کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
حدیث نمبر: 12401
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي“ قَالَ عَاصِمٌ قَالَ أَبِي فَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ قَالَ رَأَيْتَهُ قُلْتُ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ قَالَ فَذَكَرْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ قَدْ ذَكَرْتُهُ وَنَعَتُّهُ فِي مِشْيَتِهِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّهُ كَانَ يُشْبِهُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ عاصم کہتے ہیں: میرے والد نے کہا:جب یہی حدیث سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ کو بیان کی تو میں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے، انہوں نے پوچھا: کیا واقعی تم نے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے اور میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا نام لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے مشابہ تھے اور میں نے آپ کے چلنے کے انداز کا بھی ذکر کیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہیں۔
حدیث نمبر: 12402
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَيَالٍ وَعَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ فَمَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَلْعَبُ مَعَ غِلْمَانٍ فَاحْتَمَلَهُ عَلَى رَقَبَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ وَأَبِي شَبَهُ النَّبِيِّ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيٍّ قَالَ وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عقبہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے چند راتوں بعد میں ایک دن عصر کی نماز کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نکلا، ان کے پہلو میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی چلے آر ہے تھے، اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی گردن پر سوار کر لیا اور کہا: واہ! میرا باپ قربان ہو، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہے، یہ اپنے والد علی رضی اللہ عنہ سے مشابہت نہیں رکھتا۔ یہ بات سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسکرا دئیے۔
حدیث نمبر: 12403
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَشْبَهَ النَّاسِ بِهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے زیادہ مشابہ تھے۔
حدیث نمبر: 12404
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَانَتْ فَاطِمَةُ تَنْقُزُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَتَقُولُ بِأَبِي شَبَهُ النَّبِيِّ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيٍّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ،سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو پیار و محبت سے اچھالتیں تو کہا کرتی تھیں: میرا باپ قربان، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مشابہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12405
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ الْحَسَنُ أَشْبَهُ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ النَّاسِ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلُ مِنْ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حسن رضی اللہ عنہ سینے سے سر تک اور حسین رضی اللہ عنہ سینے سے نیچے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔