کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل دوم: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے
حدیث نمبر: 12350
عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْبَرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي رَأْسِ عَمَّارٍ يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لِيَطِبْ بِهِ أَحَدُكُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“ قَالَ مُعَاوِيَةُ فَمَا بَالُكَ مَعَنَا قَالَ إِنَّ أَبِي شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَطِعْ أَبَاكَ مَا دَامَ حَيًّا وَلَا تَعْصِهِ“ فَأَنَا مَعَكُمْ وَلَسْتُ أُقَاتِلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حنظلہ بن خویلد عنبری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ان کے ہاں دو آدمی آئے، وہ دونوں عمار رضی اللہ عنہ کے سر کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، ان میں سے ہر ایک کہتا تھاکہ اس نے قتل کیا ہے، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: بہتر ہے کہ تم میں سے ایک یہ بات اپنے ساتھی کے بارے میں بخوشی تسلیم کر لے، (یہ کوئی باعث ِ ناز بات تو نہیں ہے)، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: ایک باغی گروہ عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کر ے گا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا:اگر یہ بات ہے تو تم ہمارے ساتھ کیوں ملے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا: میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاکر میری شکایت کر دی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیاتھا کہ تمہارا والد جب تک زندہ ہے، ان کی بات ماننا اور ان کی نافرمانی نہ کرنا۔ اس لیے میں تمہارے ساتھ تو ہوں مگر لڑائی میں شامل نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12350
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه النسائي في خصائص علي : 164، وابن ابي شيبة: 15/ 291 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6538»
حدیث نمبر: 12351
عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ كُنَّا بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو الْغَادِيَةِ اسْتَسْقَى مَاءً فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مُفَضَّضٍ فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ”لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا أَوْ ضُلَّالًا شَكَّ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ“ فَإِذَا رَجُلٌ يَسُبُّ فُلَانًا فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَئِنْ أَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْكَ فِي كَتِيبَةٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ إِذَا أَنَا بِهِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ قَالَ فَفَطِنْتُ إِلَى الْفُرْجَةِ فِي جُرُبَّانِ الدِّرْعِ فَطَعَنْتُهُ فَقَتَلْتُهُ فَإِذَا هُوَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ قَالَ قُلْتُ وَأَيَّ يَدٍ كَفَتَاهُ يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ فِي إِنَاءٍ مُفَضَّضٍ وَقَدْ قَتَلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
کلثوم بن جبر کہتے ہیں:کہ ہم واسط القصب نامی مقام میں عبد الا علی بن عبداللہ بن عامر کے ہاں موجود تھے، وہاں محفل میں ابو الغادیہ نامی ایک آدمی تھا، اس نے پینے کے لیے پانی طلب کیا، ایک ایسے برتن میں اسے پانی دیا گیاجس کا کنارا ٹوٹا ہوا تھا، اس نے اس برتن میں پانی پینے سے انکار کر دیا اور دوران گفتگو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا بھی ذکر ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے بعد کا فریا گمراہ نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ وہی آدمی دوران گفتگو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے لگا، میں نے کہا: اللہ کی قسم اگر کسی لشکر میں اللہ نے مجھے تجھ پر موقع دیا تو دیکھی جائے گی، جنگ صفین کے دن وہ زرہ پہنے ہوئے تھا، زرہ کے حلقوں میں خالی جگہ کو تاک کرمیں نے اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا، وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تھے، کلثوم کہتے ہیں: اس نوجوان کی طرح کا کون سا ہاتھ ہے ایک دن حدیث نبوی کے پیش نظر کنارا ٹوٹے ہوئے برتن میں پانی پینے سے انکار کر دیا اور ایک موقع یہ بھی تھا کہ اس نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12351
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه مطولا ومختصرا البخاري في التاريخ الاوسط : 1/ 237، والطبراني في الكبير : 22/ 912، 913، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16698 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16818»