کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فصل اول: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکلنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا س کے معلق پیشن گوئی کرنا
حدیث نمبر: 12334
عَنْ ابْنَةٍ لِأُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِيهَا وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ عَلِيًّا لَمَّا قَدِمَ الْبَصْرَةَ بَعَثَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَتْبَعَنِي فَقَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي وَابْنُ عَمِّكَ فَقَالَ ”إِنَّهُ سَيَكُونُ فُرْقَةٌ وَاخْتِلَافٌ فَاكْسِرْ سَيْفَكَ وَاتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ وَاقْعُدْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ“ فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ يَا عَلِيُّ أَنْ لَا تَكُونَ تِلْكَ الْيَدَ الْخَاطِئَةَ فَافْعَلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اہبان بن صیفی رضی اللہ عنہ ، جو کہ صحابی ہیں، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب بصرہ میں تشریف لائے تو انہوں نے مجھے بلوا بھیجا اور کہا: میرے ساتھ چلنے میں تمہیں کیا مانع ہے ؟ میں نے کہا : مجھے میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ : عنقریب لوگوں میں فتنہ و اختلاف برپا ہو گا ، اس موقع پر تم اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی ایک تلوار بنا لینا اور الگ تھلک ہو کر اپنے گھر میں بیٹھے رہنا ، یہاں تک کہ کوئی ظالم ہاتھ یا موت تم تک پہنچ جائے ۔ لہذا میں نے تو وہی کام کیا ، جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا ، اے علی ! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ وہ ظالم خطا کار ہاتھ نہ بنو تو تم ایسا ضرور کرو ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12334
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن بطرقه وشواھده، اخرجه ابن ماجه: 3960، والترمذي: 2203 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27200 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27742»
حدیث نمبر: 12335
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ عُدَيْسَةَ ابْنَةِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ أَبِيهَا فِي مَنْزِلِهِ فَمَرِضَ فَأَفَاقَ مِنْ مَرَضِهِ ذَلِكَ فَقَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِالْبَصْرَةِ فَأَتَاهُ فِي مَنْزِلِهِ حَتَّى قَامَ عَلَى بَابِ حُجْرَتِهِ فَسَلَّمَ وَرَدَّ عَلَيْهِ الشَّيْخُ السَّلَامَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا مُسْلِمٍ قَالَ بِخَيْرٍ فَقَالَ عَلِيٌّ أَلَا تَخْرُجُ مَعِي إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ فَتُعِينَنِي قَالَ بَلَى إِنْ رَضِيتَ بِمَا أُعْطِيكَ قَالَ عَلِيٌّ وَمَا هُوَ فَقَالَ الشَّيْخُ يَا جَارِيَةُ هَاتِي سَيْفِي فَأَخْرَجَتْ إِلَيْهِ غِمْدًا فَوَضَعَتْهُ فِي حِجْرِهِ فَاسْتَلَّ مِنْهُ طَائِفَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ خَلِيلِي عَلَيْهِ السَّلَامُ وَابْنَ عَمِّكَ عَهِدَ إِلَيَّ إِذَا كَانَتْ فِتْنَةٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ أَنِ اتَّخِذَ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ فَهَذَا سَيْفِي فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ بِهِ مَعَكَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا حَاجَةَ لَنَا فِيكَ وَلَا فِي سَيْفِكَ فَرَجَعَ مِنْ بَابِ الْحُجْرَةِ وَلَمْ يَدْخُلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عدیسہ بنت اہبان بن صیفی بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنے والد سیدنا اہبان بن صیفی رضی اللہ عنہ کے گھر میں ان کے پاس تھیں، وہ بیمار پڑ گئے اور پھر ان کو افاقہ ہو گیا، اس وقت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بصرہ میں تھے، وہ ان کے گھر تشریف لائے اور ان کے کمرہ کے دروازہ کے پاس کھڑے ہو کر سلام پیش کیا، میرے والد نے انہیں سلام کا جواب دیا، انہوں نے کہا: ابو مسلم! کیسے مزاج ہیں؟ میرے والد نے کہا: ٹھیک ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم میرے ساتھ ان لوگوں کے مقابلے میں نکل کر میری مدد نہیں کرو گے؟ میرے والد نے کہا:کیوں نہیں، بشرطیکہ میں جو کچھ بیان کروں، آپ اسے پسند کریں تو میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ کیا؟ پس میرے والدنے کہا: لڑکی! ذرا میری تلوار لے آؤ۔ میں نے میان نکال کر ان کی گود میں لے جا کر رکھ دی، انہوں نے میان سے تھوڑی سی تلوار نکالی اور پھر اپنا سر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف اٹھایا اور کہا: میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھاکہ: جب مسلمانوں کے مابین فتنہ و اختلاف بپا ہو تو لکڑی کی تلوار بنا لینا۔ پس میری تو یہی تلوار ہے، اگر آپ چاہیں تو میں یہ لے کر آپ کے ساتھ نکلتا ہوں، یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں تمہارے اور تمہاری تلوار کی کوئی ضرورت نہیں، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کمرے کے دروازے سے باہر چلے گئے اور واپس نہ آئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12335
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20946»
حدیث نمبر: 12336
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَقَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي وَابْنُ عَمِّكِ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”سَتَكُونُ فِتَنٌ وَفُرْقَةٌ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَاكْسِرْ سَيْفَكَ وَاتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ“ فَقَدْ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ وَالْفُرْقَةُ وَكَسَرْتُ سَيْفِي وَاتَّخَذْتُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ وَأَمَرَ أَهْلَهُ حِينَ ثَقُلَ أَنْ يُكَفِّنُوهُ وَلَا يُلْبِسُوهُ قَمِيصًا قَالَ فَأَلْبَسْنَاهُ قَمِيصًا فَأَصْبَحْنَا وَالْقَمِيصُ عَلَى الْمِشْجَبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا اہبان رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: عنقریب فتنے اور اختلافات رونما ہوں گے، جب ایسے حالات پیدا ہوجائیں تو اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی تلوار بنا لینا۔ اور جب میرے والد زیاد ہ بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنے اہل خانہ کو حکم دیا کہ جب وہ ان کو کفن دیں تو قمیص نہ پہنائیں، لیکن ہم نے انہیں قمیص پہنا دی، جب صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ وہ قمیص کھونٹی پر لٹکی ہوئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12336
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول و الثاني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20947»