کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گروہ بر حق تھا
حدیث نمبر: 12360
عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنِّي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ إِلَّا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ ”يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمَ كَذَا وَكَذَا“ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنَ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مَرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ فَمِنْهُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ كَأَنَّ يَدَيْهِ ثَدْيُ حَبَشِيَّةٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ کے پاس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسرا کوئی اور فرد نہیں تھا ، آپ نے فرمایا : اے ابن ابی طالب ! تمہارا اور فلاں فلاں قوم کا کیا بنے گا ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرق کی جانب سے کچھ لوگ نکلیں گے ، وہ قرآن تو پڑھیں گے ، مگر وہ ان کے سینوں کے نیچے نہیں اترے گا ، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے ، جیسے شکار میں سے تیر تیزی سے گزر جاتا ہے ، ان میں سے ایک آدمی ناقص ہاتھ والا ہو گا ، یوں محسوس ہو گا کہ اس کے ہاتھ کسی حبشی عورت کے پستان ہیں ۔
حدیث نمبر: 12361
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذُكِرَ الْخَوَارِجُ فَقَالَ فِيهِمْ مُخْدَجُ الْيَدِ أَوْ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مُثَدَّنُ الْيَدِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ قُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خوارج کا ذکرکیا گیا تو انھوں نے کہا:ان میں سے ایک آدمی ناقص ہاتھ والا ہوگا، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہو کہ تم فخرو غرور میں مبتلا ہوجاؤ گے، تو میں تمہیں بتلاتاکہ اللہ تعالیٰ نے ان خوارج کو قتل کرنے والوں کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر کیا وعدہ فرمایا ہے، میں نے کہا: کیا واقعی آپ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم! جی ہاں، رب کعبہ کی قسم! جی ہاں، رب کعبہ کی قسم!
حدیث نمبر: 12362
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَقَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان کا ذکرکرتے ہوئے کہا: ان میں سے ایک آدمی ناقص ہاتھ والا ہوگا، … پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 12363
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ وَاجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ قَالَ ”لَا وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ لَيَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي تُحَقِّرُونَ أَعْمَالَكُمْ مَعَ أَعْمَالِهِمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ“ قَالُوا فَهَلْ مِنْ عَلَامَةٍ يُعْرَفُونَ بِهَا قَالَ ”فِيهِمْ رَجُلٌ ذُو يُدَيَّةٍ أَوْ ثُدَيَّةٍ مُحَلِّقِي رُءُوسِهِمْ“ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَحَدَّثَنِي عِشْرُونَ أَوْ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَلِيَ قَتْلَهُمْ قَالَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ بَعْدَمَا كَبِرَ وَيَدَاهُ تَرْتَعِشُ يَقُولُ قِتَالُهُمْ أَحَلُّ عِنْدِي مِنْ قِتَالِ عِدَّتِهِمْ مِنَ التُّرْكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت زیادہ پختہ قسم اٹھاتے تو اس طرح فرماتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے! میری امت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم ان کے اعمال کے مقابلہ میں اپنے اعمال کو معمولی سمجھو گے، وہ قرآن تو پڑھیں گے، لیکن قرآن ان کے سینوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے شکار میں سے تیر صاف نکل جاتا ہے۔ صحابۂ کرام نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی کچھ علامات بیان فرما دیں، جن سے وہ پہنچانے جاسکیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک آدمی کا ہاتھ یوں ہوگا، جیسے عورت کا پستان ہوتا ہے اور ان کے سرمنڈے ہوئے ہوں گے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھ سے بیس یا اس سے بھی زائد صحابہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو قتل کیا تھا۔ عاصم سے مروی ہے کہ میں نے ابو سعید رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ عمر رسیدہ ہوچکے تھے اور ان کے ہاتھوں میں رعشہ تھا، وہ کہتے تھے: ان خوارج کو قتل کرنا میرے نزدیک انہی کے بقدر ترکوں سے لڑنے سے افضل اور اہم ہے۔
حدیث نمبر: 12364
عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ إِنَّ مِنَّا رِجَالًا هُمْ أَقْرَؤُنَا لِلْقُرْآنِ وَأَكْثَرُنَا صَلَاةً وَأَوْصَلُنَا لِلرَّحِمِ وَأَكْثَرُنَا صَوْمًا خَرَجُوا عَلَيْنَا بِأَسْيَافِهِمْ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَخْرُجُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: ہم میں سے کچھ لوگ بہت زیادہ قرآن پڑھتے تھے، نماز ادا کرتے تھے، سب سے بڑھ کر صلہ رحمی کرتے اور روزے رکھتے تھے اوروہی تلواریں نکال کر ہمارے خلاف نکل آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: کچھ لوگ ظاہر ہوں گے، وہ قرآن پڑھیں گے، لیکن قرآن ا ن کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر تیزی کے ساتھ شکار میں سے صاف نکل جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 12365
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا قَالَ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ قَوْمًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ عِنْدَ صَلَاتِهِمْ وَصَوْمَهُ عِنْدَ صَوْمِهِمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ أَخَذَ سَهْمَهُ فَنَظَرَ فِي نَصْلِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ نَظَرَ فِي رُصَافِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ نَظَرَ فِي قِدْحَتِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ نَظَرَ فِي الْقُذَذِ فَتَمَارَى هَلْ يَرَى شَيْئًا أَمْ لَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو سلمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ابو سعید رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حروریوں یعنی خوارج کی بابت کچھ بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ دین میں بہت زیادہ باریکیوں اور گہرائی میں جائیں گے اور وہ اس قدر نیک ہوں گے کہ تم ان کے مقابلہ میں اپنی نمازوں کو اور اپنے روزوں کو معمولی سمجھو گے، لیکن وہ دین سے یوں صاف نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے اس طرح تیزی کے ساتھ نکل جاتا ہے کہ شکاری اپنے تیر کو اٹھا کر اس کو دیکھتا ہے، لیکن اس میں کوئی اثر نظر نہیں آتا، پھر وہ اس کے پھل کا جائزہ لیتا ہے، لیکن وہ کوئی علامت دیکھ نہیں پاتا،پھر وہ اس کے بعد والے حصے کو دیکھتا ہے اس میں بھی کوئی اثر نظر نہیں آتا پھر پروں کو بھی اچھی طرح دیکھتا ہے، اور وہ اس بارے متردد ہو جاتا ہے کہ کیا کوئی اثر ہے یا نہیں۔
حدیث نمبر: 12366
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَفْتَرِقُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ فَيَتَمَرَّقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت د وگروں میں تقسیم ہو جائے گی، پھر ان کے درمیان ایک تیسرا گروہ نکلے گا، دونوں میں سے جو گروہ حق کے زیادہ قریب ہوگا، وہ اس گروہ کو قتل کر ے گا۔
حدیث نمبر: 12367
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ تَمْرُقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ يَقْتُلُهَا أَوْلَاهُمَا بِالْحَقِّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی، جب تک کہ دو بڑے گروہ آپس میں نہیں لڑیں گے، جبکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا، پھر ان دونوں کے درمیان سے ایک تیسرا گروہ جنم لے گا، ان دونوں بڑے گروہوں میں سے جو حق کے زیادہ قریب ہوگا، وہ اس گروہ کو قتل کرے گا۔
حدیث نمبر: 12368
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ قَوْمًا يَكُونُونَ فِي أُمَّتِهِ يَخْرُجُونَ فِي فِرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ أَوْ مِنْ شَرِّ الْخَلْقِ يَقْتُلُهُمْ أَدْنَى الطَّائِفَتَيْنِ مِنَ الْحَقِّ قَالَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ مَثَلًا أَوْ قَالَ قَوْلًا الرَّجُلُ يَرْمِي الرَّمِيَّةَ أَوْ قَالَ الْغَرَضَ فَيَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِي النَّضِيِّ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِي الْفُوقِ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَأَنْتُمْ قَتَلْتُمُوهُمْ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کا ذکر کیا، جو امت میں افترق و اختلاف کے وقت ظاہر ہوں گے،ان کی نشانی یہ ہوگی کہ وہ سرمنڈاتے ہوں گے یہ مخلوق سے بدترین ہے۔ ان کو دو گروہوں میں حق کے زیادہ قریب گروہ قتل کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر ایک مثال پیش کی کہ آدمی شکار پر تیر چلاتا ہے (وہ تیر شکار کے خون اور گوبر میں سے گزر کر گیا ہے) لیکن وہ تیر کے پھل پر کوئی چیز نہیں دیکھتا۔ اس کی لکڑی پر کوئی اثر نہیں دیکھتا۔ اس کی چٹکی پر کوئی نشان نہیں۔ (اس طرح قرآن مجید پڑھنے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہو گا)
وضاحت:
فوائد: … عربوں کی عادت سر منڈانا نہیں تھا۔اہل عراق سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب ہیں۔
حدیث نمبر: 12369
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”الْخَوَارِجُ هُمْ كِلَابُ النَّارِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوارج جہنم کے کتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12370
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ وَسَأَلَهُ هَلْ سَمِعْتَ فِي الْخَوَارِجِ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ سَمِعْتُ وَالِدِي أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ أَشِدَّاءُ أَحِدَّاءُ ذَلِقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ أَلَا فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ ثُمَّ إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ فَالْمَأْجُورُ قَاتِلُهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عثمان شحام سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں: ہمیں مسلم بن ابی بکرہ نے بیان کیا کہ انہوں نے اس سے پوچھا کہ آیا انھوں نے خوارج کے متعلق کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو سنا، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! عنقریب میری امت سے کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دینی امور میں سختی کرنے والے اور تیز ہوں گے، ان کی زبانیں قرآن کے ساتھ بڑی ماہر ہوں گی، مگر وہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا، جب تم انہیں دیکھو تو قتل کر ڈالنا، پھر کہتاہوں کہ تم جب انہیں دیکھو تو ان کو قتل کر دینا، ان کو قتل کرنے والا اجر کا مستحق ہوگا۔
حدیث نمبر: 12371
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ أَنَّ رَجُلًا وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِبَشَرَةِ وَجْهِهِ وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ قَالَ فَنَبَتَتْ شَعَرَةٌ فِي جَبْهَتِهِ كَهَيْئَةِ الْقَوْسِ وَشَبَّ الْغُلَامُ فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الْخَوَارِجِ أَحَبَّهُمْ فَسَقَطَتِ الشَّعَرَةُ عَنْ جَبْهَتِهِ فَأَخَذَهُ أَبُوهُ فَقَيَّدَهُ وَحَبَسَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ بِهِمْ قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَوَعَظْنَاهُ وَقُلْنَا لَهُ فِيمَا نَقُولُ أَلَمْ تَرَ أَنَّ بَرَكَةَ دَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَقَعَتْ عَنْ جَبْهَتِكَ فَمَا زِلْنَا بِهِ حَتَّى رَجَعَ عَنْ رَأْيِهِمْ فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ الشَّعَرَةَ بَعْدُ فِي جَبْهَتِهِ وَتَابَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے کر آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے چہرے کا چمڑہ پکڑ کر اس کے حق میں برکت کی دعا کی، پس اس بچے کی پیشانی پر کمان کی مانند بال اگ آیا اور وہ بچہ جوان ہوگیا، جب خوارج کادور آیا تو وہ بچہ ان کی طرف مائل ہوا اور ان سے محبت کرنے لگا، تو اس کے چہرے کا وہ بال جھڑ گیا، یہ دیکھ کر اس کے والد نے اسے پکڑ کر قید کر کے محبو س کر دیا، اسے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ ان کے ساتھ مکمل طور پر نہ مل جائے، سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم اس کے پاس گئے اور جا کر وعظ نصیحت کی اور اپنی باتوں میں ہم نے اس سے یہ بھی کہاکہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاکی برکت تمہاری پیشانی سے جھڑ گئی ہے، ہم اسے مسلسل وعظ کرتے رہے تاآنکہ اس نے خوارج کی رائے سے رجوع کرلیا، اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کر لی اور اس کے بعد اس کی پیشانی پر بال دوبارہ اگ آیا۔
وضاحت:
فوائد: … محدثین نے خوارج کو ان احادیث کا مصداق قرار دیا ہے، پچھلے دو ابواب کے آخر میں محولہ مقامات کا مطالعہ کریں