کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
حدیث نمبر: 12428
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِيَ الْحَرَّةِ فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ مِنَ الْمَدِينَةِ وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ وَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ وَيْحَكَ لَا آمُرُكَ بِذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَاءِهَا فَيَمُوتُ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے مہری ابو سعید سے روایت ہے کہ وہ واقعہ حرہ کے دوران سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور مدینہ منورہ سے باہر کسی دوسری جگہ جانے کی بابت ان سے مشورہ طلب کیا اور بطور شکوہ کہا کہ اس کے اہل و عیال بہت ہیں اور یہاں کافی مہنگائی ہے، اس لیے وہ یہاں کی مشقت کو برداشت نہیں کرسکتا، انہوں نے فرمایا: تجھ پر افسوس ہے،میں تمہیں اس بات کا مشورہ نہیں دے سکتا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو مسلمان مدینہ منورہ میں پیش آنے والی مشکلات و مصائب کو برداشت کرے اور اسی حال میں وفات پا جائے تو میں قیامت کے روز اس کے حق میں سفارشی ہوں گا، یا یوں فرمایا کہ اس کے حق میں گواہ ہوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … یزید کی بیعت سے دستبردار ہونے والے لوگ اہل مدینہ ہیں، پھر اسی کے نتیجے میں حرّہ کی جنگ پیش آ ئی تھی اور امت ِ مسلمہ کی تاریخ متأثر ہو گئی۔
جب یزید بن معاویہ کو اصل حالات کا علم ہوا تو اس نے مسلم بن عقبہ سے کہا: ایک ہزار چیدہ جنگ جو ہمراہ لے کر مدینہ پہنچو، لوگوں کو اطاعت کی طرف بلاؤ، اگر وہ اطاعت اختیار کر لیں تو بہتر ہے، ورنہ جنگ کر کے سب کو سیدھا کر دو، اس حکم سے تیسرے روز یہ فوج دمشق سے روانہ ہوئی، یزید نے رخصت کرتے وقت مسلم کو نصیحت کی جہاں تک ممکن ہو نرمی اور درگزر سے کام لینا، بصورت ِ دیگر کشت و خون اور قتل و غارت کی عام اجازت ہے۔
شامی لشکر مدینہ منورہ پہنچ گیا اور بیعت کی دعوت دی، مگر اہل مدینہ لڑائی پر آمادہ ہو گئے، آخر مسلم حرّ کی جانب سے مدینہ پر حملہ آور ہوا، اہل مدینہ نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا اور لشکر شام کا منہ پھیر پھیر دیا، لیکن مسلم بن عقبہ کی بہادری اور تجربہ کاری سے اہل مدینہ کو شکست ہوئی، بہت سے سرداران مدینہ جنگ میںکام آئے، کل ایک ہزار کے قریب آدمی مارے گئے، جن میںتین سو سے زائد شرفائے قریش و انصار شامل تھے، فتح مند فوج نے مدینہ میں داخل ہو کر تین دن تک تو قتل عام کیا، چوتھے دن بیعت کا حکم دیا گیا، جس نے مسلم کے ہاتھ پر بیعت کی، وہ بچ گیا اور جس نے بیعت سے انکار کیا، وہ قتل ہوا، یہ واقعہ ذوالحجہ سنہ ۶۳ ہجری میں پیش آیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12428
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11554 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11575»
حدیث نمبر: 12429
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَمِيرًا مِنْ أُمَرَاءِ الْفِتْنَةِ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُ جَابِرٍ فَقِيلَ لِجَابِرٍ لَوْ تَنَحَّيْتَ عَنْهُ فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ فَنُكِّبَ فَقَالَ تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا يَا أَبَتِ وَكَيْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ مَاتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ جَنْبَيَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زید بن اسلم سے مروی ہے کہ فتنے والے امراء میں ایک امیر مدینہ منورہ آیا، ان دنوں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بینائی سے محروم ہو چکے تھے، کسی نے ان سے کہا: اگر آپ اس سے دور ہو جائیں (تو بہتر ہے)، پس وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلتے ہوئے ایک طرف نکل گئے اور کہا: وہ آدمی تباہ و برباد ہو، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈرایا اور خوف زدہ کیا، ان کے دونوں بیٹوں نے یا ان میں سے کسی ایک نے کہا: اباجان! اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تو انتقال ہو چکا ہے، اس نے آپ کو کیسے خوف زدہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اس نے میرے دل کو خوف زدہ کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12429
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 1/ 53، وابن ابي شيبة: 12/ 180، وابن حبان: 3738 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14878»
حدیث نمبر: 12430
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ ”هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى إِنِّي لَأَرَى مَوَاقِعَ الْفِتَنِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے کی طرف نظر ڈالی اور فرمایا: جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں، کیا تمہیں بھی دکھائی دے رہا ہے؟ میں فتنوں اور مصیبتوں کے مقامات دیکھ رہا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12430
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1878، 2467، ومسلم: 2885، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22091»