کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
حدیث نمبر: 12353
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَهَبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةٍ بَيْنَ زَيْدِ الْخَيْرِ وَالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ أَوْ عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ شَكَّ عُمَارَةُ فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَالْأَنْصَارُ وَغَيْرُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا تَأْتَمِنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ يَأْتِينِي خَبَرٌ مِنَ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً“ ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مُشَمَّرُ الْإِزَارِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ فَقَالَ ”وَيْحَكَ أَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ أَنَا“ ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَالَ خَالِدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَلَعَلَّهُ يَكُونُ يُصَلِّي“ فَقَالَ إِنَّهُ رُبَّ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أُنَقِّبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ“ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُقَفٍّ فَقَالَ ”هَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ“ زَادَ فِي رِوَايَةٍ ”يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے رنگے ہوئے چمڑے میں بند سونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجاہے، جسے ابھی مٹی سے صاف نہیں کیا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ سونا زید خیر، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل یہ شک اس حدیث کے ایک راوی عمارہ کو ہے (صحیح علقمہ بن علاثہ ہے کیونکہ عامر کئی سال پہلے کا فوت ہو چکا ہے)، میں تقسیم فرمایا: تو بعض صحابہ اور انصار وغیرہ کو یہ کافی محسوس ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ مجھے امین،دیانت دار نہیں سمجھتے؟ حالانکہ میں اللہ کا امین ہوں اور میرے پاس صبح شام آسمان سے خبریں آتی ہیں۔ دوسری روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس تقسیم پر قریش اور انصار کے کچھ لوگ غضناک ہوئے، انہوں نے کہا:آپ اہل نجد کے بڑے بڑے لوگوں کو عطیات دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان کی دل جوئی کرتا ہوں، اس کے بعدایک آدمی آپ کے پاس آیا، اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی، رخسار ابھرے ہوئے اور پیشانی اونچی،داڑھی گھنی،چادر خوب اونچی اور سرمنڈا ہواتھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ اللہ سے ڈریں، دوسری روایت میں ہے، اس نے کہا: اے محمد! اللہ سے ڈریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اس کی طرف اٹھایا اور فرمایا: تم پر افسوس ہے کہ تمام روئے زمین والوں میں سے میں سب سے زیاد ہ اس بات کا حقدار نہیں کہ اللہ سے ڈروں؟ اس کے بعد وہ آدمی چلا گیا، یہ سارا ماجرا دیکھ کر خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اس کی گردن نہ اڑادوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں!شاید یہ نماز پڑھتا ہو۔ تو خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: بعض نماز ی اپنی زبان سے ایسی باتیں کہتے ہیں: جو ان کے دل میں نہیں ہوتیں،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس بات کا مکلف نہیں ٹھہرایاگیا کہ میں لوگوں کے دلوں اور ان کے پیٹوں کو چیر چیر کر دیکھوں۔ وہی آدمی پیٹھ موڑ کر جا رہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا: اس کی نسل میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے، وہ قرآن تو پڑھیں گے مگر وہ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے شکار میں سے تیر تیزی سے نکل جاتا ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو کچھ نہیں کہیں گے، اگر میں نے ان کو پایا تو ان کو یوں قتل کر وں گا جس طرح قوم عاد کو قتل کیا گیا تھا کہ ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12353
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3344، 4667، ومسلم: 1064، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11671»
حدیث نمبر: 12354
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ سَاجِدٍ وَهُوَ يَنْطَلِقُ إِلَى الصَّلَاةِ فَقَضَى الصَّلَاةَ وَرَجَعَ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”مَنْ يَقْتُلُ هَذَا“ فَقَامَ رَجُلٌ فَحَسَرَ عَنْ يَدَيْهِ فَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ ”مَنْ يَقْتُلُ هَذَا“ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا فَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ حَتَّى أُرْعِدَتْ يَدُهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَتَلْتُمُوهُ لَكَانَ أَوَّلَ فِتْنَةٍ وَآخِرَهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مسلم بن ابی بکرہ اپنے سے والد بیان کرتے ہیں: کہ ایک آدمی سجدہ کی حالت میں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پا س سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس وقت نماز کے لیے تشریف لے جارہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا کرنے کے بعد واپس ہوئے تووہ ابھی تک سجدہ ہی میں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے کون قتل کرے گا،؟ تو ایک آدمی نے اٹھ کر اپنے بازوں سے آستین اوپر کو چڑھائی اور تلوار نکال کر اسے لہرایا، پھر کہا: اللہ کے نبی میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہوں، میں کیونکر ایسے آدمی کو قتل کروں جو سجدہ میں ہے اور اللہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اللہ کے بندے اور رسول ہونے کی شہادت دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اسے کون قتل کرے گا؟ تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: میں، پھر اس نے اپنے آستین چڑھا لیے اور تلوار نکال کر اس قدر لہرایا کہ اس کا ہاتھ کانپنے لگا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں کیونکر ایسے آدمی کو قتل کروں جو سجدہ کی حالت میں ہے اور وہ اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۱۲/ ۲۹۹) میں اس حدیث کے شواہد ذکر کیے اور یہ استدلال کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، یہ ذوا لخویصرہ یا ابن ذو الخویصرۃ تھا، یہ وہی آدمی تھا، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا،
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12354
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله رجال الصححيح، لكن في متنه نكارة، وقد تفرد به مسلم بن ابي بكرة عن ابيه، وعثمان الشحام عن مسلم بن ابي بكرة، وعثمان وثقه غير واحد، لكن قال فيه يحيي القطان: تعرف وتنكر، ولم يكن عندي بذاك، وقال النسائي: ليس بالقوي، وقال في موضع آخر: ليس به بأس، اخرجه ابن ابي عاصم في السنة : 938 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20431 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20703»
حدیث نمبر: 12355
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِوَادِي كَذَا وَكَذَا فَإِذَا رَجُلٌ مُتَخَشِّعٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ يُصَلِّي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اذْهَبْ إِلَيْهِ فَاقْتُلْهُ“ قَالَ فَذَهَبَ إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا رَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ كَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ ”اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ“ فَذَهَبَ عُمَرُ فَرَآهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ الَّتِي رَآهُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ فَكَرِهَ أَنْ يَقْتُلَهُ قَالَ فَرَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مُتَخَشِّعًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ ”يَا عَلِيُّ اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ“ قَالَ فَذَهَبَ عَلِيٌّ فَلَمْ يَرَهُ فَرَجَعَ عَلِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَمْ يُرَهْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ فِي فُوقِهِ فَاقْتُلُوهُمْ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تشریف لائے اور کہا: اللہ کے رسول! میرا فلاں وادی میں گزر ہوا تو وہاں ایک حسین وجمیل آدمی انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کررہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جا کر اسے قتل کردو۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ اس کی طرف واپس گئے تو اسے اسی حالت میں پایا، آپ نے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا،آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آگئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم جا کر اسے قتل کرآؤ۔ عمر رضی اللہ عنہ وہا ں گئے، تو اسے اسی حالت میں پایا جس حالت میں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا تھا، انہوں نے بھی اسے قتل کر ناٹھیک نہ سمجھا، انہوں نے واپس آکر کہا: اللہ کے رسول! میں نے اسے انتہائی خشوع کے ساتھ نماز ادا کرتے دیکھا اس لیے اس کو قتل کرنا ٹھیک نہ سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی! تم جاؤ اور اسے قتل کردو۔ علی رضی اللہ عنہ گئے تو آپ نے اسے وہاں نہ دیکھا، علی رضی اللہ عنہ نے واپس آکر کہا: اللہ کے رسول! وہ مجھے تو نظر نہیں آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اور اس کے ساتھی قرآن کی تلاوت خوب کریں گے، مگر وہ ان کے سینے سے نیچے نہ اترے گا اور یہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے کمان میں سے تیر نکل جاتا ہے، یہ دین میں واپس نہیں آئیں گے حتی کہ تیر اپنی کمان میں واپس آجائے، تم انہیں قتل کر دینا، یہ تمام لوگوں میں سے بد ترین لوگ ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12355
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو رؤبة شداد بن عمران القيسي مجھول الحال ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11135»
حدیث نمبر: 12356
عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ خَرَجْتُ أَنَا وَتَلِيدُ بْنُ كِلَابٍ اللَّيْثِيُّ حَتَّى أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ مُعَلِّقًا نَعْلَيْهِ بِيَدِهِ فَقُلْنَا لَهُ هَلْ حَضَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُكَلِّمُهُ التَّمِيمِيُّ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ نَعَمْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ يُقَالُ لَهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ فَوَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُعْطِي النَّاسَ قَالَ يَا مُحَمَّدُ قَدْ رَأَيْتُ مَا صَنَعْتَ فِي هَذَا الْيَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَجَلْ فَكَيْفَ رَأَيْتَ“ قَالَ لَمْ أَرَكَ عَدَلْتَ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ”وَيْحَكَ إِنْ لَمْ يَكُنِ الْعَدْلُ عِنْدِي فَعِنْدَ مَنْ يَكُونُ“ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَقْتُلُهُ قَالَ ”لَا دَعُوهُ فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَهُ شِيعَةٌ يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهُ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ يُنْظَرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ ثُمَّ فِي الْقِدْحِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ ثُمَّ فِي الْفُوقِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ“ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدَةَ هَذَا اسْمُهُ مُحَمَّدٌ ثِقَةٌ وَأَخُوهُ سَلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَلَا نَعْلَمُ خَبَرَهُ وَمِقْسَمٌ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى وَطُرُقٌ أُخَرُ فِي هَذَا الْمَعْنَى صِحَاحٌ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مقسم ابو القاسم مولی عبداللہ بن حارث بن نوفل سے مروی ہے کہ میں اور تلید بن کلاب لیثی روانہ ہوئے اور ہم عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، وہ اپنے جوتے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، میں نے ا ن سے کہا: کہ کیا آ پ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حنین کے دن اس وقت موجود تھے، جب ایک تمیمی آپ سے محو کلام تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، بنوتمیم کاایک آدمی آیا تھا، جسے ذوالخویصر، کہا جاتا ہے: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر کھڑا ہوگیا، آپ اس وقت لوگوں میں عطیات تقسیم فرمارہے تھے، اس نے کہا: اے محمد آپ آج جو کام کر رہے ہیں، میں نے دیکھ لیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں تم نے کیا دیکھا ہے؟ اس نے کہا:میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ نے انصاف سے کام نہیں لیا، اس کی اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضبناک ہوگئے اور فرمایا: تجھ پر افسوس ہے، اگر میرے پاس عدل نہیں تو اور کس کے پاس ہوگا؟ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے گزارش کی: اللہ کے رسول! کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں اسے چھوڑ دو، کچھ لوگ اس کے معاون ہوں گے اور وہ دین میں اس حد تک گہرائی میں جائیں گے کہ دین میں سے یوں نکل جائیں گے جیسے شکار میں سے تیر نکل جاتا ہے، تیرکو اچھی طرح دیکھیں تو اس کے کسی بھی حصہ پر خون کا نشان تک نہیں ہوتا، وہ خون اور گو بر کے درمیان سے تیزی سے نکل جاتا ہے۔ ابوعبدالرحمن نے کہا ہے: اس حدیث کے راوی ابو عبیدہ کا نام محمد ہے اور وہ ثقہ راوی ہے اس کے بھائی سلمہ بن محمد بن عمار سے صرف علی بن زید نے روایت حدیث کی ہے ہم اس کے حالات سے واقف نہیں، مقسم بھی مقبول راوی ہے۔ اس حدیث کے بہت سے طرق صحیح ہیں۔واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12356
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7038 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7038»
حدیث نمبر: 12357
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ ”سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ“ مِنْهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ فِي إِحْدَى يَدَيْهِ أَوْ قَالَ إِحْدَى ثَدْيَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ النَّاسِ فَنَزَلَتْ فِيهِمْ {وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ} [التوبة: 58] الْآيَةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا حِينَ قَتَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ جِيءَ بِالرَّجُلِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند روایت کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ ان لوگوں میں ایک آدمی سیاہ فام ہوگا جس کا ایک بازو عورت کے پستان کی مانند ہوگا، یا یوں فرمایا کہ اس کا ایک باز و گوشت کے لوتھڑے کی مانند ہوگا اور حرکت کرتا ہوگا، یہ لوگ ایک زمانے میں نکلیں گے، انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئی: {وَمِنْہُمْ مَنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ} … اور ان میں کچھ لوگ صدقات کی تقسم میں آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتل کیا تو میں اس وقت ان کے ساتھ تھا اور وہ آدمی ویسا ہی تھاجیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12357
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 3610، ومسلم: 1064، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11558»
حدیث نمبر: 12358
عَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنِي عَنِ الْخَوَارِجِ فَلَقِيتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ يَا أَبَا بَرْزَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ فِي الْخَوَارِجِ فَقَالَ أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَّ وَرَأَتْ عَيْنَايَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِيرَ فَكَانَ يَقْسِمُهَا وَعِنْدَهُ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومُ الشَّعْرِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ فَتَعَرَّضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا فَقَالَ وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ فِي الْقِسْمَةِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا ثُمَّ قَالَ ”وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَحَدًا أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي“ قَالَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ ”يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ رِجَالٌ كَأَنَّ هَذَا مِنْهُمْ هَدْيُهُمْ هَكَذَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ لَا يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ قَالَهَا ثَلَاثًا شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ قَالَهَا ثَلَاثًا“ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ لَا يَرْجِعُونَ فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شریک بن شہاب کہتے ہیں: میں تمنا کیا کرتا تھاکہ میری کسی ایسے صحابی سے ملاقات ہو جو مجھے خوارج کے متعلق بتلائے، اتفاق سے میری ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے عرفہ کے دن ملاقات ہوگئی، وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ تھے، میں نے کہا: اے ابو برزہ! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان فرمائیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوراج کے متعلق بیان فرمایا ہو، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دینار لا ئے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ تقسیم فرما رہے تھے، ایک سیاہ فام اور گنجا آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھڑا تھا،جس نے دو سفید کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے اور اس کی آنکھوں کے درمیان سجدوں کے نشانات تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کی طرف سے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کوئی چیز نہ دی، پھروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کی طرف سے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر بھی اسے کچھ نہ دیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے آج کی تقسیم میں انصاف بالکل نہیں کیا، اس کی یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید غضبناک ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم میرے بعد مجھ سے بڑھ کر کسی کو انصاف کرنے والا نہیں پاؤ گے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی جانب سے کچھ لوگ ظاہر ہوں گے، یہ آدمی گویا انہی لوگوں میں سے ہے وہ ایسے ہوں گے کہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے سینے سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جسے شکار میں سے تیر صاف نکل جاتا ہے۔ اس سند کے ایک راوی حما د نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر یوں بیان کیاکہ: وہ لوگ دین کی طرف پلٹ کر نہیں آئیں گے، ان کی علامت یہ ہوگی کہ وہ سرمنڈاتے ہوں گے، وہ دین سے نکلتے جائیں گے، یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی (دجال کے ساتھ) نکلے گا، تم انہیں دیکھو تو انہیں قتل کر دینا۔ یہ بھی آپ نے تین مرتبہ فرمایا: وہ سب لوگوں سے بدترین ہوں گے۔ یہ بات بھی آپ نے تین مرتبہ دہرائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12358
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون قوله: حتي يخرج آخرھم ، اخرجه النسائي: 7/ 119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19783 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20021»
حدیث نمبر: 12359
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِيرَ فَكَانَ يَقْسِمُهَا فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي بَرْزَةَ الْمُتَقَدِّمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دینار لائے گئے، اس سے آگے ابو بزرہ رضی اللہ عنہ کی گزشتہ حدیث کی مانند ہے۔
وضاحت:
فوائد: … خوارج کون تھے؟ نیز ان کے نظریات کیا تھے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۲۸۲۷) والا اور اس سے پہلے والا باب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12359
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه البزار: 1852 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20706»