کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا رضی اللہ عنہا کے فرزند سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے¤فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غم کا بیان
حدیث نمبر: 12419
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ نُجَيٍّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ صَاحِبَ مِطْهَرَتِهِ فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ فَنَادَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ بِشَطِّ الْفُرَاتِ قُلْتُ وَمَاذَا قَالَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَغْضَبَكَ أَحَدٌ مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ قَالَ ”بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ قَبْلُ فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ قَالَ فَقَالَ هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فَمَدَّ يَدَهُ فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَأَعْطَانِيهَا فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن نجی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ طہارت والے پانی کا برتن اٹھا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہے تھے، جب وہ صفین کی طرف جاتے ہوئے نینوی مقام تک پہنچے، تو سیدنا علی نے آواز دی: ابو عبداللہ! ٹھہر جاؤ ، دریائے فرات کے کنارے ٹھہر جاؤ۔ میں نے کہا: ادھر کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، اس حال میں کہ آپ کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کسی نے آپ کو غصہ دلایا ہے؟ آپ کی آنکھیں کیوں آنسو بہار ہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ کی آمد سے قبل جبریل امین میرے پاس سے اٹھ کر گئے ہیں، انھوں نے مجھے خبر دی ہے کہ حسین کو دریائے فرات کے کنارے قتل کر دیا جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے کہا: میں آپ کو اس کی مٹی کی خوشبو سونگھاؤں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ پس اس نے اپنا ہاتھ لمبا کیا، مٹی کی مٹھی بھری اور مجھے دے دی۔ میں اپنے آپ پر قابو نہ پا سکا اور رونے لگ گیا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّي رَاَیْتُ حُلْمًا مُنْکرًا اللَّیْلَۃَ۔ قاَلَ: ((وَمَا ھُوَ؟)) قَالَتْ: اِنَّہُ شَدِیْدٌ۔قاَلَ: ((وَمَا ھُوَ؟)) قَالَ: رَاَیْتُ کَاَنَّ قِطْعَۃً مِنْ جَسَدِکَ قُطِعْتْ وَوُضِعَتْ فِي حِجْرِيْ۔ قَالَ: ((رَایَتِيْ خَیْرًا، تَلِدُ فَاطِمَۃُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ غُلَاماً فَیَکُوْنُ فِي حِجْرِکِ۔)) فوَلَدَتْ فَاطِمَۃُ الْحُسَیْنَ، فَکَانَ فِي حِجْرِي کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَدَخَلْتُ یَوْمًا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَوَضَعْتُہُ فِي حِجْرِہِ، ثُمَّ حَانَتْ مِنِّي اِلْتِفَاتَۃٌ فَاِذَا عَیْنَا رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تُھْرِ یْقَانِ مِنَ الدُّمُوْعِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا نَبِيَّ اللّٰہِ! بِأَبِي اَنْتَ وَاُمِّيْ مَالَکَ؟ فَقَالَ: ((اَتَانِي جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فَاَخْبَرَنِي اَنَّ اُمَّتِي سَتَقْتُلُ اِبْنِيْ ھٰذَا۔)) فَقُلْتُ: ھٰذَا؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ۔ وَاَتَانِي بِتُرْبَۃٍ مِنْ تُرْبَتِہٖ حَمْرَائَ۔)) … اے اللہ کے رسول! میں نے رات کو قبیح خواب دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: وہ بہت سخت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخر وہ ہے کیا؟ اس نے کہا: مجھے ایسے لگا کہ آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں پھینکا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے تو عمدہ خواب دیکھا ہے، (اس کی تعبیر یہ ہے کہ) ان شاء اللہ میری بیٹی فاطمہ کا بچہ پیدا ہو گاجو تیری گود میں ہو گا۔ واقعی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بچہ حسین پیدا ہوا جو میری گود میں تھا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی اور حسین کو آپ کی گود میں رکھ دیا۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئی تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ میں نے کہا:اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کو کیا ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتلایا کہ میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کر دے گی۔ میں نے کہا: یہ بیٹا (حسین)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ میرے پاس اس علاقے کی سرخ مٹی بھی لائے۔ (مستدرک حاکم: ۳/ ۱۷۶، صحیحہ: ۸۲۱)
آج کل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی نسبت سے جن امور کا ارتکاب کیا جا رہا ہے یا ان کو دین میں داخل کر دیا گیا ہے، ان احادیث ِ مبارکہ سے ان کا ردّ ہوتا ہے، کیونکہ جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے شہادت ِ حسین رضی اللہ عنہ کی ساری صورتحال واضح کر دی تھی، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دین میں کسی نئے حکم کا اضافہ نہ کیا۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی میدانِ کربلا میںشہادت امت مسلمہ کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا جبریل علیہ السلام کے تعاون سے پہلے ہی پیشین گوئی فرما دی تھی۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: اِس قسم کی احادیث کربلا کے تقدس، اس زمین پر سجدہ کرنے اور اس کی مٹی کی بنائی گئی ٹکیہ پر سجدے کرنے کی فضیلت پر دلالت نہیں کرتیں، جیسا کہ شیعوں کا خیال ہے، اگر اس قسم کی ٹکی کی کوئی فضیلت ہوتی تو مسجد حرام اور مسجد نبوی کی مٹی سے بنائی جانی چاہیے تھی۔
اصل میں اس چیز کا تعلق شیعوں کی بدعت اور اہل بیت اور ان کے آثار کی تعظیم میں غلو سے ہے۔ بڑی عجیب و غریب بات ہے کہ اِن لوگوں کے ہاں عقل بھی مصادرِ شریعت میں سے ہے، اسی بنا پر وہ عقلی تحسین اور عقلی تقبیح کے قائل ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ کربلا کی زمین پر سجدہ کرنے کی فضیلت ایسی روایات سے ثابت کرتے ہیں، جو عقلی تقاضوں کے مطابق بالکل باطل ہیں۔ سید عبد الرضا مرعشی شہرساتی نے اپنے رسالے (ص ۱۵) میں السجود علی التربۃ الحسینیۃ کے عنوان میں لکھا: کربلا کی مٹی کے شرف، تقدس اور وہاں مدفون ہستیوں کی طہارت کی وجہ سے اس پر سجدہ کرنا افضل ہے، عترتِ طاہرہ کے ائمہM سے مروی روایات اس پر دلالت کرتی ہیں، مثلا: اس (مٹی) پر کیے ہوئے سجدے ساتویں زمین تک نور پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ سجدے ساتوں پردوں کو چاک کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اس مٹی پر سجدے کرنے والے کی نماز قبول کرتا ہے، اس طرح دوسروں کی نہیں کرتا۔ حسین کی قبر کی مٹی پر کیا گیا سجدہ زمینوں کو روشن کر دیتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: ان روایات کا باطل و مردود ہونا ظاہر ہے، اہل بیت کے ائمہ ایسی مرویات سے بری ہیں، ان کی سرے سے کوئی سند ہی نہیں ہے کہ محقق علم حدیث اور اصول حدیث کی روشنی میں ان کو پرکھ سکے، کوئی روایت مرسل ہے تو کوئی معضل۔
اسی شیعہ مصنف نے اپنی کتاب کے ورقوں کو کالا کرتے ہوئے مزید کہا: حسینی مٹی کی فضیلت و تقدس پر دلالت کرنے والی روایات صرف ائمۂ اہلِ بیت سے مروی نہیں ہیں، بلکہ دوسرے اسلامی فرقوں کی بنیادی کتابوں میں بڑی شہرت کے ساتھ ان کا تذکرہ ملتا ہے، ان کے علما اور رواۃ نے ان کو روایات کیا ہے، مثلا امام سیوطی نے اپنی کتاب (الخصائص الکبری) میں (باب اخبار النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقتل الحسین علیہ السلام) میں امام حاکم، امام بیہقی، امام ابو نعیم اور امام طبری جیسے ثقات سے تقریباً بیس روایات بیان کی ہیں، اسی طرح امام ہیثمی کے (مجمع الزوائد: ۹/ ۱۹۱) میں بھی ان کا تذکرہ ملتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: اے مسلمان! تجھے علم ہونا چاہیے کہ امام سیوطی اور امام ہیثمی نے ایک حدیث بھی ایسی ذکر نہیں کی، جو حسینی مٹی کی فضیلت و تقدس پر دلالت کرے، اہل السنّہ کی روایت کردہ احادیث سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی تھی، جیسا کہ میں نے بھی اس صحیحہ میں چند روایات بیان کی ہیں۔
اس شیعے نے جن روایات کے بارے میں دعوی کیا ہے، کیا وہ سیوطی اور ہیثمی نے روایت کی ہیں؟
اے اللہ! ہرگز نہیں۔ در اصل یہ شیعہ اپنی ضلالت اور بدعت کی تائید میں رواں دواں تھا اور مکڑی کے جالے سے کمزور دلیل کا بھی سہارا لینے لگا۔
اس مرعشی شہرسانی شیعے نے اپنی کتاب کے قاریوں کو اتنا دھوکہ دینے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنے کی جرأت بھی کرنے لگا، جیسا کہ وہ کہتا ہے: جس نے سب سے پہلی مٹی سے بنی ہوئی تختی پر سجدہ کیا، وہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، یہ اس وقت کی بات ہے، جب ۳ ھ میں مسلمانوں اور قریشیوں میں احد والی جنگ لڑی گئی، جس میں رکنِ اسلام حمزہ بن عبد المطلب کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا کہ ہر محفلِ سوگ میں ان پر نوحہ کریں، پھر ان کی تکریم میں وسعت اختیار کی گئی اور لوگ ان کی قبر سے مٹی لے کر اس سے تبرک حاصل کرتے اور اس پر سجدہ کرتے اور اس سے سجدہ کی جگہیں بناتے، جیسا کہ(شیعوں کی کتاب) (الارض والتربۃ الحسینیۃ) میں ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: قارئینِ کرام! سوچیں، اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کیسا جھوٹ منسوب کیا اور یہ دعوی کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے سجدہ کرنے کے لیے ٹکی بنوائی تھی۔ پھر اس نے اپنے دعوی کی کوئی دلیل بھی پیش نہ کی۔ البتہ یہ جھوٹ پیش کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو سیدناحمزہ رضی اللہ عنہ پر نوحہ کرنے کا حکم دیا تھا، حالانکہ اس حکم کا مٹی والے مسئلہ سے کوئی ربط بھی نہیں ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو عورتوں سے نوحہ نہ کرنے کی بیعت لی تھی، جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدہ عطیہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے ثابت ہوتا ہے۔
پھر تیسرا جھوٹ یہ پیش کر دیا کہ صحابہ کرام تبرک کے لیے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر سے مٹی اٹھا لیتے اور اس پر سجدہ کرتے تھے۔ یہ صحابہ کرام پر واضح جھوٹ ہے۔ وہ اس قسم کی بت پرستی سے کوسوں دور تھے۔ پھر یہ بیچارہ اپنے جھوٹوں کو مسلمانوں کے کسی معروف مصدر کی طرف منسوب بھی نہ کر سکا۔ البتہ (الارض والتربۃ الحسینیۃ) کا نام پیش کر دیا، جو ایک شیعی کی کتاب ہے۔ (صحیحہ: ۱۱۷۱) اس کے بعد مزید بحث صحیحہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12419
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الله بن نجي مختلف فيه،وأبوه نجي لم يرو عنه غير ابنه، ولم يوثقه غير ابن حبان، وقال: لايعجبني الاحتجاج بخبره اذا انفرد، اخرجه النسائي: 3/ 12، والبزار: 879، وابن خزيمة: 902، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 648»
حدیث نمبر: 12420
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلَكَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ امْلِكِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ قَالَ وَجَاءَ الْحُسَيْنُ لِيَدْخُلَ فَمَنَعَتْهُ فَوَثَبَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مَنْكِبِهِ وَعَلَى عَاتِقِهِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَكُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّهُ قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ أَمَا إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فَجَاءَ بِطِينَةٍ حَمْرَاءَ فَأَخَذَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَصَرَّتْهَا فِي خِمَارِهَا قَالَ قَالَ ثَابِتٌ بَلَغَنَا أَنَّهَا كَرْبَلَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارش والے فرشتے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہو نے کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی، اللہ نے اسے اجازت دے دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم دروازے کے قریب رہنا اور کسی کو ہمارے پاس نہ آنے دینا۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے، وہ اندر آنے لگے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کوروکا، مگر وہ چھلانک لگا کر اندر چلے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک اور کندھے پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے کہا: کیاآپ کو اس سے محبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اس فرشتے نے کہا: اس کو تو آپ کی امت قتل کر دے گی۔ آپ چاہیں تو میں آپ کو ان کی قتل گاہ دیکھا سکتا ہوں، اس نے اپنا ہاتھ مارا اور سرخ مٹی لے آیا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں ڈال لی، ثابت کہتے ہیں: ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ان کی قتل گاہ کربلا کی زمین ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12420
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، تفرد به عمارة بن زاذان عن ثابت، وقد قال الامام احمد: يروي عن ثابت عن انس احاديث مناكير، اخرجه البزار: 2642، وابويعلي: 3402، وابن حبان: 6742، والطبراني في الكبير : 2813 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13573»
حدیث نمبر: 12421
عَنْ عَائِشَةَ أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ وَكِيعٌ شَكَّ هُوَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِإِحْدَاهُمَا ”لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ الْبَيْتَ مَلَكٌ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ قَبْلَهَا فَقَالَ لِي إِنَّ ابْنَكَ هَذَا حُسَيْنٌ مَقْتُولٌ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا قَالَ فَأَخْرَجَ تُرْبَةً حَمْرَاءَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میرے پاس گھر میں ایک فرشتہ آیا ہے، جو اس سے پہلے کبھی میرے پاس نہیں آیا تھا، اس نے بتلایاہے کہ آپ کا یہ بیٹا حسین قتل ہوگا، اگر آپ چاہیں تو آپ کو اس سرزمین کی مٹی دکھاؤں، جہاں یہ قتل ہوگا، پھر اس نے سرخ مٹی دکھائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12421
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن بطرقه وشاھده، اخرجه الطبراني في الكبير : 2815، وابن ابي شيبة: 15/ 97 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27059»