کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل: خوارج کے سروں کو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
حدیث نمبر: 12381
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا غَالِبٍ يَقُولُ لَمَّا أُتِيَ بِرُءُوسِ الْأَزَارِقَةِ فَنُصِبَتْ عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ جَاءَ أَبُو أُمَامَةَ فَلَمَّا رَآهُمْ دَمَعَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ كِلَابُ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ هَؤُلَاءِ شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ وَخَيْرُ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ هَؤُلَاءِ قَالَ فَقُلْتُ فَمَا شَأْنُكَ دَمَعَتْ عَيْنَاكَ قَالَ رَحْمَةً لَهُمْ إِنَّهُمْ كَانُوا مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ قَالَ قُلْنَا أَبِرَأْيِكَ قُلْتَ هَؤُلَاءِ كِلَابُ النَّارِ أَوْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لَجَرِيءٌ بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا ثِنْتَيْنِ وَلَا ثَلَاثٍ قَالَ فَعَدَّ مِرَارًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو غالب کہتے ہیں: خارجیوں کے قتل کیے جانے کے بعد ان کے لا کر دمشق کی سیڑھی پر رکھ دئیے گئے، سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انہوں نے ان کو دیکھا تو ان کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں، وہ کہنے لگے:یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے یہ بد ترین مقتول ہیں اور اِنہوں نے جن لوگوں کو قتل کیا،وہ آسمان کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے بہترین مقتول ہیں۔ ابو غالب کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: تو پھر آپ کی آنکھوں میں آنسو کیوں آگئے ہیں؟ انھوں نے کہا: ان لوگوں پر ترس آجانے کی وجہ سے، کیونکہ یہ لوگ بنیادی طور پر اہل اسلام ہیں۔ ابو غالب کہتے ہیں: ہم نے کہا: آپ نے ان کے متعلق کہا کہ یہ جہنم کے کتے ہیں، یہ بات آپ نے اپنی طرف سے کہی ہے یا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میں اپنی طرف سے کہوں تو پھر تو میں بڑا جری ہوں، یہ میں نے اپنی طرف سے نہیں کہی، بلکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک، دو یا تین مرتبہ نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنی ہے۔
حدیث نمبر: 12382
وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي غَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ رَأَى رُءُوسًا مَنْصُوبَةً عَلَى دَرَجِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ كِلَابُ النَّارِ كِلَابُ النَّارِ ثَلَاثًا شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا ثُمَّ قَرَأَ {يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ} [آل عمران: 106] الْآيَتَيْنِ قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سِتًّا أَوْ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جامع مسجد دمشق کی سیڑھیوں پر نصب شدہ سر دیکھے تو تین مرتبہ کہا: یہ جہنم کے کتے ہیں، یہ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے یہ بد ترین مقتول ہیں اور اِنھوں نے جن لوگوں کو قتل کیا وہ آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے بہترین مقتول ہیں، پھر انہوں نے یہ دو آیات تلاوت کیں : {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ} … قیامت کے رو ز بہت سے چہرے روشن اور بہت سے چہرے سیاہ ہوں گے۔ (سورۂ آل عمران:۱۰۶) میں ابو غالب نے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے کہا:آیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو، تین، چار، پانچ، چھ یا سات مرتبہ بھی نہ سنی ہوتی تو تم سے بیان نہ کرتا۔
حدیث نمبر: 12383
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ قَالَ سَمِعْتُ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ يَقُولُ دَخَلَ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ دِمَشْقَ فَرَأَى رُءُوسَ حَرُورَاءَ قَدْ نُصِبَتْ فَقَالَ كِلَابُ النَّارِ كِلَابُ النَّارِ ثَلَاثًا شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا ثُمَّ بَكَى فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا أُمَامَةَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ مِنْ رَأْيِكَ أَمْ سَمِعْتَهُ قَالَ إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ كَيْفَ أَقُولُ هَذَا عَنْ رَأْيٍ قَالَ قَدْ سَمِعْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ قَالَ فَمَا يُبْكِيكَ قَالَ أَبْكِي لِخُرُوجِهِمْ مِنَ الْإِسْلَامِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاتَّخَذُوا دِينَهُمْ شِيَعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
صفوان بن سلیم سے مروی ہے کہ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ دمشق میں داخل ہوئے اورانہوں نے حروری یعنی خارجی لوگوں کے سرلٹکے ہوئے دیکھے تو انھوں نے تین بار کہا: یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں، یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے یہ بد ترین مقتول ہیں اور اِنہوں نے جن لوگوں کو قتل کیا، وہ آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے بہترین مقتول ہیں۔ پھر وہ رونے لگے: ایک آدمی آپ کی طرف اٹھا اور اس نے کہا:اے ابوامامہ آپ ان کو دیکھ کرکیوں روئے؟ انہوں نے کہا:میں اس لیے رو رہا ہوں کہ یہ لوگ دائرہ اسلام سے نکل گئے، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے تفرقہ ڈالا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔
حدیث نمبر: 12384
وَعَنْ سَيَّارٍ قَالَ جِيءَ بِرُءُوسٍ مِنْ قِبَلِ الْعِرَاقِ فَنُصِبَتْ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ وَجَاءَ أَبُو أُمَامَةَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ ثَلَاثًا فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیار سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں کے سر عراق سے لا کر اور مسجد کے دروازے کے پاس نصب کر دیئے گئے، سیدنا ابوامامہ آئے اور مسجد میں داخل ہو ئے، دو رکعت نماز ادا کی،پھر ان کی طرف نکلے، ان کو دیکھا اور پھر سر اٹھایا اور کہا: یہ آسمان کے نیچے سب سے برے مقتول ہیں۔ یہ بات تین دفعہ دہرائی، پھر سابق روایت کے طرح آگے بیان کیا۔
وضاحت:
فوائد: … خوارج کے تعارف کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۲۷)والا باب۔