کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل سوم: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
حدیث نمبر: 12372
عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ لَمَّا خَرَجَتِ الْخَوَارِجُ بِالنَّهْرَوَانِ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ وَهُمْ أَقْرَبُ الْعَدُوِّ إِلَيْكُمْ وَإِنْ تَسِيرُوا إِلَى عَدُوِّكُمْ أَنَا أَخَافُ أَنْ يَخْلُفَكُمْ هَؤُلَاءِ فِي أَعْقَابِكُمْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”تَخْرُجُ خَارِجَةٌ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ وَلَا قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ وَلَيْسَ لَهَا ذِرَاعٌ عَلَيْهَا مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ عَلَيْهَا شَعَرَاتٌ بِيضٌ لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ لَاتَّكَلُوا عَلَى الْعَمَلِ فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ“ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زید بن وہب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نہروان میں خوارج کا ظہور ہوا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے رفقاء میں کھڑے ہو کر کہا: ان لوگوں نے نا حق خون بہایااور انھوں نے لوگوں کے جانوروں کو لوٹا اور وہ تمہارے دشمنوں میں سے قریب ترین بھی ہیں، اندیشہ ہے کہ اگر تم اپنے دوسرے دشمن کی طرف جاؤ تو یہ تمہارے بعد باقی ماندہ افراد و اموال پر چڑھ آئیں گے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں ایسا گروہ بھی آئے گا کہ تمہاری نمازیں اور روزے ان کی نمازوں اور روزوں کے بالمقابل کچھ بھی نہ ہوں گی اور تمہاری تلاوت ان کی تلاوت کا مقابلہ نہیں کر سکے گی، وہ قرآن کو پڑھیں گے اور سمجھیں گے کہ یہ ان کے حق میں ہے، جبکہ درحقیقت وہ ان کے خلاف ہوگا اور وہ ان کے حلقوں سے نیچے تک نہیں اترے گا، وہ اسلام میں سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے کچھ نشان لیے بغیر گزر جاتا ہے، ان کی علامت یہ ہے کہ ان میں سے ایک آدمی کا بازو محض کہنی کے اوپر والا حصہ ہوگا اور کہنی سے نیچے والا حصہ نہ ہوگا اور وہ بھی پستان کی مانند ہو گا، اس پر کچھ سفید بال ہوں گے، اگر ان کو قتل کرنے والوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے اپنے عمل اور اس کے ثواب کا علم ہو جائے تو وہ اپنے اسی عمل پر کفایت کر کے اعمال کرنا چھوڑ دیں گے، پس تم اللہ کا نام لے کر چل پڑو۔ اس کے بعد باقی حدیث ذکر بیان کی۔
وضاحت:
فوائد: … جب خوارج کی سرکشی اور قتل وغارت حد سے بڑھ گئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ شام پر فوج کشی کا ارادہ ملتوی کر کے ان خارجیوں کی تنبیہ کے لیے نہروان کا قصد کیا، نہروان پہنچ کر سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خارجیوں کے پاس بھیجا کہ وہ بحث و مباحثہ کر کے ان کو ان کی غلطی پر متنبہ کریں، جب ان دونوں کو ناکامی ہوئی تو خارجیوں کے ایک سردار ابن الکواء کو بلا کر خود ہر طرح سے سمجھایا، لیکن ان کے قلوب تاریک ہو چکے تھے، اس لیے ارشاد و ہدایت کی تمام کوششیں ناکام رہیں اور خلیفۃ المسلمین نے مجبور ہو کر فوج کو تیاری کا حکم دیا اور پھر نہروان کی جنگ پیش آئی، جس کی تفصیل ان احادیث میں بیان کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 12373
عَنْ طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَارَ عَلِيٌّ إِلَى النَّهْرَوَانِ فَقَتَلَ الْخَوَارِجَ فَقَالَ اطْلُبُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَتَكَلَّمُونَ بِكَلِمَةِ الْحَقِّ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ سِيمَاهُمْ أَوْ فِيهِمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ مُخْدَجُ الْيَدِ فِي يَدِهِ شَعَرَاتٌ سُودٌ“ إِنْ كَانَ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَيْرَ النَّاسِ قَالَ ثُمَّ إِنَّا وَجَدْنَا الْمُخْدَجَ قَالَ فَخَرَرْنَا سُجُودًا وَخَرَّ عَلِيٌّ سَاجِدًا مَعَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
طارق بن زیاد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں خوارج کے مقابلہ کے لیے نکلے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کوقتل کیا اور پھر کہا: ذرادیکھو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ عنقریب ایک قوم نکلے گی کہ وہ بات تو حق کی کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی، وہ حق سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے گزر جاتا ہے، ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی سیاہ فام، ناقص ہاتھ والا ہوگا، اس کے ہاتھ پر سیاہ بال ہوں گے۔ اب دیکھو کہ اگر کوئی مقتول ایسا ہو تو تم نے ایک بدترین لوگوں کو قتل کیا اور اگر کوئی مقتول ایسا نہ ہو تو تم نے نیک ترین لوگوں کو قتل کیا۔پھر ہم نے واقعی ناقص ہاتھ والے ایسے مقتول کو پا لیا، پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے اور ہمارے ساتھ علی رضی اللہ عنہ بھی سجدہ میں گر گئے۔
وضاحت:
فوائد: … ظن غالب کی روشنی میں قتال کیا گیا تھا، لیکن جب ناقص ہاتھ والے مقتول کی علامت نظر آئی تو یقین ہو گیا کہ یہ وہی لوگ تھے، جن سے واقعی قتال ہونا چاہیے تھا۔
حدیث نمبر: 12374
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ أَنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا بَلَغْنَا مَسِيرَةَ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ مِنْ حَرُورَاءَ شَذَّ مِنَّا نَاسٌ كَثِيرٌ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَا يَهُولَنَّكُمْ أَمْرُهُمْ فَإِنَّهُمْ سَيَرْجِعُونَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ إِنَّ خَلِيلِي أَخْبَرَنِي أَنَّ قَائِدَ هَؤُلَاءِ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِهِ شَعَرَاتٌ كَأَنَّهُنَّ ذَنَبُ الْيَرْبُوعِ فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا إِنَّا لَمْ نَجِدْهُ فَقَالَ فَالْتَمِسُوهُ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ثَلَاثًا فَقُلْنَا لَمْ نَجِدْهُ فَجَاءَ عَلِيٌّ بِنَفْسِهِ فَجَعَلَ يَقُولُ اقْلِبُوا ذَا اقْلِبُوا ذَا حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْكُوفَةِ فَقَالَ هُوَ ذَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا يَأْتِيكُمْ أَحَدٌ يُخْبِرُكُمْ مَنْ أَبُوهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ هَذَا مَالِكٌ هَذَا مَالِكٌ يَقُولُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ابْنُ مَنْ هُوَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو وضیئی عباد کہتے ہیں: ہم علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں کوفہ کی طرف جا رہے تھے، جب ہم حروراء سے دو تین راتوں کی مسافت آگے گئے تو ہم میں سے بہت سے لوگ الگ ہوگئے، ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے اس چیز کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: ان کی یہ حرکت تمہیں پریشان نہ کرے، یہ لوگ عنقریب لوٹ جائیں گے،اس کے بعد انہوں نے ساری حدیث ذکر کی، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتلایا تھا کہ ان لوگوں کا سردار نامکمل ہاتھ والا ہو گا اور اس کے سرِ پستان پر کچھ بال ہوں گے، جیسے ایک قسم کے چھوٹے چوہے کی دم ہوتی ہے۔ اب تم لوگ اسے تلاش کرو، انہیں ایسا کوئی آدمی نہ ملا، ہم نے ان کی خدمت میں آکر عرض کی کہ ہمیں تو ایسا کوئی آدمی نہیں ملا، انہوں نے کہا: پھر تلاش کرو، اللہ کی قسم نہ میں نے غلط بات کہی ہے اور نہ مجھے غلط بات بتائی گئی ہے، یہ بات انھوں نے تین بار دہرائی، ہم نے کہا: ہمیں تو ایسا کوئی آدمی نہیں ملا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود تشریف لائے اور کہنے لگے: اسے الٹ کر دیکھو، اسے الٹو، یہاں تک کہ ایک کوفی آدمی آیا اور اس نے کہا: یہ ہے وہ آدمی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا اور پھر کہا: کوئی آدمی تمہیں یہ نہیں بتلا سکے گا کہ اس کاباپ کون ہے؟ لوگ کہنے لگے: یہ مالک ہے، یہ مالک ہے، انھوں نے کہا: یہ تو بتلاؤ یہ کس کا بیٹا ہے۔
حدیث نمبر: 12375
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمُخْدَجِ قَالَ عَلِيٌّ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ثَلَاثًا فَقَالَ عَلِيٌّ أَمَا إِنَّ خَلِيلِي أَخْبَرَنِي ثَلَاثَةَ إِخْوَةٍ مِنَ الْجِنِّ هَذَا أَكْبَرُهُمْ وَالثَّانِي لَهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ وَالثَّالِثُ فِيهِ ضَعْفٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ابو وضیئی کہتے ہیں: ہم سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی معیت میں کوفہ کی طرف جا رہے تھے، پھر انہوں نے ناقص ہاتھ والے آدمی سے متعلقہ حدیث کا ذکر کیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین بار کہا: اللہ کی قسم! نہ تو میں نے جھوٹ کہا ہے اور نہ مجھے جھوٹی بات بیان کی گئی ہے، پھر کہا: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتلایاتھاکہ جنوں میں سے تین بھائی ہیں، یہ سب سے بڑا ہے، دوسرے کی بہت بڑی جمعیت ہے اور تیسرے میں ضعف اور کمزوری ہے۔
حدیث نمبر: 12376
عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ لَمَّا قَتَلَ عَلِيٌّ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ قَالَ الْتَمِسُوهُ فَوَجَدُوهُ فِي حُفْرَةٍ تَحْتَ الْقَتْلَى فَاسْتَخْرَجُوهُ وَأَقْبَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَخْبَرْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ مَنْ يَقْتُلُ هَؤُلَاءِ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبیدہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان کو قتل کیاتو انہوں نے کہا: اس قسم کے مقتول کو تلاش کرو، لوگوں نے اسے مقتولین کے نیچے ایک گڑھے میں گرا ہوا پایا، انھوں نے اس کو نکالا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوکر کہا: اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم فخر و غرور میں مبتلا ہوجاؤ گے تو میں تمہیں بتلاتا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی ان لوگوں کے قاتلین کے لیے کیا وعدہ فرمایا ہے، میں نے کہا: اے علی! کیا آپ نے خود یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم ہے۔
حدیث نمبر: 12377
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ قَالَ كُنَّا نُقَاتِلُ الْخَوَارِجَ وَفِينَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى وَقَدْ لَحِقَ لَهُ غُلَامٌ بِالْخَوَارِجِ وَهُمْ مِنْ ذَلِكَ الشَّطِّ وَنَحْنُ مِنْ ذَا الشَّطِّ فَنَادَيْنَاهُ أَبَا فَيْرُوزَ أَبَا فَيْرُوزَ وَيْحَكَ هَذَا مَوْلَاكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى قَالَ نِعْمَ الرَّجُلُ هُوَ لَوْ هَاجَرَ قَالَ مَا يَقُولُ عَدُوُّ اللَّهِ قَالَ قُلْنَا يَقُولُ نِعْمَ الرَّجُلُ لَوْ هَاجَرَ قَالَ فَقَالَ أَهِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَتِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن جمہان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خوراج سے قتال کر رہے تھے، ہمارے ساتھ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کا ایک غلام جا کر خوارج کے ساتھ مل گیا، وہ ایک کنارے پر تھے اور ہم دوسری طرف، ہم نے اسے آواز دی، ابو فیروز! ابو فیروز، تمہارے آقا سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ یہاں ہیں، اس نے کہا: اگر ہجرت کر آئیں تو بہت ہی اچھے ہیں، سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ اللہ کا دشمن کیا کہہ رہا ہے؟ ہم نے کہا وہ کہہ رہا ہے کہ وہ اچھا آدمی ہے اگر وہ ہجرت کرے اس کی بات سن کر ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا:کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کے بعد مزید ہجرت ہے؟ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جو ان کو قتل کرے یا جس کو یہ قتل کریں۔
وضاحت:
فوائد: … خوارج سے قتال کرنے والے لوگ اس وقت کے خیر و بھلائی والے لوگ ہوں گے، اس لیے ان کے لیے خوشخبری ہے، وہ قتل کریں یا قتل ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 12378
حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ قَالَ كُنْتُ مَعَ سَيِّدِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَيْثُ قُتِلَ أَهْلُ النَّهْرَوَانِ فَكَأَنَّ النَّاسَ وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ قَتْلِهِمْ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَدَّثَنَا بِأَقْوَامٍ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَرْجِعُونَ فِيهِ أَبَدًا حَتَّى يَرْجِعَ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ وَإِنَّ آيَةَ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا أَسْوَدَ مُخْدَجَ الْيَدِ إِحْدَى يَدَيْهِ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ لَهَا حَلَمَةٌ كَحَلَمَةِ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ حَوْلَهُ سَبْعُ هُلْبَاتٍ فَالْتَمِسُوهُ فَإِنِّي أَرَاهُ فِيهِمْ فَالْتَمَسُوهُ فَوَجَدُوهُ إِلَى شَفِيرِ النَّهْرِ تَحْتَ الْقَتْلَى فَأَخْرَجُوهُ فَكَبَّرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَإِنَّهُ لَمُتَقَلِّدٌ قَوْسًا لَهُ عَرَبِيَّةً فَأَخَذَهَا بِيَدِهِ فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي مُخْدَجَتِهِ وَيَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَكَبَّرَ النَّاسُ حِينَ رَأَوْهُ وَاسْتَبْشَرُوا وَذَهَبَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَجِدُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
انصار کے غلام ابو کثیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اپنے سردار سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا، جب انہوں نے اہل نہروان کو قتل کیا تو یو ں محسوس ہواکہ ان کو قتل کرنے کے بعد لوگوں کو ندامت اور افسوس محسوس ہوا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ صورت بھانپ کر کہا: لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسے لوگوں کی بابت بتلایا تھا جو دین میں سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے گزر جاتا ہے، وہ کبھی دین کی طرف واپس نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ تیر کمان میں واپس آ جائے، ان کی ایک علامت یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی سیاہ فام ناقص ہاتھ والا ہوگا، اس کا وہ ہاتھ عورت کے پستان کی مانند ہوگا اور اس پریوں سرا بنا ہوگا جیسے پستان کے اوپر ہوتا ہے، اس کے ارد گرد سات بال ہوں گے، تم اسے تلاش کرو، میرا خیال ہے کہ وہ انہی میں ہوگا،لوگوں نے اسے تلاش کیا اوراسے نہر کے کنارے پر مقتولوں کے ڈھیر کے نیچے پایا، لوگوں نے اسے نکالا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی بات سچ ہے، اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی عربی کمان لٹکائے ہوئے تھے، وہ اسے اس مقتول کے ناقص ہاتھ والے گوشت کے ٹکڑے پر لگاتے اور کہتے جاتے تھے: اللہ اور اس کے رسول کا فرمان سچ ہے، لوگوں نے بھی جب اسے دیکھا تو اللہ اکبر کہنے لگے اور خوشی کا اظہار کیا اور ان کے افسوس کی کیفیت جاتی رہی۔
حدیث نمبر: 12379
عَنْ بَكْرِ بْنِ قِرْوَاشٍ عَنْ سَعْدٍ قِيلَ لِسُفْيَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ ”شَيْطَانُ الرَّدْهَةِ يَحْتَدِرُهُ يَعْنِي رَجُلًا مِنْ بَجِيلَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوارج کے سردار شیطان کو بنی بجیلہ کا ایک آدمی لڑ ھکائے گا یعنی قتل کرے گا۔ کسی نے سفیان سے کہا: کیا یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد کی روایت مختصر ہے، ابو یعلی کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: عن سعد بن مالک أنہ سمع النبی صلی اللہ علیہ و سلم وذکر، یعنی ذا الثدیۃ، الذی وُجد مع أہل النہروان فقال: شیطان ردْہۃ، یحدُرہ رجل من بجیلۃ، یقال لہ الأشہب أو ابن الأشہب علامۃ فی قوم ظَلَمۃ، قال سفیان: فقال عمار الدہنی حین حدث: جاء بہ رجل منا من بجیلۃ فقال: أراہ فلان من دہن یقال لہ الأشہب أو ابن الأشہب۔ … سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پستان والے آدمی کا ذکر کیا، جس کو اہل نہروان کے ساتھ مقتول پایا گیا تھا، اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (خوارج کے) پہاڑی غار کے شیطان کو بنو بجیلہ کا ایک آدمی اشہب یا ابن اشہب نامی آدمی لڑھکائے گا، یعنی قتل کرے گا، یہ ظالم قوم کی علامت ہو گی۔ امام سفیان نے کہا: جب عمار دہنی نے یہ حدیث بیان کی تو ہمارے خاندان کا ایک آدمی بجیلہ کے اس آدمی کو لے آیا، میرا خیال ہے کہ اس کا تعلق دہن سے تھا اور اس کو اشہب یا ابن اشہب کہتے تھے۔