ فَمَنْ قَالَ لَكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَاتَلَ بِهَا فَقُولُوا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحَلَّهَا لِرَسُولِهِ وَلَمْ يُحْلِلْهَا لَكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ وَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ عَنِ الْقَتْلِ فَقَدْ كَثُرَ أَنْ يَقَعَ لَئِنْ قَتَلْتُمْ قَتِيلًا لَأَدِيَنَّهُ فَمَنْ قُتِلَ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا فَأَهْلُهُ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءُوا فَدَمُ قَاتِلِهِ وَإِنْ شَاءُوا فَعَقْلُهُ“ ثُمَّ وَدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ الَّذِي قَتَلَتْهُ خُزَاعَةُ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ لِأَبِي شُرَيْحٍ انْصَرِفْ أَيُّهَا الشَّيْخُ فَنَحْنُ أَعْلَمُ بِحُرْمَتِهَا مِنْكَ إِنَّهَا لَا تَمْنَعُ سَافِكَ دَمٍ وَلَا خَالِعَ طَاعَةٍ وَلَا مَانِعَ جِزْيَةٍ قَالَ فَقُلْتُ قَدْ كُنْتُ شَاهِدًا وَكُنْتَ غَائِبًا وَقَدْ بَلَّغْتُ وَقَدْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَلِّغَ شَاهِدُنَا غَائِبَنَا وَقَدْ بَلَّغْتُكَ فَأَنْتَ وَشَأْنُكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوشریح خزاعی سے مروی ہے کہ جب عمرو بن سعید نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکربھیجا تو ابو شریح رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس آکر اس سے گفتگو کی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو سنا تھا اسے وہ بتلایا، اس کے بعد وہ اپنی قوم میں آکر بیٹھ گئے، تو میں بھی اٹھ کر ان کے پاس جا بیٹھا، تو انہو ں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی جو بات عمرو بن سعید کو سنائی اور اس کے جواب میں عمرو بن سعید نے جو کچھ کہا، انہوں نے وہ ساری بات قوم کو سنائی،انہوں نے بتلایا کہ میں نے اس سے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو دوسرے ہی دن بنو خزاعہ نے بنو ہذیل کے ایک آدمی پر حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا، مقتول مشرک تھا، ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ دور جاہلیت میں اس نے ان کے کسی آدمی کو مارا تھا، تو انہوں نے اس کا انتقام لے لیا، کیونکہ وہ مدت سے اسی تاک میں تھے تو اس واقعہ کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ تعالیٰ نے جب سے آسمان اور زمین بنائے ہیں اس نے اسی دن سے مکہ کو حرمت والا قرا ردیا ہے، لہٰذ ا یہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق قیامت تک حرم ہی رہے گا، جس آدمی کا اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس شہر میں کسی کا ناحق خون بہائے، وہ اس کے کسی درخت کو کاٹے مجھ سے پہلے اور میرے بعد اس میں لڑائی کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں اور اہل مکہ پر غضب کی وجہ سے مجھے بھی صرف اس تھوڑے سے وقت کے لیے اجازت دی گئی تھی، خبردار! اب دوبارہ اس کی حرمت اسی طرح ہے جیسے کل تھی، خبردار! تم میں سے جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچادیں جو یہاں موجود نہیں ہیں، اگر کوئی تم سے کہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو مکہ میں لڑائی لڑی ہے، توتم اس سے کہنا:کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے تو مکہ میں لڑائی کی اجازت دی تھی، اس نے تمہیں اس کی اجازت نہیں دی ہے، اے خزاعہ کے خاندان! تم قتل سے اپنے ہاتھوں کو روک لو، یہ کام بہت ہو چکا، تم ایک آدمی کو قتل کر چکے ہو، اس کی دیت یعنی خون بہا میں ادا کروں گا، اس وقت کے بعد جو آدمی مارا گیا تو اس کے ورثاء کو دو بہترین میں سے کسی ایک کا اختیار ہو گا، وہ چاہیں گے تو قاتل کو قتل کر یں گے اور اگر چاہیں گے تو خون بہا وصول کریں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کا خون بہا ادا کر دیا، جو بنو خزاعہ نے مارا تھا،یہ ساری حدیث سن کر عمرو بن سعید نے ابو شریح رضی اللہ عنہ سے کہا ارے بوڑھے! جا جا مکہ کی حرمت کو ہم تم سے بہتر جانتے ہیں، یہ حرمت ناحق خون بہانے والے اطاعت سے منہ موڑنے والے اور کسی مجرم کے لیے نہیں ہے، ابو شریح رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ عمرو کی یہ بات سن کر میں نے ان سے کہا: کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی، میں وہاں موجود تھا، تم نہیں تھے اور میں یہ حدیث تم تک پہنچا چکا کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم سے جو بھی وہاں موجود ہے وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچادے جو وہاں ا س وقت موجود نہ تھے، میں یہ بات تم تک پہنچاچکا ہوں، اب تم جانو اور تمہارا کام۔ عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی پائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12433
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 104، 1832، 4295، ومسلم: 1354، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16490»
حدیث نمبر: 12434
وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حَيْثُ تَكَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سعید مقبری سے روایت ہے کہ جب عمرو بن سعید مکہ کی طرف لشکر روانہ کر رہا تھا تو ابو شریح العدوی نے اس سے کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیجئے کہ میں تمہیں وہ باتیں بیان کروں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ سے اگلے دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمائی تھیں، جن کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا، جب آپ نے یہ باتیں ارشاد فرمائیں تو میری آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا قرار دیا ہے، … ۔ پھر سابقہ روایت کی طرح کی روایت ذکر کی۔
وضاحت:
فوائد: … یزید بن معاویہ کی طرف سے مقرر کردہ والی ٔ مدینہ عمرو بن سعید بن عاص تھا، یہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑنے کے لیے مکہ مکرمہ کہ طرف لشکر بھیج رہا تھا، اس دوران سیدنا ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ نے اپنی ذمہ داری ادا کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کی، جس کی روشنی میں عمرو بن سعید کی کاروائی صحیح نہیں تھی۔
حدیث کے آخر میں عمرو بن سعید، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ وہ نافرمان ہے، وغیرہ وغیرہ، لیکن عمرو بن سعید کا یہ نظریہ درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12434
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16487»