کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ¤کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں¤فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
حدیث نمبر: 12396
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِحَسَنٍ ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق ارشاد فرمایا: یااللہ! مجھے اس سے محبت ہے،پس تو اس سے بھی محبت کر اور اس سے محبت کرنے والے سے بھی محبت کر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12396
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 2122، ومسلم: 2421 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7392»
حدیث نمبر: 12397
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ فَانْصَرَفَ وَانْصَرَفْتُ مَعَهُ فَجَاءَ إِلَى فِنَاءِ فَاطِمَةَ فَنَادَى الْحَسَنَ فَقَالَ ”أَيْ لُكَعُ أَيْ لُكَعُ أَيْ لُكَعُ“ قَالَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ قَالَ فَانْصَرَفَ وَانْصَرَفْتُ مَعَهُ قَالَ فَجَاءَ إِلَى فِنَاءِ عَائِشَةَ فَقَعَدَ قَالَ فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّهُ حَبَسَتْهُ لِتَجْعَلَ فِي عُنُقِهِ السِّخَابَ فَلَمَّا جَاءَ الْتَزَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْتَزَمَ هُوَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ“ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ مدینہ کے ایک بازار میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی طرف گئے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بلاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: او بچے! او چھوٹو! او بچے! کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کا جواب نہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آگئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لوٹ آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر جاکر بیٹھ گئے، اتنے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ بھی آگئے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ان کو ان کی والدہ نے ان کے گلے میں ہار کی مانند کوئی چیز ڈالنے کے لیے روک لیا تھا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو گلے لگالیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گلے سے لگ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت تین بار فرمایا: یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، پس تو اس سے بھی محبت کر اور اس سے محبت کرنے والے سے بھی محبت کر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12397
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري:5884، وأخرجه مسلم مختصرا: 2421 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8362»
حدیث نمبر: 12398
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعَ مُتَّكِئًا عَلَى يَدِي فَطَافَ فِيهَا ثُمَّ رَجَعَ فَاحْتَبَى فِي الْمَسْجِدِ وَقَالَ ”أَيْنَ لُكَاعٌ ادْعُوا لِي لُكَاعًا“ فَجَاءَ الْحَسَنُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَاشْتَدَّ حَتَّى وَثَبَ فِي حَبْوَتِهِ فَأَدْخَلَ فَمَهُ فِي فَمِهِ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ“ ثَلَاثًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا رَأَيْتُ الْحَسَنَ إِلَّا فَاضَتْ عَيْنِي أَوْ دَمَعَتْ عَيْنِي أَوْ بَكَتْ شَكَّ الْخَيَّاطُ (الرَّاوِي)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے بنو قینقاع کے بازار کی طرف تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں چکر لگایا، اس کے بعد واپس آکر مسجد میں بیٹھ گئے اور فرمایا: چھوٹا کہاں ہے؟ چھوٹو کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ اتنے میں سیدنا حسن علیہ السلام آگئے اور دوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا منہ اس کے منہ کے ساتھ لگایا اور تین بار فرمایا: یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، تو بھی اس سے اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت فرما۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں جب بھی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12398
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10904»
حدیث نمبر: 12399
عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمُصُّ لِسَانَهُ أَوْ قَالَ شَفَتَهُ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَنْ يُعَذَّبَ لِسَانٌ أَوْ شَفَتَانِ مَصَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زبان کو یا ہونٹ کو چوس رہے تھے اور جس زبان یا ہونٹوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوما ہو، اسے عذاب نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12399
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16848 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16973»
حدیث نمبر: 12400
عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ كُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فَلَقِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَرِنِي أُقَبِّلْ مِنْكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ قَالَ فَقَالَ بِالْقَمِيصَةِ قَالَ فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمیر بن اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا کہ ہم سے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آملے اور انہوں نے کہا: حسن! مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کے اس مقام کو بوسہ دوں، جس مقام پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دیتے دیکھا ہے، پھر انہوں نے ان کی قمیص اوپر اٹھا کر ان کی ناف پر بوسہ دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12400
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، تفرد به عمير بن اسحاق مختلف فيه، اخرجه ابن حبان: 5593، والطبراني: 2765، والحاكم: 3/ 168 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7455»