کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب سوم: سیدنا معاویہ کے بعض حالات، خطبوں اور حج کا بیان
حدیث نمبر: 12414
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ لَهُ أَمَا خِفْتَ أَنْ أُقْعِدَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ فَقَالَ مَا كُنْتِ لِتَفْعَلِيهِ وَأَنَا فِي بَيْتِ أَمَانٍ وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَعْنِي ”الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ“ كَيْفَ أَنَا فِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَكِ وَفِي حَوَائِجِكِ قَالَتْ صَالِحٌ قَالَ فَدَعِينَا وَإِيَّاهُمْ حَتَّى نَلْقَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے،سیدہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ میں کسی آدمی کوتمہاری تاک میں بٹھادوں جو تمہیں قتل کر دے؟ انھوں نے کہا: آپ ایسا کام نہیں کریں گی، کیونکہ میں حفظ وامان کے مرکز میں ہوں اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن چکا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایمان بے خبری میں کسی کو قتل کرنے سے روکتا ہے۔ میراآپ کے ساتھ اور آپ کی ضروریات کے بارے میں رویہ کیسا ہے؟ سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ٹھیک ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر آپ میرے اور ان لوگوں کے معاملات کو رہنے دیں تاآنکہ ہم اللہ تعالیٰ سے جاملیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12414
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير : 19/ 723 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16832 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16957»
حدیث نمبر: 12415
حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ رَبِّهِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا بَلَاءٌ وَفِتْنَةٌ وَإِنَّمَا مَثَلُ عَمَلِ أَحَدِكُمْ كَمَثَلِ الْوِعَاءِ إِذَا طَابَ أَعْلَاهُ طَابَ أَسْفَلُهُ وَإِذَا خَبُثَ أَعْلَاهُ خَبُثَ أَسْفَلُهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے منبر پر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا کا جو حصہ اب باقی ہے، وہ محض مصائب اور فتنے ہیں اور تمہارے اعمال کی مثال برتن کی مانند ہے، اگر اس کا اوپر والا حصہ پاک ہو تو نیچے والا حصہ بھی پاک ہوگا اور اگر اوپر والا حصہ ناپاک ہو ا تو نیچے والا بھی ناپاک ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … تقریباً ساڑھے چودہ صدیاں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا تھا، اس وقت سے لے کر اب تک امت مسلمہ کا کثیر وقت مصیبتوں، آزمائشوں اور فتنوں میں گزرا، خوشحالی اور روحانی تسکین والے زمانے کی مقدار بہت کم رہی، موجودہ زمانہ بھی مسلمانوں کے حق میں کسی بار گراں سے کم نہیں ہے، بلکہ اب تو مسلمان کفر کو غالب اور اپنے اسلام کو مغلوب سمجھنے لگ گئے ہیں اور بعض ممالک کے باشندے دشمنوں کے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی آدمی کے نیک اعمال اس کے باطن کے اچھا ہونے پر دلالت کرتے ہیں، یہی معاملہ برے اعمال کا ہے۔ اس سے ان لوگوں کا ردّ ہوتا ہے، جو بعض برائیوں میں ملوث ہونے اور بعض فرائض سے پہلوتہی برتنے کے باوجود اس پراگندہ خیال کے دعویدار ہیں کہ نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تعلق تو دل سے ہے، بظاہر نہ بھی کی جائے تو خیر ہے۔ دراصل ایسے لوگوں کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھ پن ہے اور یہ دعوی ان کی بد عملی کا بہانہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12415
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه الطبراني في الكبير : 19/ 866، وأخرجه ابن ماجه مختصرا: 4035 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16978»
حدیث نمبر: 12416
عَنْ أَبِي عَامِرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ قَالَ حَجَجْنَا مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَامَ حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابَيْنِ افْتَرَقُوا فِي دِينِهِمْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً يَعْنِي الْأَهْوَاءَ كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلَبُ بِصَاحِبِهِ لَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصَلٌ إِلَّا دَخَلَهُ وَاللَّهِ“ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَئِنْ لَمْ تَقُومُوا بِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَغَيْرُكُمْ مِنَ النَّاسِ أَحْرَى أَنْ لَا يَقُومَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عامر عبداللہ بن لحی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی معیت میں حج کے لیے گئے، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نماز ظہر ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ اہل کتاب اپنے دین کے متعلق بہتر گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور یہ امت تہتر گروہوں میں بٹ جائے گی،یعنی یہ لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے، ایک گروہ کے سوا باقی تمام جہنم رسید ہوں گے، اور وہ ایک گروہ جماعت ہے اور میری امت میں ایسے ایسے بھی لوگ پیدا ہوں گے کہ ان کے اندر خواہشات یوں سرایت کر جائیں گے جیسے باؤلے کتے کے کاٹے کے اثرات مریض کے پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں، اس کی کوئی رگ اور جوڑ اس کے اثر سے محفوظ نہیں رہتی۔)) اے عربو! اللہ کی قسم تمہارا نبی جو دین اور دعوت لے کر تمہارے پاس آیا ہے، اگر تم اس پر عمل نہ کرو گے تو دوسرے لوگ کہاں کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے پہلے حصے کی وضاحت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۷۹۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12416
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه ابوداود: 4597 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17061»