کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا خطبہ
حدیث نمبر: 12390
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هُبَيْرَةَ خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَقَدْ فَارَقَكُمْ رَجُلٌ بِالْأَمْسِ لَمْ يَسْبِقْهُ الْأَوَّلُونَ بِعِلْمٍ وَلَا يُدْرِكْهُ الْآخِرُونَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُهُ بِالرَّايَةِ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ وَمِيكَائِيلُ عَنْ شِمَالِهِ لَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يُفْتَحَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ہبیرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی علیہ السلام نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: کل ایک ایسا آدمی تمہیں داغ مفارقت دے گیا ہے کہ نہ تو پہلے لوگوں میں سے کوئی علمی طور پر اس سے سبقت لے گیا ہے اورنہ بعد والوں میں سے کوئی اس کے مقام کو پاسکے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے جھنڈا دے کر روانہ کرتے تو جبریل علیہ السلام اس کی داہنی جانب ہوتا اور میکائیل علیہ السلام اس کی بائیں جانب اور وہ فتح کے بغیر نہ لوٹتا تھا۔
حدیث نمبر: 12391
وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَزَادَ وَمَا تَرَكَ مِنْ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا سَبْعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ مِنْ عَطَائِهِ كَانَ يَرْصُدُهَا لِخَادِمٍ لِأَهْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سونا اور چاندی چھوڑکر نہیں گئے، بس صرف سات سو درہم تھے، جو انہوں نے اہل خانہ کے خادم کے لیے الگ محفوظ رکھے ہوئے تھے۔