کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما مشترک ہیں
حدیث نمبر: 12406
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ هَذَا عَلَى عَاتِقِهِ وَهَذَا عَلَى عَاتِقِهِ وَهُوَ يَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً وَيَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُحِبُّهُمَا فَقَالَ ”مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے،اس وقت آپ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو ایک کندھے پر اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دوسرے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی اس کا بوسہ لیتے اور کبھی اُس کا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے چلتے ہمارے پاس آگئے، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوان دونوں سے محبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے ان دونوں سے محبت ہے،اسے مجھ سے محبت ہے اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12406
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، اخرجه الحاكم: 3/ 166، والبزار: 2627 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9671»
حدیث نمبر: 12407
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ أَخَذَهُمَا بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ أَخْذًا رَفِيقًا وَيَضَعُهُمَا عَلَى الْأَرْضِ فَإِذَا عَادَ عَادَا حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْعَدَهُمَا عَلَى فَخِذَيْهِ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرُدُّهُمَا فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ فَقَالَ لَهُمَا ”الْحَقَا بِأُمِّكُمَا“ قَالَ فَمَكَثَ ضَوْءُهَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عشاء کی نماز ادا کررہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں جاتے تو سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما آپ کی پشت پر سوار ہو جاتے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر اٹھانے کا ارادہ کرتے تو آپ اپنا ہاتھ پیچھے کر کے نرمی سے انہیں پکڑ کر زمین پر بٹھا دیتے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے سجدہ میں جاتے تو وہ پھر ویسے ہی کرتے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو اپنی رانوں پر بٹھا لیا ، میں (ابوہریرہ) آپ کی طرف اٹھ کر گیا اور کہا : اللہ کے رسول ! میں انہیں گھر پہنچا آؤں ، اتنے میں ایک چمک سی ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم دونوں اپنی والدہ کے پاس چلے جاؤ ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ان دونوں کے گھر داخل ہونے تک وہ چمک موجود رہی ، ایک روایت میں ہے : ان دونوں کے اپنی والدہ کے ہاں جانے تک وہ چمک باقی رہی ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12407
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه البزار: 2630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10669»
حدیث نمبر: 12408
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12408
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، اخرجه الترمذي: 3768، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1777 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11799»
حدیث نمبر: 12409
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ عَنْ يَعْلَى الْعَامِرِيِّ أَنَّهُ جَاءَ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا يَسْتَبِقَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ وَقَالَ ”إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا الرَّحْمَنُ عَزَّ وَجَلَّ بِوَجٍّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یعلی عامری سے روایت ہے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دوڑتے ہوئے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونو ں کو اپنے ساتھ لگا لیا اور فرمایا: بے شک اولاد بخل اور بزدلی کا باعث بنتی ہے اور فتح مکہ کے بعد رحمان کی طرف سے مشرکین کی آخری گرفت غزوۂ طائف میں وادیٔ وج کے مقام پر ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12409
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة سعيد بن ابي راشد، اخرجه ابن ماجه: 3666، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17562 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17705»