حدیث نمبر: 12327
عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ صَحِيفَةٌ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبْلِ وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ فَقَدْ كَذَبَ قَالَ وَفِيهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابراہیم تیمی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: جو شخص یہ سمجھے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور اس صحیفہ کے علاوہ بھی دین کی کوئی بات ہے تو وہ جھوٹ کہتا ہے، اس صحیفہ میں زکوٰۃ کے اونٹوں کی عمروں اور کچھ قصاص کے مسائل کا تذکرہ ہے اور اس صحیفہ میں یہ بھی درج ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ مدینہ منورہ عیرسے ثور تک حرم ہے، جو آدمی اس میں کوئی بدعت نافذ کرے گا یا بدعتی کو پناہ دے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اللہ قیامت کے دن اس کی فرض اور نفل عبادت قبول نہیں کرے گا اور جو آدمی اپنے حقیقی باپ یا مالکوں کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت کرے گا، اس پر بھی اللہ کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی فرض اورنفل عبادت قبول نہیں کرے گا، تمام مسلمانوں کی پناہ ایک ہی ہے، جس کے متعلق ادنیٰ مسلمان بھی کوشش کرسکتا (یعنی کسی کو پناہ دے سکتا) ہے۔
حدیث نمبر: 12328
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَاللَّهِ مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ مُعَلَّقَةً بِسَيْفِهِ أَخَذْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ مُعَلَّقَةً بِسَيْفٍ لَهُ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ أَوْ قَالَ بَكَرَاتُهُ حَدِيدٌ أَيْ حَلَقُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
طارق بن شہاب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہ منبر پر کہہ رہے تھے: اللہ کی قسم! ہمارے پاس اللہ کی کتاب کے سوا کوئی کتاب یا تحریر نہیں، جو ہم تم لوگوں کے سامنے پڑھیں اور ایک یہ صحیفہ ہے، جو تلوار کے ساتھ معلق ہے، اس کے بارے میں انھوں نے کہا: یہ صحیفہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیا ہے، اس میں زکوٰۃ کے جانوروں کی عمروں کا بیان ہے، و ہ صحیفہ جس تلوار کے ساتھ معلق تھا ا س کے حلقے لوہے کے تھے۔
حدیث نمبر: 12329
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ مِنَ الْوَحْيِ أَوْ قَالَ كِتَابٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةِ الْمَقْرُونَةِ بِسَيْفِي وَعَلَيْهِ سَيْفٌ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ وَفِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) طارق بن شہاب کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں کہا: ہمارے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی تحریر یا وحی میں سے الگ کوئی چیز نہیں ہے،بس وہی کچھ ہے، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے اور اس صحیفے میں ہے، جو میری تلوار کے ساتھ ملا ہوا ہے، اس وقت ایک تلوار ان کے پاس تھی، جس کے حلقے لوہے کے تھے اور اس صحیفہ میں زکوٰۃ کے جانوروں کی عمروں کا بیان تھا۔
حدیث نمبر: 12330
عَنْ حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ضَحِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ لَمْ أَرَهُ ضَحِكَ ضَحِكًا أَكْثَرَ مِنْهُ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ ذَكَرْتُ قَوْلَ أَبِي طَالِبٍ ظَهَرَ عَلَيْنَا أَبُو طَالِبٍ وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُصَلِّي بِبَطْنِ نَخْلَةَ فَقَالَ مَاذَا تَصْنَعَانِ يَا ابْنَ أَخِي فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ مَا بِالَّذِي تَصْنَعَانِ بَأْسٌ أَوْ بِالَّذِي تَقُولَانِ بَأْسٌ وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَعْلُونِي إِسْتِي أَبَدًا وَضَحِكَ تَعَجُّبًا لِقَوْلِ أَبِيهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ لَا أَعْتَرِفُ أَنَّ عَبْدًا لَكَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَبَدَكَ قَبْلِي غَيْرَ نَبِيِّكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَقَدْ صَلَّيْتُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّاسُ سَبْعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حبہ عرنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ منبر پر خوب ہنسے، میں نے ان کو کبھی بھی اتنا ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا، آپ اس قدر زور سے ہنسے کہ آپ کی داڑھیں نمایاں ہوگئیں اور پھر کہا: مجھے ابو طالب کی بات یاد آئی ہے، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ وادیٔ نخلہ میں نماز ادا کر رہا تھا کہ ابو طالب آگئے، انہوں نے کہا:بھتیجے! تم دونوں کیا کر رہے ہو؟ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی، اس نے کہا: تم جو کام کر رہے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اللہ کی قسم! میری دبر مجھ سے اونچی کبھی نہ ہوگی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے والد کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے ہنسے تھے، اس کے بعد انہوں نے کہا: یا اللہ میں نہیں جانتا کہ اس امت میں تیرے نبی کے سوا مجھ سے قبل تیرے کسی بندے نے تیری عبادت کی ہو، یہ بات انہوں نے تین مرتبہ دہرائی، لوگوں کے نماز پڑھنے سے بہت پہلے میں نے نمازیں پڑھی ہیں، یہ بات آپ نے سات مرتبہ دہرائی۔1
! یا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے نماز پڑھنے سے پہلے میں نے سات دن نماز پڑھی ہے اس کے بعد دیگر لوگ مسلمان ہوئے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
! یا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے نماز پڑھنے سے پہلے میں نے سات دن نماز پڑھی ہے اس کے بعد دیگر لوگ مسلمان ہوئے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 12331
أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ الْمُزَنِيُّ حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ يَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلَى مَا فِي يَدَيْهِ قَالَ وَلَمْ يُؤْمَرْ بِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ} [البقرة: 237] وَيَنْهَدُ الْأَشْرَارُ وَيُسْتَذَلُّ الْأَخْيَارُ وَيُبَايِعُ الْمُضْطَرُّونَ قَالَ وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّينَ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بنو تمیم کے ایک بزرگ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: لوگوں پر ایسا سخت زمانہ بھی آئے گا کہ خوش حال لوگ اپنی چیزوں پر انتہائی بخل کریں گے، حالانکہ انہیں اس کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے: { وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ} … ، نیز انھوں نے کہا: اور برے لوگوں کی تکریم کی جائے گی، اچھے لوگوں کو ذلیل کیا جائے گا اور لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے خرید وفروخت کی جائے گی، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجبورکی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیع کرنے سے، دھوکے کی بیع کرنے سے اور پھلوں کے تیار ہونے سے قبل ان کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 12332
عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَةُ بَلَغَتْ مِيَاهَ بَنِي عَامِرٍ لَيْلًا نَبَحَتِ الْكِلَابُ قَالَتْ أَيُّ مَاءٍ هَذَا قَالُوا مَاءُ الْحَوْأَبِ قَالَتْ مَا أَظُنُّنِي إِلَّا أَنِّي رَاجِعَةٌ فَقَالَ بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعَهَا بَلْ تَقْدَمِينَ فَيَرَاكِ الْمُسْلِمُونَ فَيُصْلِحُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ذَاتَ بَيْنِهِمْ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ ”كَيْفَ بِإِحْدَاكُنَّ تَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قیس سے مروی ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (مدینہ منورہ سے بصرہ جاتے ہوئے) بنی عامر کے پانیوں تک پہنچیں تو کتے بھونکنے لگے، انہوں نے کہا: یہ کون سی جگہ ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ حوأب کے پانی کا مقام ہے، انھوں نے کہا: میرا خیال تو یہی ہے کہ میں واپس لوٹ جاؤں، لیکن ان کے بعض ہم سفروں نے کہا: اب آپ واپس نہ جائیں، بلکہ آگے بڑھیں، ممکن ہے کہ مسلمان آپ کو دیکھیں اور اللہ تعالیٰ ان کے مابین صلح کر ادے گا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز ہم سے فرمایا تھا کہ تم میں سے ایک کی اس وقت کیا حالت ہوگی، جب اس پرحوأب کے کتے بھونکیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے درج ذیل شاہد سے مفہوم کی وضاحت ہو جاتی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیویوں سے فرمایا: ((لَیْتَ شَعْرِیْ! أَیَّتُکُنَّ صَاحِبَۃُ الْجَمَلِ الْأَدْبَبِ، تَخْرُجُ فَیَنْبَحُھَا کِلَابُ الْحَوْأَبِ، یُقْتَلُ عَنْ یَمِیْنِھَا وََعْن یَسَارِھَا قَتْلٰی کَثِیْرٌ، ثُمَّ تَنْجُوْ بَعْدَ مَا کَادَتْ؟!)) … کاش مجھے پتہ چل جاتا! تم میں کون ہے، جو ایسے اونٹ پر سوار ہو گی، جس کے چہرے کے بال بہت زیادہ ہوں گے، وہ نکلے گی اور اس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے، اس کے دائیں اور بائیں جانب لوگوں کی کثیر تعداد کو قتل کر دیا جائے گا، وہ خود بال بال بچ جائے گی۔ (قال الالبانی: رواہ البزار فی کشف الاستار: ۴/ ۹۴/ ۳۲۷۳، ۳۲۷۴ ورجالہ ثقات کما قال الھیثمی فی مجمع الزوائد: ۷/۲۳۴، والحافظ فی فتح الباری: ۱۳/۴۵)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے متن میں کوئی اشکال نہیں ہے، بخلاف استاد سعید افغانی ہے۔
اس حدیث سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حوأب کا علم ہوا تو ان کو واپس چلا جانا چاہیے تھا، جب کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوٹی نہیں تھیں، اس چیز کو بھی ام المومنین کی طرف منسوب کرنا ان کے شایانِ شان نہیں ہے۔
ہمارا جواب یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ جامع الصفات اور باکمال آدمی سے وہی کچھ صادر ہو، جو اس کی ذات کو زیب دیتا ہو، کیونکہ معصوم وہی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ بچا کر رکھے۔ اہل السنّہ کو چاہیے کہ وہ محترم شخصیات کی شان میں غلوّ نہ کیا کریں، جیسا کہ شیعوں نے اپنے اماموں کے حق میں کیا اور انھیں معصوم قرار دیا۔
ہمار ا خیال ہے کہ اس قافلے کے ساتھ نکلنا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خطا تھی، اسی لیے جب ان کو حوأب کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد یاد آیا تو انھوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ کہتے ہوئے مطمئن کر دیا: ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے لوگوں میں صلح کروا دیں۔ … …۔ امام زیلعی (نصب الرایۃ: ۴/ ۶۹۔ ۷۰) میں کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (اس خطا) پر ندامت کا اظہار کیا تھا، جیسا کہ ابن عبد البر نے (کتاب الاستیعاب) میں روایت کی ہے کہ … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ابو عبد الرحمن! تو نے مجھے نکلنے سے روک کیوں نہیں لیا تھا؟ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ ابن زبیر آپ پر غالب آ گئے تھے۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم مجھے روک لیتے تو میں نہ جاتی۔
اس اثر کی ایک دوسری سند بھی ہے، جیسا کہ امام ذہبی نے (سیر اعلام النبلائ: صـ ۷۸۔ ۷۹) میں کہا: اور یہ بھی کہا کہ قیس نے کہا: پہلے پہل تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ خیال تھا کہ ان کو ان کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دفن کیا جائے گا، لیکن (جنگ ِ جمل کے بعد) انھوں نے کہا: میرے اس فعل (جرم) کی وجہ سے مجھے دوسری امہات المومنین کے ساتھ دفن کر دینا۔ پھر ان کو بقیع میں دفن کیا گیا۔ میں (قیس) کہتا ہوں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد جنگ ِ جمل والا واقعہ تھا، بعد میں ان کو اس پر بہت ندامت ہوئی تھی اور انھوں نے اس سے توبہ کی تھی۔ حالانکہ ان کا ارادہ خیر و بھلائی کا تھا، جیسا کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ، سیدنا زبیر بن عوام اور کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت نے اجتہاد کیا تھا، اللہ تعالیٰ سب سے راضی ہو جائے۔ (آمین)
امام بخاری اپنی صحیح میں بیان کرتے ہیں: ابو وائل نے کہا: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مدد مانگنے کے لیے سیدنا عمار اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ کی طرف بھیجا، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میںکہا: میں جانتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ دنیا میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی تھیں اور آخرت میں بھی ہوں گی، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتا کہ تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی پیروی کرتے ہو یا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا یہ خطبہ جنگ ِ جمل سے پہلے کا ہے، وہ لوگوں کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکلنے سے روکنا چاہتے تھے۔ (صحیحہ: ۴۷۴)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے متن میں کوئی اشکال نہیں ہے، بخلاف استاد سعید افغانی ہے۔
اس حدیث سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حوأب کا علم ہوا تو ان کو واپس چلا جانا چاہیے تھا، جب کہ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوٹی نہیں تھیں، اس چیز کو بھی ام المومنین کی طرف منسوب کرنا ان کے شایانِ شان نہیں ہے۔
ہمارا جواب یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ جامع الصفات اور باکمال آدمی سے وہی کچھ صادر ہو، جو اس کی ذات کو زیب دیتا ہو، کیونکہ معصوم وہی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ بچا کر رکھے۔ اہل السنّہ کو چاہیے کہ وہ محترم شخصیات کی شان میں غلوّ نہ کیا کریں، جیسا کہ شیعوں نے اپنے اماموں کے حق میں کیا اور انھیں معصوم قرار دیا۔
ہمار ا خیال ہے کہ اس قافلے کے ساتھ نکلنا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خطا تھی، اسی لیے جب ان کو حوأب کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد یاد آیا تو انھوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ کہتے ہوئے مطمئن کر دیا: ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے لوگوں میں صلح کروا دیں۔ … …۔ امام زیلعی (نصب الرایۃ: ۴/ ۶۹۔ ۷۰) میں کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (اس خطا) پر ندامت کا اظہار کیا تھا، جیسا کہ ابن عبد البر نے (کتاب الاستیعاب) میں روایت کی ہے کہ … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ابو عبد الرحمن! تو نے مجھے نکلنے سے روک کیوں نہیں لیا تھا؟ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ ابن زبیر آپ پر غالب آ گئے تھے۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم مجھے روک لیتے تو میں نہ جاتی۔
اس اثر کی ایک دوسری سند بھی ہے، جیسا کہ امام ذہبی نے (سیر اعلام النبلائ: صـ ۷۸۔ ۷۹) میں کہا: اور یہ بھی کہا کہ قیس نے کہا: پہلے پہل تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ خیال تھا کہ ان کو ان کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دفن کیا جائے گا، لیکن (جنگ ِ جمل کے بعد) انھوں نے کہا: میرے اس فعل (جرم) کی وجہ سے مجھے دوسری امہات المومنین کے ساتھ دفن کر دینا۔ پھر ان کو بقیع میں دفن کیا گیا۔ میں (قیس) کہتا ہوں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد جنگ ِ جمل والا واقعہ تھا، بعد میں ان کو اس پر بہت ندامت ہوئی تھی اور انھوں نے اس سے توبہ کی تھی۔ حالانکہ ان کا ارادہ خیر و بھلائی کا تھا، جیسا کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ، سیدنا زبیر بن عوام اور کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت نے اجتہاد کیا تھا، اللہ تعالیٰ سب سے راضی ہو جائے۔ (آمین)
امام بخاری اپنی صحیح میں بیان کرتے ہیں: ابو وائل نے کہا: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مدد مانگنے کے لیے سیدنا عمار اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ کی طرف بھیجا، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میںکہا: میں جانتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ دنیا میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی تھیں اور آخرت میں بھی ہوں گی، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتا کہ تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی پیروی کرتے ہو یا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا یہ خطبہ جنگ ِ جمل سے پہلے کا ہے، وہ لوگوں کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکلنے سے روکنا چاہتے تھے۔ (صحیحہ: ۴۷۴)
حدیث نمبر: 12333
عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ”إِنَّهُ سَيَكُونُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ عَائِشَةَ أَمْرٌ“ قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ أَنَا قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ فَأَنَا أَشْقَاهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”لَا وَلَكِنْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فَارْدُدْهَا إِلَى مَأْمَنِهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو رافع سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عنقریب تمہارے اورعائشہ رضی اللہ عنہا کے مابین جھگڑا ہو گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انھوں نے پھر کہا: اللہ کے رسول! کیا میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تب تو میں سب سے بڑھ کر بد نصیب ہوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ بات نہیں ہے، بس جب ایسی صورت حال پیدا ہوجائے تو عائشہ کو اس کی امن گاہ تک پہنچا دینا۔