کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیان
حدیث نمبر: 12411
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ جَدِّي يُحَدِّثُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَخَذَ الْإِدَاوَةَ بَعْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَا وَاشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَيْنَا هُوَ يُوَضِّئُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ ”يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ وُلِّيتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاعْدِلْ“ قَالَ فَمَا زِلْتُ أَظُنُّ أَنِّي مُبْتَلًى بِعَمَلٍ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ابْتُلِيتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو امیہ عمرو بن یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے اپنے دادا سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار پڑ گئے تھے اوران کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وضو کا برتن سنبھال لیا اور وہ برتن لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہنے لگے، ایک دن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دو دفعہ اپنا سرمبارک ان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: معاویہ! اگر تجھے حکومت ملے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور عدل کا دامن تھامے رکھنا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کے پیش نظر مجھے یقین تھا کہ مجھے حکومت کے معاملے میں آزمایا جائے گا، بالآخر یہی ہوا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف معلوم ہوتی ہے، لیکن درج ذیل حدیث ِ مبارکہ میں مسلمانوں کی جن دو جماعتوں کا ذکر ہے، ان میں سے ایک جماعت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی تھی اور ایک سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ کے حق میں دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا اور اس طرح سے امت ِ مسلمہ کا پھر ایک بار ایک حکمران پر اتفاق ہو گیا تھا۔
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا:: ((اِبْنِیْ ھٰذَا سَیِّدٌ وَلَعَلَّ اللّٰہُ اَنْ یُّصْلِحَ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (صحیح بخاری: ۷۱۰۹) یہ میرا بیٹا سردار ہے، شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے مابین صلح کر وا دے۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ منتخب کیا گیا تو وہ چھ ماہ بعد اپنی خلافت سے مستعفی ہو گئے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار ہو گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12411
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الصحيح، غير ان جد عمرو بن يحيي، وھو سعيد بن عمرو، لم يتبين لنا سماعه من معاوية، وجزم الھيثمي في المجمع 5/ 186 بارساله، وضعّفه الذھبي في جملة ما ضعّفه من احاديث فضائل معاوية في السير 3/ 331، وذكر منھا ھذا الحديث، اخرجه ابويعلي: 7380، وابن بي شيبة: 11/ 147، والطبراني في الكبير : 19/ 850 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17057»