کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل چہارم: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
حدیث نمبر: 12424
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ فَقَالَتْ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ غَرُّوهُ وَذَلُّوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ غَدِيَّةً بِبُرْمَةٍ قَدْ صَنَعَتْ لَهُ فِيهَا عَصِيدَةً تَحْمِلُهُ فِي طَبَقٍ لَهَا حَتَّى وَضَعَتْهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لَهَا أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ قَالَتْ هُوَ فِي الْبَيْتِ قَالَ ”فَاذْهَبِي فَادْعِيهِ وَائْتِنِي بِابْنَيْهِ“ قَالَتْ فَجَاءَتْ تَقُودُ ابْنَيْهَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدٍ وَعَلِيٌّ يَمْشِي فِي إِثْرِهِمَا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُمَا فِي حِجْرِهِ وَجَلَسَ عَلِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ وَجَلَسَتْ فَاطِمَةُ عَنْ يَسَارِهِ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَاجْتَبَذَ مِنْ تَحْتِي كِسَاءً خَيْبَرِيًّا كَانَ بِسَاطًا لَنَا عَلَى الْمَنَامَةِ فِي الْمَدِينَةِ فَلَفَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا فَأَخَذَ بِشِمَالِهِ طَرَفَيِ الْكِسَاءِ وَأَلْوَى بِيَدِهِ الْيُمْنَى إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ أَهْلِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا“ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِكَ قَالَ ”بَلَى فَادْخُلِي فِي الْكِسَاءِ“ قَالَتْ فَدَخَلْتُ فِي الْكِسَاءِ بَعْدَمَا قَضَى دُعَاءَهُ لِابْنِ عَمِّهِ عَلِيٍّ وَابْنَيْهِ وَابْنَتِهِ فَاطِمَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ جب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی تو میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو سنا کہ انہوں نے اہل عراق پر لعنت کی اور کہا: انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے، اللہ ان لوگوں کو قتل کرے، اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے، انہوں نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور بے وفائی کی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا صبح سویرے ایک دیگچی لے کر آئیں، جس میں انہوں نے کھانا تیار کیا تھا اور اسے ایک تھا ل میں رکھا ہوا تھا،انہوں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاراچچازاد کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ گھر پر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو اور دونوں بچوں کو بھی بلاؤ، وہ جا کر اپنے دونوں بچوں کو لے آئیں، دونوں کو ایک ایک ہاتھ میں پکڑ کر لا رہی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچوں کو اپنی گود میں بٹھالیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کی دائیں جانب اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب بیٹھ گئیں، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے نیچے سے خیبری چادر کھینچ لی، وہ مدینہ میں ہمارے بچھونے کی چادر تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چادر ان سب کے اوپر ڈال دی اور اپنے بائیں ہاتھ سے چادر کی دونوں اطراف کو پکڑ کر دایاں ہاتھ اللہ کی طرف اٹھا کر فرمایا: یا اللہ یہ لوگ میرے اہل خانہ ہیں، ان سے پلیدی کو دور کر اور انہیں خوب پاک کردے۔ یہ دعا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ کی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے اہل میں سے نہیں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم بھی چادر کے اندر آجاؤ۔ جب میں چادر کے اندر داخل ہوئی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا زاد سیدنا علی، اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے بیٹوں کے حق میں دعا کر کے فارغ ہوچکے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس روایت کے بعض امور درج ذیل حدیث میں بیان کیے گئے ہیں: عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں: حَدَّثَنِی مَنْ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَۃَ، تَذْکُرُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ فِی بَیْتِہَا فَأَتَتْہُ فَاطِمَۃُ بِبُرْمَۃٍ فِیہَا خَزِیرَۃٌ فَدَخَلَتْ بِہَا عَلَیْہِ فَقَالَ لَہَا: ((اُدْعِیْ زَوْجَکِ وَابْنَیْکِ۔)) قَالَتْ: فَجَائَ عَلِیٌّ وَالْحُسَیْنُ وَالْحَسَنُ فَدَخَلُوْا عَلَیْہِ فَجَلَسُوْا یَأْکُلُونَ مِنْ تِلْکَ الْخَزِیرَۃِ، وَہُوَ عَلٰی مَنَامَۃٍ لَہُ عَلٰی دُکَّانٍ تَحْتَہُ کِسَائٌ لَہُ خَیْبَرِیٌّ، قَالَتْ: وَأَنَا أُصَلِّی فِی الْحُجْرَۃِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ہٰذِہِ الْآیَۃَ: {إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} [الأحزاب: ۳۳] قَالَتْ فَأَخَذَ فَضْلَ الْکِسَائِ فَغَشَّاہُمْ بِہِ ثُمَّ أَخْرَجَ یَدَہُ فَأَلْوٰی بِہَا إِلَی السَّمَائِ ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ ہٰؤُلَائِ أَہْلُ بَیْتِی وَخَاصَّتِی فَأَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْہُمْ تَطْہِیرًا، اَللّٰہُمَّ ہٰؤُلَائِ أَہْلُ بَیْتِی وَخَاصَّتِی فَأَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَطَہِّرْہُمْ تَطْہِیرًا۔)) قَالَتْ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِی الْبَیْتَ فَقُلْتُ: وَأَنَا مَعَکُمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ إِنَّکِ إِلٰی خَیْرٍ إِنَّکِ إِلٰی خَیْرٍ۔))، قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ: وَحَدَّثَنِی أَبُو لَیْلٰی عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ مِثْلَ حَدِیثِ عَطَائٍ سَوَائً، قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ: وَحَدَّثَنِی دَاوُدُ بْنُ أَبِی عَوْفٍ أَبُو الْحَجَّافِ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ بِمِثْلِہِ سَوَائً۔ … سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ہنڈیا لے کرآئیں، جس میں گوشت سے تیار شدہ خریزہ تھا، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے خاوند اور اپنے دونوں بیٹوں کو بلا کر لاؤ۔ اتنے میںسیدنا علی، سیدنا حسن اور سیدنا حسین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور وہ سارے خریزہ کھانے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دکان (اونچی سی جگہ) پر تھے، جو آپ کی خواب گاہ تھی، نیچے خیبر کی بنی ہوئی چادر بچھا رکھی تھی۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت اتاری: {إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} … اللہ تعالیٰ تو صرف یہ ارادہ کرتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے پلیدی دور کر دیں اور تمہیں مکمل طور پر پاک کر دیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زائد چادر کے حصہ کو لیا اور انہیں ڈھانپ لیا، پھر اپنا ہاتھ آسمان کی جانب بلند کیا اور فرمایا: اے میرے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص ہیں، ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔اے میرے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص ہیں، ان سے پلیدی دور کر دے اور انہیں پاک کردے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے اس چادر کے اندر اپنا سر داخل کیا اور کہا:اے اللہ کے رسول! میں بھی تمہارے ساتھ شامل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم خیر پر ہو، بلاشبہ تم خیر پر ہو۔ (مسند احمد: ۲۷۰۴۱)
حدیث نمبر: 12425
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعَيْمٍ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ سَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الذُّبَابَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هُمَا رَيْحَانَتَيَّ مِنَ الدُّنْيَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ کسی (عراقی آدمی) نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی احرام کی حالت میں مکھی مارڈالے تو اس کا کیا کفارہ ہے؟ انھوں نے کہا: اہل عراق مکھی مارنے کے متعلق دریافت کرتے ہیں، حالانکہ ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کو قتل کر ڈالا ہے، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ دونوں یعنی حسن و حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے، بلکہ ایسے ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آدمی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے جرم سے بری ہو گا، لیکن بعض اوقات کسی مجرم کے بڑے پن کو واضح کرنے کے لیے جرم کو پوری قوم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 12426
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا دَاوُدُ بْنُ عُمَرَ ثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيِّ قَالَ رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ وَعِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ لَهُ أَبِي يَا أَبَا سُلَيْمَانَ أَيَّ سَنَةٍ سَمِعْتَ مِنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَنَةَ تِسْعٍ وَسِتِّينَ وَمِائَةٍ سَنَةَ وَقْعَةِ الْحُسَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نافع بن عمر جمحی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے عطاء بن ابی ملیکہ اور عکرمہ بن خالد کو دیکھا، انھوں نے نحر والے دن یعنی دس ذوالحجہ کو قبل از فجر رمی یعنی جمرے کو کنکریاں ماریں،میرے والد نے ان سے کہا: اے ابو سلیمان! آپ نے نافع بن عمر سے یہ حدیث کس سال سنی؟ انھوں نے کہا: حسین کی شہادت والے سال ۱۶۹ ہجری میں۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن یہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ نہیں ہیں، بلکہ حسین بن علی بن حسن بن سیدنا حسن بن سیدنا علی بن ابو طالب ہیں، یہ نیکی و تقوی، جو دو سخاوت اور ہمت و شجاعت والے آدمی تھے، یہ آٹھ ذوالحجہ ۱۶۹ہجری کو مکہ مکرمہ کے قریب فج وادی میں شہید کر دیئے گئے تھے۔
معلوم ہوا کہ اس روایت کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یوم عاشورا یعنی ۱۰ محرم ۶۱ سن ہجری کو عراق کی سرزمین میں کربلا کے مقام پر شہید ہوئے تھے۔
معلوم ہوا کہ اس روایت کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یوم عاشورا یعنی ۱۰ محرم ۶۱ سن ہجری کو عراق کی سرزمین میں کربلا کے مقام پر شہید ہوئے تھے۔